Code : 1587 24 Hit

جو عبادت عبد نہ بنا سکے وہ بے معنٰی ہے

فکر عبودیت یعنی اللہ کا بندہ و عبد محض ہونا کسی بھی صالح معاشرے کی بنیاد ہے اور اگر کسی معاشرے میں یہ تفکر حاکم نہ ہو اور انسان کی عبادتیں اللہ کے بندہ محض ہونے پر منتھی نہ ہوں اور انسان رات دن عبادت کرنے کے باوجود بھی اللہ کا بندہ محض نہ بن سکے تو پھر اس کی عبادتیں ثمر آور و نتیجہ آور نہیں ہوسکتیں۔چونکہ عبادتوں کو شریعت میں اسی وجہ سے رکھا گیا ہے کہ انسان اللہ سے قریب ہوسکے اور اس کا بندہ محض بن سکے۔

ولایت پورٹل: عبودیت و بندگی ایک ایسا جوہر اگر انسان اسے پالے تو وہ اپنے رب تک پہونچ جاتا ہے:’’ العبودیّة جوهرة کنهها الرّبوبیّة‘‘۔‘‘۔(حدیث قدسی)
فکر عبودیت یعنی اللہ کا بندہ و عبد محض ہونا کسی بھی صالح معاشرے کی بنیاد ہے اور اگر کسی معاشرے میں یہ تفکر حاکم نہ ہو اور انسان کی عبادتیں اللہ کے بندہ محض ہونے پر منتھی نہ ہوں اور انسان رات دن عبادت کرنے کے باوجود بھی اللہ کا بندہ محض نہ بن سکے تو پھر اس کی عبادتیں ثمر آور و نتیجہ آور نہیں ہوسکتیں۔چونکہ عبادتوں کو شریعت میں اسی وجہ سے رکھا گیا ہے کہ انسان اللہ سے قریب ہوسکے اور اس کا بندہ محض بن سکے۔
اور بقول آیت اللہ حسن زادہ آملی: کثرت عبادت کبھی کبھی انسان کو مغرور بنا دیتی ہیں۔ جس طرح شیطان نے 6 ہزار برس اللہ کی عبادت کی لیکن وہ اپنے جوہر عبودیت کو نہ پہچان سکا آخرکار اسے مردود ہوکر بارگاہ الہی سے نکلنا پڑا۔پس عبادت اس وجہ سے کیجئے کہ آپ اللہ کے عبد محض بن سکیں۔
قارئین کرام! جوہر عبودیت کے حصول میں اربعین(40) کا عدد بہت اہمیت کا حامل ہے۔اگر کوئی شخص 40 دن تک مسلسل کوئی عمل کرے اس کا اپنا خاص اثر ہوتا ہے جیسا کہ احادیث میں ملتا ہے:’’ من أخلص العبادة لله أربعين صباحا ظهرت ينابيع الحكمة من قلبه على لسانه‘‘۔جو شخص چالیس دن خلوص کے ساتھ اللہ کی عبادت کرے تو حکمت کے چشمے اس کے دل سے پھوٹ کر زبان پر جاری ہوجاتے ہیں۔
یا اگر ہم قرآن مجید کی آیات میں غور کریں تو حضرت موسٰی علیہ السلام کا واقعہ اس کا سب سے بڑا شاہد ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:’’وَإِذْ وَاعَدْنَا مُوسَىٰ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ‘‘۔(سورہ بقرہ:51) اور ہم نے موسٰی علیہ السّلام سے چالیس راتوں کا وعدہ لیا۔
یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ موسٰی بھی ہوں تو آپ کو ’’اربعین‘‘ کی ضرورت پڑے گی۔ جبکہ لوگوں کا عام رجحان یہی ہے کہ وہ اللہ سے ہر چیز میں کثرت کے طلبگار ہیں۔مال میں کثرت، اولاد میں کثرت،کاروبار میں وسعت،لیکن جب عبادت و بندگی کا مرحلہ آتا ہے اس میں کثرت کو اکثر فراموش کردیا جاتا ہے۔ جبکہ ہم اگر معنویت کے اعلٰی مراحل تک پہونچنا چاہیں تو ہمیں ناگزیر اربعین(40) کے عدد پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔
حضرت موسٰی علیہ السلام اللہ کے منتخب رسول اور اولعزم پیغمبر تھے لیکن توریت حاصل کرنے کے واسطے انہیں لوگوں سے جدا ہوکر 40 دن رات بندگی کرنا پڑی اور اپنے جوہر عبودیت کو نکھارنا پڑا ۔خود سرکار رسالتمآب(ص) نے آیات الہی کو دریافت کرنے کے لئے مسلسل 40 برس آمادگی و تیاری کی۔اس کا مطلب تو صاف ہے کہ اللہ کا کوئی منصب یا اس کی طرف سے کوئی بھی ذمہ داری بغیر محنت،مشقت اور ریاضت کے نصیب نہیں ہوتی۔
قارئین کرام! آپ نے اکثر مطالعہ کیا ہوگا کہ حدیث میں ایک لمحہ فکر کرنے کو 70 برس کی عبادت جیسا یا اس سے بھی افضل بتلایا گیا ہے۔واقعاً ایسا ہی ہے۔ چونکہ ایک کارساز لمحہ پوری پوری زندگی سے کہیں بہتر ہوتا ہے جس کے سبب انسان کی پوری زندگی ہی بدل جاتی ہے۔دوسرے یہ کہ ہر فکر کرنا 70 سال کی عبادت کے برابر نہیں ہوتی بلکہ وہ فکر سے معمور ایک لمحہ 70 سال کی عبادت جیسا یا اس سے افضل ہوتا ہے جس کا انجام عبودیت اور اللہ کے بندہ محض بننے پر منتہی ہو۔اور اگر انسان 70 برس بھی فکر کرتا رہے اور وہ ساحل عبودیت تک نہ پہونچے تو اس کی یہ پوری زندگی بے کار ہے۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम