Code : 667 60 Hit

رسالہ حقوق کی روشنی میں باپ پر اولاد کے حقوق

اسے اپنے رب کا اطاعت شعار بناؤ اور ایک اطاعت گذار بندہ بننے میں اس کی مدد کرو اس طرح کہ جب وہ اپنے پروردگار کا اطاعت گذار بن جائے گا اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ تمہاری بھی فرمانبرداری کرے گا۔اگر تم نے اپنے ذمہ عائد تمام ذمہ داریوں کو پورا کردیا تو تمہیں کو اس کی جزا ملے گی اور اگر ان ذمہ داریوں کو پورا نہیں کیا اور ان سے پہلو تہی کی تو تم سے اس کا سخت حساب و کتاب ہوگا۔لہذا تم اپنی اولاد کے سلسلہ میں اس طرح عمل کرو کہ اس دنیا میں وہ تمہارے لئے باعث افتخار و زینت بنیں۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! امام سجاد علیہ السلام  نے رسالہ حقوق میں جہاں دیگر بہت سے اہم حقوق کا ذکر فرمایا ہے وہیں ایک باپ پر اولاد کے تئیں محقق و مقرر ہونے والے حقوق کا کچھ اس انداز سے تذکرہ فرمایا ہے:
تمہارے بیٹے کا تم پر حق یہ ہے کہ تم سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین کرلو کہ وہ تم سے ہے اور اس فانی دنیا میں اس سے سرزد ہونے والا ہر اچھا اور برا کام(خیر و شر) تمہاری طرف ہی منسوب کیا جائے گا(چونکہ اولاد باپ کا ہی حصہ ہوتی ہے) لہذا ایک باپ پر اولاد کے تئیں مندرجہ ذیل حقوق اور ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں:
۱۔اسے اچھا  ادب سکھاؤ
۲۔اس کی پروردگار کی سمت رہنمائی کرو
۳۔اسے اپنے رب کا اطاعت شعار بناؤ اور ایک اطاعت گذار بندہ بننے میں اس کی مدد کرو اس طرح کہ جب وہ اپنے پروردگار کا اطاعت گذار بن جائے گا اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ تمہاری بھی فرمانبرداری کرے  گا۔
اگر تم نے اپنے ذمہ عائد تمام ذمہ داریوں کو پورا کردیا تو تمہیں کو اس کی جزا ملے گی اور اگر ان ذمہ داریوں کو پورا نہیں کیا اور ان سے پہلو تہی کی تو تم سے اس کا سخت حساب و کتاب ہوگا۔لہذا تم اپنی اولاد کے سلسلہ میں اس طرح عمل کرو کہ اس دنیا میں وہ تمہارے لئے باعث افتخار و زینت بنیں۔
اور ان(اولاد) کے سلسلہ سے تمہارا عمل اس طرح ہو کہ تم اپنے اور اپنے رب کے درمیان ان کے حقوق کو پورا کرنے اور ذمہ داریوں کے ادا کرنے کے سلسلہ میں جوابدہی کے معاملہ میں معذور شمار کئے جاؤ:’’ و لا قوه الا بالله‘‘۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منبع:

رسالہ حقوق امام سجاد علیہ السلام
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम