Code : 1465 71 Hit

رمضان المبارک میں قرآن سے رابطہ کی کیفیت

قرآن سے مأنوس ہونے کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ قرآن کے الفاظ کو اپنی زبان پر جاری کیا جائے اور انہیں دہرایا جائے البتہ دھرانا اور زبان پر جاری کرنا قرآن سے مأنوس ہونے کا مقدمہ ضرور ہے۔ بلکہ قرآن سے مأنوس ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر لمحہ کو قرآن مجید کے ساتھ منطبق کریں اور اپنے کو قرآن کریم کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کریں یہی وہ مرحلہ ہے کہ جہاں قرآن سے انس حاصل ہونا شروع ہوجاتا ہے۔

ولایت پورٹل: رمضان المبارک کو قرآن مجید کی بہار کا مہینہ کہا جاتا ہے اسی وجہ سے اس مہینہ میں روزہ رکھنے علاوہ دوسرا اہم و با فضیلت کام قرآن مجید کی تلاوت کرنا ہے چنانچہ ہر جگہ اس مہینہ کے شروع ہوتے ہی ہر انسان اپنے طئے شدہ پروگرام کے تحت قرآن مجید کی تلاوت کرنا شروع کردیتا ہے اور روزانہ ایک پارہ قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے اور اس طرح لوگ رمضان المبارک کے اختتام تک پورا قرآن مجید ختم کرلیتے ہیں۔ اور بہت سے صاحبان توفیق اس مہینہ میں کئی کئی قرآن مجید ختم کردیتے ہیں۔
قارئین کرام! اس مختصر سے مضمون میں ہم اس چیز پر توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ روایات میں قرآن مجید کی طرف توجہ اور قرآن مجید سے انس حاصل کرنے کی بہت تأکید ہوئی ہے تو کیا وہ صرف رمضان المبارک سے مخصوص ہے؟ اور کیا صرف ایک مہینہ میں قرآن مجید سے مأنوس ہوا جاسکتا ہے؟اور رمضان المبارک میں کس مقدار میں قرآن مجید پڑھنے کی تأکید ہوئی ہے؟
کیا صرف ایک مہینہ قرآن مجید سے مأنوس ہونے کے لئے کافی ہے؟
قرآنیات کے ماہر اور ایران کے مشہور مفسر حجۃ الاسلام بہرام پور نے ایک چینل کو انٹریو دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قرآن مجید سے انس و تعلق کو صرف ماہ رمضان المبارک سے محدود نہیں کیا جاسکتا۔ان کا کہنا تھا کہ میری نظر میں قرآن مجید سے انس حاصل کرنے کی بحث پورے سال ہونا چاہیئے اور اس کام کو رمضان المبارک سے مخصوص کردینا علمی بحث نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہم صرف قرآن مجید سے مکمل ایک مہینہ مانوس رہیں اور باقی معارف و تعلیمات الہی کہ جو ہم نے سال کے ۱۱ مہینہ حاصل کی ہیں اس مہینہ میں ان سے لا تعلق ہوجائیں ۔اور ان سب چیزوں کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف قرآن پڑھا جائے۔ نہیں ایسا ہے اور ہمیں ایسا کرنا بھی نہیں چاہیئے کہ ہم اپنے گذشتہ ۱۱ مہینوں میں حاصل کیا گیا علم نہیں چھوڑ سکتے۔ لہذا ہمیں رمضان المبارک میں قرآن مجید سے مأنوس ہونے کو صحیح سے سمجھنا پڑے گا۔
اس کی سادہ سی مثال اس طرح سمجھئے کہ ہم ہر دن ۵ نمازیں پڑھنا ہیں اور ان نمازوں کے درمیان ایک معین فاصلہ پایا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نماز سے غافل نہ ہوں بلکہ ہر نماز کو اس کے معین وقت پر پڑھیں۔ یہی اللہ کا شریعت کا ہم سے تقاضہ ہے اسے ہی دین کی زبان میں انس کہتے ہیں۔یعنی ہم اپنی نماز سے مأنوس ہیں یعنی غافل نہیں ہیں۔ پس رمضان المبارک میں قرآن مجید سے انس کا مطلب قطعاً یہ نہیں ہے کہ ہم سال کے دیگر ۱۱ مہینوں میں قرآن کو غلاف میں لپیٹ کر طاق کی زینت بنادیں بلکہ یہ مہینہ ، یہ اللہ کی ضیافت کے ایام ،یہ رمضان المبارک کے نورانی لمحات درحقیقت،ورکشاپ و مشق کے ایام ہیں کہ ہم پورے ایک مہینہ روزہ رکھکر یہ مشق کریں کہ جس طرح ہم حرام غذا اس مہینہ میں نہیں کھاتے ویسے ہی ہم عہد کرتے ہیں کہ سال کے ۱۱ مہینہ بھی ان حرام و نجس غذاؤں کو ہاتھ نہیں لگائیں گے۔جس طرح ہر رمضان المبارک میں غیبت کرنے سے شدید گریز کرتے ہیں ویسے ہی ہم پورے سال غیبت کے نزدیک نہیں جائیں گے ۔پس رمضان قرآن مجید کی بہار کا مہینہ ہے یعنی ہم جس طرح زیادہ سے زیادہ قرآن مجید کی اہمیت کی طرف اس مہینہ میں متوجہ ہوئے ہیں ویسے ہی ہم پورا سال اس کتاب مقدس سے غافل نہیں ہونگے۔جس طرح ہم نے اپنے کو اس رمضان میں قرآن مجید سے قریب تر کیا ہے ویسے ہی سال کے دیگر مہینوں میں اس قربت میں مزید اضافہ ہی ہوگا۔ پس قرآن مجید کو رمضان میں تلاوت کرنے اور مانوس ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہم قرآن کے ساتھ زندگی گذاریں گے،قرآن کے سائے میں قافلہ حیات کو جاری رکھیں گے۔ اور یہ مقصد صرف باتیں بنانے سے نہیں بلکہ کام کرنے اور عمل کرنے سے حاصل ہوگا۔ اور قرآن سے مأنوس ہونے کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ قرآن کے الفاظ کو اپنی زبان پر جاری کیا جائے اور انہیں دہرایا جائے البتہ دھرانا اور زبان پر جاری کرنا قرآن سے مأنوس ہونے کا مقدمہ ضرور ہے۔ بلکہ قرآن سے مأنوس ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر لمحہ کو قرآن مجید کے ساتھ منطبق کریں اور اپنے کو قرآن کریم کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کریں یہی وہ مرحلہ ہے کہ جہاں قرآن سے انس حاصل ہونا شروع ہوجاتا ہے۔
ماہ رمضان،فصل اگانے اور تجدید حیات کا زمانہ
قارئین کرام! کیا آپ جانتے ہیں کہ رمضان المبارک کو بہار قرآن کیوں کہا جاتا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مہینہ دل کی زمین میں معنویت و روحانیت کا بیج بونے اور فصل اگانے کا مہینہ ہے تاکہ سال کے باقی دنوں میں اس کے پھل سے استفادہ کیا جاسکے۔ جیسا کہ ایک کسان بیج بونے کے وقت اناج زمین میں ڈالتا ہے اور جب کچھ مدت کے بعد وہ فصل تیار ہوجاتی ہے تو اسے پورے سال استعمال کرتا ہے اور اپنی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔اسی طرح رمضان المبارک بھی ایک بہار کا موسم ہے جس میں آپ اپنی معنویت کی کھیتی اگانے کے لئے بیج بورہے ہیں جس کے سبب آپ پورے سال اللہ سے منسلک رہ سکتے ہیں۔پس یہ مہینہ بہار کا مہینہ ہے اس میں انسان اپنے کو قرآن مجید کے دروازے تک پہونچا سکتا ہے تاکہ پورے سال اس منبع و سرچشمہ سے متصل رہے۔
ذکر اور تسبیح کے درمیان فرق
اس مہینہ میں زیادہ سے زیادہ یہ تأکید ہوئی ہے کہ ہم اللہ کے ذکر اور تسبیح میں مشغول رہیں البتہ ذکر اور تسبیح میں ایک بڑا فرق پایا جاتا ہے اور اگر ہم اسے ایک مثال سے اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ:’’ذکر اور تسبیح دونوں کا مطلب خدا کو یاد کرنا ہے لیکن فرق یہ ہے کہ اگر آپ ایسے پانی سے گذر رہے ہوں جس کی گہرائی ایک بالشت سے زیادہ نہ ہو تو آپ اس سے گذرتے وقت اپنے کپڑے اوپر اٹھا لیں گے چونکہ وہ  پانی آپ کے ٹخنے تک آئے گا یہ مثال کلمہ ‘‘ذکر ‘‘ کی بیان کی جاسکتی ہے لیکن جب آپ ایک عظیم اور پر طلاطم دریا سے ہوکر گذرنا چاہیں تو آپ کو دسیوں بار پانی کے نیچے جانا پڑے گا اور اپنے پورے وجود کو پانی میں ڈالنا ہوگا کبھی تیریں گے تو کبھی ہاتھ پیر ماریں گے ۔یہی مطلب ہے تسبیح کا۔ یعنی آپ ذکر میں تیریں تاکہ مقام تسبیح تک پہونچ جائیں۔
پس قرآن مجید سے مأنوس ہونے کے لئے بھی قرآن مجید سے گہرا تعلق رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ مقام انس تک پہونچا جاسکے اور اس کے لئے ضروری نہیں ہے کہ ہم اپنی زبان پر قرآن مجید کو دہرائیں  بلکہ مقام انس تک پہونچنے کے لے یہی کافی ہے کہ ہماری روز مرہ کی زندگی اور ہمارا ہر عمل، ہمارا کردار اور ہماری رفتار قرآن مجید کے مطابق ہو اور اس سے میل کھاتے ہوں تو ہم مقام انس تک پہونچ سکتے ہیں۔
لہذا اس پورے مہینہ میں قرآن مجید سے قریب آنے کے لئے ہمیں منظم طور پر پروگرامنگ کرنا ہوگی مثال کے طور پر ہم گھر سے کام پر نکلے بس میں بیٹھے سفر کررہے ہیں میٹرو میں ہیں ، اسکول جارہے ہیں یا یونیورسٹی ،ہم راستہ میں قرآن مجید کے ان سوروں کو پڑھنے کو اپنا معمول بنا سکتے ہیں جو ہمیں یاد ہیں مثال کے طور پر سورہ حمد،توحید، ناس، وغیرہ وغیرہ ۔اگرچہ یہ بہت معمولی سا کام ہے لیکن یہ انسان کا قرآن مجید سے قریب ہونے اور اس سے مأنوس ہونے کا بہترین سبب قرار پاسکتا ہے اور اس سے انسان کی نورانیت میں اضافہ ہوسکتا ہے:’’ قَدْ جاءَکُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَ کِتابٌ مُبینٌ‘‘۔اور ہم اپنے ساتھ پوکٹ سائز میں قرآن مجید کا ایک نسخہ بھی رکھ سکتے ہیں کہ جب بھی ہمیں فرصت ملے ہم قرآن مجید کی تلاوت کرسکیں۔  
رمضان المبارک میں قرآن پڑھنے کا سب سے اچھا وقت
ویسے تو ہر انسان رمضان المبارک میں قرآن مجید پڑھنے کے لئے اپنے حساب سے مناسب وقت کا انتخاب کرتا ہے لیکن ہماری نظر میں قرآن مجید پڑھنے کا سب سے اہم وقت سحر ہے ۔جیسا کہ مؤمنین مطلع ہیں کہ روزہ کے مستحبات میں سے ایک سحری کھانا بھی ہے لہذا قرآن مجید کا کچھ حصہ سحری کھانے سے  پہلے اور کچھ حصہ سحری کھانے کے بعد پڑھا جائے تو بہتر ہے۔ بہرحال ہر انسان اپنی سہولت کے حساب سے اپنے لئے بہتر و مناسب وقت کا انتخاب کرسکتا ہے لہذا اسے جب جتنی توفیق ہو وہ آیات میں غور کرتے ہوئے تلاوت کا شرف حاصل کرے۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम