Code : 2281 89 Hit

بدعتوں کے خلاف امام حسین(ع) کا قیام

آج کربلا ہم سے پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ ہم اپنی عزاداری،ماتم داری کے ساتھ ساتھ معاشرے سے بدعتوں کو دور کرنے کی بھی کوشش کریں اور ہر گز کسی موقع پرست یا ابن الوقت کو یہ فرصت اور موقع فراہم نہ کریں کہ وہ دین میں بدعت ایجاد کرکے اپنی روٹیاں سیکے۔

ولایت پورٹل: بنی امیہ جب سے خلافت کو غصب کرکے مسند پر بیٹھے تھے انہوں نے دین میں بہت سی بدعتوں کو ایجاد کردیا تھا اور ان کے مقابل رسول اللہ(ص) کی سنتوں کو محو کردیا تھا۔ چونکہ ان کی حیات کا دارو مدار بدعتوں کے ایجاد و زندہ رکھنے اور سنتوں کو نابود کرنے میں ہی تھا لہذا بنی امیہ کی جانب سے دین میں بدعتیں ایجاد کرنے کی ایک طویل فہرست ہے ہم اختصار کے ساتھ صرف چند ایک کا ذیل میں تذکرہ کررہے ہیں:
1۔کثرت اولاد و ثروت کو معیار ماننا: جس طرح عصر جاہلیت اور طلوع اسلام سے پہلے عرب میں کسی بھی فرد کی اہمیت اور کسی بھی شخصیت کا وقار اس کے یہاں اولاد و مال کی کثرت کی بنیاد پر ہوتا تھا ویسے ہی بنی امیہ نے جاہلیت کے رسم و رواج کو دوبارہ زندہ کردیا تھا جبکہ  قرآن مجید نے جاہلیت کے اس معیار برتری کو ختم کرکے ایک الہی معیار قائم کیا تھا:’’وَمَا أَمْوَالُکُمْ وَلاَ أَوْلاَدُکُمْ بِالَّتِی تُقَرِّبُکُمْ عِنْدَنَا زُلْفَی إِلاَّ مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحاً فَأُوْلَئِکَ لَهُمْ جَزَاءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوا وَهُمْ فِی الْغُرُفَاتِ آمِنُونَ‘‘۔(سورہ سبأ:37)
اور تمہارے مال اور تمہاری اولاد (کوئی ایسی چیز نہیں ہیں) جو تمہیں ہمارا مقرب بارگاہ بنائیں مگر وہ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے (اسے ہمارا قرب حاصل ہوگا) ایسے لوگوں کیلئے ان کے عمل کی دوگنی جزا ہے اور وہ بہشت کے اونچے اونچے درجوں میں امن و اطمینان سے رہیں گے۔
نیز اسی طرح سورہ حجرات کی 13 ویں آیت:’’إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَاکُمْ‘‘۔اللہ کے نزدیک تم میں سب سے  مکرم اور صاحب عزت زیادہ تقویٰ انسان ہے۔
لہذا دین نے فخر و مباہات کا معیار بدل کر تقویٰ ، ایمان اور عمل صالح قرار دیدیا ہے یعنی جس کا تقویٰ زیادہ ہوگا وہ اللہ سے زیادہ نزدیک ہوگا چاہے اس کے پاس کوئی اولاد بھی نہ ہو اور وہ دنیا کا سب سے تنگدست انسان ہی کیوں نہ ہو۔ اور جس کے پاس کم تقویٰ ہے یا بالکل تقویٰ نہیں ہے وہ اللہ سے دور ہے چاہے اس کے پاس اولاد و اموال کی کتنی ہی کثرت کیوں نہ ہو۔
جب یہ معیار بدلا تو ابوسفیان،ابولہب اور ابوجہل  جیسوں کی جگہ سلمان، ابوذر، عمار اور مقداد جیسے لوگوں نے لے لی جس کے سبب اب لوگ کسی مال دار کو دیکھ کر اس کی عزت نہیں کرتے تھے بلکہ ایمان و تقویٰ دیکھ کر احترام کیا جاتا تھا۔
لیکن جیسے ہی رسول اللہ(ص) کی آنکھیں بند ہوئیں اور خلیفہ سوم کے ہاتھوں حالات بدلے اور بدلحاظ اور برے لوگوں نے متقی لوگوں کا مقام لے لیا اور معاویہ کے دور تک پہونچتے پہونچتے اب اسلامی حکومت کے عہدے بنی امیہ کے لوگوں تک پہونچے کہ جن میں تقویٰ اور ایمان کے کوئی آثار نہیں تھے جو طلقاء اور ابن طلقاء تھے جنہوں نے دین کو قلبی طور پر قبول نہیں کیا تھا۔(1) نیز جنگ صفین میں رسول اللہ (ص) کے اصحاب کی ایک کثیر تعداد موجود تھی اور صرف صحابہ میں سے کچھ ہی لوگ تھے کہ جن میں تقویٰ نہیں تھا وہ معاویہ کے لشکر میں اس کے ساتھ تھے۔(2)
بنی امیہ کا پورا سسٹم حب دنیا اور شیطنت پر مبنی تھا اور ان کے یہاں شقی القلب لوگ جمع تھے جو چند سکوں کے عوض دین کو فروخت کرلیا کرتے تھے چنانچہ امام حسین(ع) نے بدعتوں کے ختم کرنے اور سنتوں کو زندہ کرنے کے لئے قیام کیا۔ اور لوگوں کو سنتوں کا آئنہ دکھایا۔
2۔جس طرح دور جاہلیت میں قومی تعصب کا بول بالا تھا اسی طرح امام حسین(ع) کے زمانے میں بھی قومی عناد و تعصب اپنے عروج پر پہونچ چکا تھا جس طرح دور جاہلیت میں عرب و عجم اور گورے کالے کا فرق اور خاندان و قبیلوں نیز رنگ و نسل کا امتیاز تھا اور حد تو یہ تھی کہ ایک قبیلہ اپنے زندوں پر فخر و مباہات کرتے ہوئے جب تھک جاتا تھا تو پھر قبرستان کا رخ کرتا اور مردوں کو گننا شروع کردیتا تھا اور ان سب کو جوڑ کر اپنی تعداد کو اضافہ کے ساتھ بتلاتا تھا۔(3) لیکن اسلام نے ان مصنوعی اور جعلی معیارات کو ختم کرکے اس کی جگہ یہ معیار دیا:’’وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِی آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِّنَ الطَّیِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَی کَثِیر مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیلا‘‘۔(سورہ اسراء:70)
ترجمہ: بے شک ہم نے اولادِ آدم کو بڑی عزت و بزرگی دی ہے اور ہم نے انہیں خشکی اور تری میں سوار کیا (سواریاں دیں) پاک و پاکیزہ چیزوں سے روزی دی اور انہیں اپنی مخلوقات پر (جو بہت ہیں) فضیلت دی۔
ہاں! اسلام کے آنے سے قبیلہ کی جگہ فرد نے لے لی اور آپ کی صف میں عرب، عجم، گورے کالے کے درمیان کوئی فرق نہیں رہا لیکن سرکار کے وصال کے بعد یہ سنت حسنہ ختم ہوتی گئی اور تیسری خلافت کا زمانہ پہونچتے پہونچتے پھر وہی جاہلی اقدار زندہ ہونے لگیں جو قبل طلوع اسلام معاشرے میں موجود تھیں۔(4) لہذا امام حسین(ع) نے اس قومی تعصب کو ختم کیا اور اسلام کی اس سنت حسنہ کا احیاء کیا جو آپ کے نانا کے زمانے میں تھی اور آپ نے اس وجہ سے قیام کیا تاکہ امت میں اتحاد و اتفاق باقی رہے۔ اسی وجہ سے آپ اپنے ساتھ کربلا میں میں جہاں عرب کے بہت سے اشراف کو لائے وہیں کچھ غلام بھی تھے جنہوں نے دین کی راہ میں قربانی دی لہذا امام حسین(ع) نے واضح کردیا کہ اللہ کا دین ہم سے یہی تقاضہ کرتا ہے کہ ہم سب مسلمان آپس میں مل کر رہیں۔
غرض امام حسین علیہ السلام نے ایسی ہی بدعتوں کے خلاف قیام کیا اور لوگوں کو رسول اللہ(ص) کی ان سنتوں سے آشنا کیا جو اسلامی معاشرہ میں مردہ ہو چکی تھیں۔
آج کربلا ہم سے پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ ہم اپنی عزاداری،ماتم داری کے ساتھ ساتھ معاشرے سے بدعتوں کو دور کرنے کی بھی کوشش کریں اور ہر گز کسی موقع پرست یا ابن الوقت کو یہ فرصت اور موقع فراہم نہ کریں کہ وہ دین میں بدعت ایجاد کرکے اپنی روٹیاں سیکے۔
اور اگر ہم کسی بدعت گذار کے سامنے خاموش ہوئے یا ہم نے سکوت اختیار کیا تو وہ دین کے نام پر ایسی شرم آور بدعتیں ایجاد کردے گا جن کا خمیازہ ہماری آئندہ نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔عاشورا، ص 120۔
2۔پیام امام امیرالمؤمنین (علیه السلام)، ج 7، ص 83۔
3۔ تفسیر نمونه، ج27، ص 275۔
(4). جرج جرداق در کتاب الامام علی صوت العدالة الانسانیة، ج 1، ص 124 ۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम