Code : 1577 79 Hit

آیت اللہ خامنہ ای کی نظر میں انسانی سماج کو لاحق دو بڑے خطرے

افراد معاشرہ کو ہمیشہ دو چیزوں سے نقصان پہنچتا ہے، پہلی چیز اندرونی بے لگام ہوس، بے ایمانی اور بے مہار و تباہ کن خصائل ہیں اور دوسری چیز وہ بیرونی دشمن ہیں جو ظلم و جور، زیادہ پسندی کی لالچ رکھنے والے،طغیانی وجارحیت اور دشمنی وغیرہ کے ذریعہ قوموں کی زندگی اجیرن کردیتے ہیں اور جنگ و جدال، ظلم و ستم اور زور زبردستی کے ذریعہ آدمیت کے لئے بلائے جان بن جاتے ہیں۔

ولایت پورٹل: افراد معاشرہ کو ہمیشہ دو چیزوں سے نقصان پہنچتا ہے، پہلی چیز اندرونی بے لگام ہوس، بے ایمانی اور بے مہار و تباہ کن خصائل ہیں اور دوسری چیز وہ بیرونی دشمن ہیں جو ظلم و جور، زیادہ پسندی کی لالچ رکھنے والے،طغیانی وجارحیت اور دشمنی وغیرہ کے ذریعہ قوموں کی زندگی اجیرن کردیتے ہیں اور جنگ و جدال، ظلم و ستم اور زور زبردستی کے ذریعہ آدمیت کے لئے بلائے جان بن جاتے ہیں۔
اسلامی ماحول، چاہے انفرادی ہو یا اجتماعی دونوں پر ان چیزوں کا خطرہ رہتا ہے بلکہ آج تو پہلے سے زیادہ اس خطرے کا احساس کیا جارہا ہے۔اسلامی ملکوں میں جان بوجھ کر بدعنوانی کی ترویج نیز مغربی ثقافت کو مسلط کرنا کہ جس کی بعض وابستہ حکومتوں کی جانب سے امداد بھی کی جاتی ہے کہ جس کا دائرہ انفرادی طرز سلوک، شہرسازی ،عمومی زندگی کے ماحول اور مطبوعات وغیرہ تک پھیلا ہوا ہے۔ دوسری طرف بعض مسلمان قوموں پر فوجی، سیاسی اور اقتصادی دباؤ اور لبنان، فلسطین، بوسنیا، کشمیر، چچینا اور افغانستان وغیرہ میں قتل وغارت گری کا عمل اسلامی ماحول پر ان دونوں طرح کے لاحق ہونے والے خطرات کا ثبوت ہے۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम