Code : 589 63 Hit

مغرب میں فیمنزم کا خاتمہ یا اسلام کا آغاز؟

آج بھی مغربی ممالک میں بہت سی خواتین کہ جو مسلمان نہیں لیکن وہ پردہ کی طرف مائل ہورہی ہیں۔بس مسلم خواتین کو، تھوڑی ہمت سے یہ دنیا کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ پردے سے محدودیت ایجاد نہیں ہوتی بلکہ پردہ آپ کی شخصیت کو مزید وقار اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔جس تیزی سے مغربی عورتیں کہ جو برس ہا برس سے استعماری پنجوں میں مصنوعی ترقی کے کھوکھلے نعروں کی زد میں ہیں جب انہیں اسلام کا صحیح تعارف کروایا جائے گا تو یقیناً قلعہ اسلام میں چلی آئیں گی۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! یوں تو دنیا میں عورت پر ظلم کی داستان بہت پرانی ہے۔کبھی چین کی تہذیب سے کسی عورت کے سسکنے کی آوازیں آرہی ہیں تو کہیں کسی چتا کے بھڑکتے ہوئے شعلوں میں ایک خاتون کو اس کے شوہر کی موت کے بعد ستی کرینے کی دلخراش چیخوں سے انسانیت کا کلیجہ اس کے منھ کو آنے کو ہے۔کہیں جھوٹی شأن و افتخار کے چکر میں اپنے جگر کے ٹکڑوں کو زندہ در گور کردینے کی صدائیں ہیں غرض آپ ماضی کی جس تہذیب کو بھی اٹھا کر دیکھئے اس کی عمارت پر کسی نہ کسی مظلوم  عورت کے خون کے چھنٹے دیکھنے کو مل جائیں گے۔
اگرچہ آج دنیا نے بہت ترقی کر لی ہے اور ساتھ ہی فیمنزم (تحریک نسواں ) کے بڑے بڑے دعوئے کرنے والے عورت کو ترقی کا جھانسا دیے کر سر بازار تو لے آئے ہیں اور مارکیٹ میں موجود آدھی دکانوں پر خواتین کے ذمہ تجارتی امور سونپ کر اپنے کو عالمی پیمانہ پر حقوق نسواں کے داعی کہلا کر داد بٹورنے میں مصروف ہوگئے ہیں لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ خواتین پر ظلم کا سلسلہ ابھی بھی رکا نہیں ہے بس اس کے طریقے اور سلیقے بدلے ہیں ورنہ دنیا کے استعمار و سامراج کا مقصد وہی پرانا ہے۔الفاظ بدل گئے ہیں قرینے قدیم ہیں۔
اب آئیے بات کرتے ہیں مغربی ممالک اور ان میں بھی سر فہرست امریکہ ،برطانیہ، فرانس اور کنیڈا کی۔ یہ وہ ممالک ہیں جنہوں نے ہمیشہ سے اسلام کے خلاف زہر افشانی کو وطیرہ بنا رکھا ہے اور اسلام فوبیا کے ذریعہ لوگوں اور خاص طور پر خواتین کو بد ظن کرنے کی ہر روز نئی نئی سازشیں کرتے ہیں اور ان کے یہاں برقعہ پہنے کسی خاتون کو تو بہت ہی تعصب کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے اور خاص کر ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ کے بعد مغرب میں مسلمان خواتین کو ان کے لباس اور اسلامی تہذیب کے اپنانے پر بڑے دکھ اٹھانے پڑے ہیں اور دوسرے الفاظ میں ایسا کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ برقعہ اور حجاب کو’’ نسوانی دہشت گردی‘‘ سے تعبیر کیا جاتا رہا ہے۔
چنانچہ بگلہ دیش کی رہنے والی ایک طالبہ(نجمہ خان) پر جب اہانتوں کی بوچھار ہوئی انہوں نے ہمت نہیں ہاری بلکہ مزید مستحکم انداز میں اپنے لباس اور تہذیب کی پابندی کو ایک شعار بنا کر مغرب میں ایک تحریک کا آغاز کردیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں ہر سال یکم فروری کو حجاب کے عالمی دن کے طور پر منایا جانے لگا۔
مغربی ممالک میں ایک مسلمان خاتون کے لئے اس کی مذہبی و ملی شناخت بہت اہم ہے اس کا لباس اس کی تہذیب مغربی ممالک کے لوگوں کو چھبتی ہے لیکن ان اسلام کی بیٹیوں نے وہ کردار ادا کیا اور اپنے حجاب کی اتنی شدید پابندی کی کہ آج مغرب میں رہنے والی وہاں کی مقامی خواتین بھی حجاب کو اپنی حفاظت کی سب سے بڑی چار دیواری سمجھنے لگی ہیں۔
اور یکم فروی یعنی حجاب کا عالمی دن اس وجہ سے بھی اہم ہے کہ اس دن مسلمان خواتین کو میدان عمل میں رہنا چاہیئے تو وہ دنیا میں غیر مسلم خواتین کو بھی اسلام کے اس حصار عظمت میں آنے کی دعوت دے سکتی ہیں۔
اور آج بھی مغربی ممالک میں بہت سی خواتین کہ جو مسلمان نہیں لیکن وہ پردہ کی طرف مائل ہورہی ہیں۔بس مسلم خواتین کو، تھوڑی ہمت سے یہ دنیا کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ پردے سے محدودیت ایجاد نہیں ہوتی بلکہ پردہ آپ کی شخصیت کو مزید وقار اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔جس تیزی سے مغربی عورتیں کہ جو برس ہا برس سے استعماری پنجوں میں مصنوعی ترقی کے کھوکھلے  نعروں کی زد میں ہیں جب انہیں اسلام کا صحیح تعارف کروایا جائے گا تو یقیناً قلعہ اسلام میں چلی آئیں گی۔ اس کا آغاز ہوچکا ہے بس کچھ مزید محنت کرنے کی ضرورت ہے آج مغرب کے لوگوں میں اسلام کو سمجھنے اور عمل کرنے کا اشتیاق ہے لیکن ان تک پیغام رسانی میں ہم لوگ کمزور ہیں لہذا ہمیں اس ضعف کو دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम