Code : 1608 64 Hit

امام جعفر صادق(ع) کے دور کی مشکلات

امام باقر(ع) کی شہادت ہوئی تو امام جعفر صادق(ع) کے مدرسہ کی وسعتوں نے مکہ، مدینہ اور کوفہ کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا تھا۔یہ زمانہ بلادِ اسلامیہ میں فتنوں اور لڑائیوں کا زمانہ تھا۔ حکام میں باہمی اختلافات ارکان حکومت کو متزلزل بنائے ہوئے تھے۔ عوام اموی سلطنت کی کھلم کھلا مخالفت کررہے تھے۔ سیاسی جماعتیں سازشوں میں مصروف تھیں اور عمائد سلطنت چین کی نیند سورہے تھے، انھیں نہ عوام کی فلاح و بہبود کا خیال تھا اور نہ اپنی صلاح و بقا کا، سیاست اور اقتصاد کے بگڑے ہوئے حالات ہر طبقہ کو بدظن بنائے ہوئے تھے۔ ایک کے بعد ایک آنے والا حاکم مزید مشکلات پیدا کررہا تھا اور پوری سلطنت ایسے طریق کار کے سوچنے پر مجبور ہورہی تھی جس سے امت کو اس بلائے عام سے نجات دلائی جاسکے۔

ولایت پورٹل: امام  جعفر صادق(ع) کا دور حیات سن 83 سے 148 ہجری تک یعنی عبدالملک بن مروان کی خلافت کے آخر سے منصور کی خلافت کے وسط تک ہے۔اس دور میں آپ(ع) نے بنی امیہ کا کافی دور حکومت دیکھا ہے۔ ان کے حکام کے مظالم اور عوام کے ساتھ ان کا برتاؤ دیکھا ہے۔ بارہ سال کی عمر تک اپنے جد بزرگوار امام زین العابدین(ع) کے ساتھ رہے۔12 سال سے 32سال تک امام باقر(ع) کے زیر سایہ زندگی گذاری۔ دونوں کی وراثت، دونوں کا سایۂ عاطفت اور دونوں کا مقدس ماحول پانے کے بعد 114 سے آپ نے اپنے کمالات کا مظاہرہ شروع کیا۔
امام باقر(ع) کی شہادت ہوئی تو امام جعفر صادق(ع) کے مدرسہ کی وسعتوں نے مکہ، مدینہ اور کوفہ کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا تھا۔یہ زمانہ بلادِ اسلامیہ میں فتنوں اور لڑائیوں کا زمانہ تھا۔ حکام میں باہمی اختلافات ارکان حکومت کو متزلزل بنائے ہوئے تھے۔ عوام اموی سلطنت کی کھلم کھلا مخالفت کررہے تھے۔ سیاسی جماعتیں سازشوں میں مصروف تھیں اور عمائد سلطنت چین کی نیند سورہے تھے، انھیں نہ عوام کی فلاح و بہبود کا خیال تھا اور نہ اپنی صلاح و بقا کا، سیاست اور اقتصاد کے بگڑے ہوئے حالات ہر طبقہ کو بدظن بنائے ہوئے تھے۔ ایک کے بعد ایک آنے والا حاکم مزید مشکلات پیدا کررہا تھا اور پوری سلطنت ایسے طریق کار کے سوچنے پر مجبور ہورہی تھی جس سے امت کو اس بلائے عام سے نجات دلائی جاسکے۔
اقتصادی کشمکش عوام کو اور بھی پریشان کئے ہوئے تھی، حکام زیادہ سے زیادہ خراج وصول کرنے کے خواہاں تھے اور عوام کے ساتھ برے سے برے سلوک کو روا سمجھتے تھے، عالم یہ تھا کہ فصل سے پہلے پھلوں کی قیمت لگا کر اپنی ہی قیمت سے سارے پھل خرید لئے جاتے تھے اور بازار کے بھائو سے کوئی تعلق نہ تھا۔
ناجائز طریقہ سے جزیہ طلب کیا جاتا تھا، حد یہ ہے کہ عبدالعزیز بن مروان نے راہبوں تک سے جزیہ وصول کرلیا تھا اور پھر صنعت و حرفت، انشاء و کتابت وغیرہ پر بھی ٹیکس لگائے جارہے تھے۔
ادھر امیر شام معاویہ نے ساسانی حکومت کے طریقہ کو زندہ کرکے نوروز کے دن ہدیہ و تحفہ وصول کرنا شروع کردیا تھا اور ایک سال کے تحفہ میں ایک کروڑ 30 لاکھ درہم وصول کرلئے تھے۔
ہرات کے دہقان خراسانی نے اسد بن عبداللہ قسری عامل ہشام کی خدمت میں  119 میں 10 لاکھ درہم پیش کئے۔
سن 120 میں والیٔ ہرات نے دہقان کے ساتھ آکر سونے چاندی کے مختلف ظروف اور ریشم و حریر کے متعدد کپڑے نذر کئے۔
عبدالملک بن مروان نے جزیرہ کے گورنر کو فرمان بھیجا کہ ملک کے ہر شخص کو مزدور فرض کرکے اس کی سالانہ آمدنی کا حساب کرکے اس کی کھانے پینے اور پہننے کی ضرورت بھر چیزوں کو نکال کر باقی اس سے وصول کرلیا جائے۔ چنانچہ ہر شخص پر 4 دینار ٹیکس لگا دیا گیا۔
یمن کے گورنر محمد بن یوسف نے ملک کے تمام اموال پر قبضہ کرکے خراج کے علاوہ نئے نئے ٹیکس لگا دیئے۔
اسامہ بن زید،سلیمان بن عبدالملک کے پاس خراج جمع کرنے کے لئے آیا تو اس نے عرض کی۔ اے امیر یہ مال اس انداز سے جمع ہوا ہے کہ رعایا بالکل بے دم ہوگئی ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ آپ خراج کے بارے میں کچھ تخفیف کردیں تاکہ شہر آباد ہوں اور رعایا خوشحال ہو۔
سلیمان نے جواب دیا کہ تیری ماں تیرے ماتم میں بیٹھے۔ جا اور جاکر پہلے دودھ دوہ لے اور جب دودھ ختم ہوجائے تو خون ہی جمع کر۔
یہی وہ ہمت شکن حالات تھے جن سے ساری رعایا مضطرب تھی، حکام وقت کا کام ٹیکس پرٹیکس عائد کرنا تھا چاہے ملک تباہ ہو یا رعایا برباد، گورنروں کا فرض تھا کہ ہر ممکن شدت سے عائد شدہ ٹیکس وصول کریں اس لئے کہ انعام کے امکانات بھی قوی تھے۔ چنانچہ تاریخ شاہد ہے کہ والیٔ خراسان کو ٹیکس میں سے دس لاکھ درہم انعام میں دے دیئے گئے تھے۔
یزید بن معاویہ نے عبدالرحمان بن زیادوالیٔ خراسان کو 20 ہزار نقد اوراس سے زیادہ کا مال دے دیا اور اس طرح اس کے مال کا یہ عالم ہوگیا کہ ایک دن اپنے کاتب سے کہنے لگا کہ ’’مجھے حیرت ہوتی ہے کہ اتنا مال گھر میں رکھ کر کس طرح سوتا ہوں۔‘‘کاتب نے سوال کیا کہ حضور کا مال کتنا ہوگا؟
عبدالرحمن نے کہا بازار سے کوئی ضروری چیز خریدے بغیر ہزار درہم روز کے حساب سے سو سال تک کھا سکتا ہوں۔
کاتب نے عرض کی’’خدا آپ کو نیند نصیب کرے۔ آج کا سونا تعجب خیز نہیں ہے حیرت تو اس وقت کی نیند پر ہوگی جب یہ مال نہ رہ جائے گا‘‘۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ کچھ خیانت کی نذر ہوا، کچھ غصب ہوا اور کچھ چوری چلا گیا۔ اور اب یہ حال ہوگیا کہ جلد قرآن کی چاندی بیچی گئی اور ایسے گدھے پر سواری شروع ہوئی جس سے پاؤں زمین پر خط دیتے چلیں۔ اتفاق سے ایک دن مالک بن دینار سےملاقات ہوگئی۔ اس نے پوچھا کہ آپ کے مال کا کیا حشر ہوا؟ عبدالرحمن نے کہا کہ ’’سوائے ذات خدا کے کسی کے لئے بقا نہیں ہے‘‘۔
عمر بن عبدالعزیز نے تخت پر آنے کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ ایسے تمام ٹیکسوں کی اصلاح کی اور اپنے کوفہ کے گورنر کے نام یہ فرمان لکھا:’’اہل کوفہ نے حکام جور کے ہاتھوں کافی مصائب برداشت کئے ہیں۔دین کا خمیر عدل و احسان سے ہے۔ اپنے نفس کا اہتمام کرو اور اسے گناہوں سے بچاؤ۔ برباد زمینوں کو آباد پر قیاس نہ کرو۔ ہر زمین سے بقدر امکان خراج وصول کرو۔ اضافی ٹیکس مت لو۔ نو روز عید کے تحفے بند کرو۔ قرآن کی قیمت، گھر کا کرایہ، نکاح کا درہم، نومسلم کا خراج سب ختم کرو۔ میری اطاعت کرو۔ میں نے تمہیں حاکم بنایا ہے۔بغیر میری اجازت کے کسی کو کوئی سزا نہ دو۔ جو شخص حج کرنا چاہے اسے سو درہم فوراً عطا کردو‘‘۔
افسوس کہ عمر بن عبدالعزیز کی یہ تمام اصلاحات اس کے جانے کے ساتھ ہی دفن ہوگئیں اور یزید بن عبدالملک نے برسراقتدار آتے ہی اپنا فرمان جاری کردیا کہ:’’عمر دھوکے میں تھا۔ اس کی باتوں کو چھوڑدو۔ لوگوں کو پہلی حالت پر لے آؤ۔ ان سے ہر حال میں ٹیکس وصول کرو، شادابی ہو یا قحط۔ وہ پسند کریں یا ناپسند۔ زندہ رہیں یا مرجائیں‘‘۔
سختیاں بڑھ گئیں۔ امت کی گردن پر نئے نئے بوجھ لاد دیئے گئے۔ عمّال نے شدت برتنا شروع کردی اور کسی بھی ملک کی گورنری سرمایہ اندوزی کا وسیلہ فرض کرلی گئی۔
والی بننے کے لئے جن وسائل کو اختیار کیا گیا ان کا ایک خاکہ یہ ہے کہ عمر بن عبدالعزیز کے پاس بلال بن ابی بردہ آیا اور مسجد میں مستقل طور پر معتکف ہوگیا۔ عمر کو یہ زہد پسند آگیا اور اس نے علاء بن ابی بندار سے کہا کہ اگر اس کا ظاہر و باطن ایک ہے تو یہ بہترین انسان ہے۔ علاء نے کہا کہ میں ابھی اس کی اطلاع لے آتا ہوں۔ چنانچہ علاء مسجد میں آیا اور بلال سے کہنے لگا کہ آپ امیر سے میرے تقرب سے واقف ہیں۔ میں نے ان سے آپ کو عراق کا والی بنانے کی سفارش کردی ہے ۔ فرمائیے میرا کمیشن کیا ہوگا؟ بلال نے برجستہ جواب دیا کہ ایک سال کا کل مال یعنی دو کروڑ درہم۔ علاء نے کہا کہ اسے لکھ دیجئے۔ بلال نے لکھ دیا۔ علاء اس تحریر کو لے کر عمر کے پاس آیا۔ عمر نے اسے دیکھ کر کوفہ کے گورنر کو خط لکھا کہ:’’بلال نے ہمیں دھوکہ دینے کی کوشش کی تھی لیکن ہم نے امتحان کرلیا اور اسے مجسمۂ خباثت پایا‘‘۔
ظاہر ہے کہ جو حکومت دلوانے پر اتنا معاوضہ دے گا تو حکومت پانے پر اس سے کہیں زیادہ وصول بھی کرے گا ورنہ اس کی کمی پوری کہاں سے ہوگی؟


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम