Code : 3646 44 Hit

دعاؤں کی استجابت میں حائل رکاوٹیں

دعا یعنی انسان یہ سوچتے ہوئے اپنے ہاتھ بلند کرے کہ اس دنیا و مافیہا کے تمام امور اللہ کے دست قدرت میں ہے اور وہی میری مشکلات کی گرہ کو کھول کر میرے لئے فرج کا سامان فراہم کرسکتا ہے اور میں اپنی محتاجی و ضرورت کو برطرف کرنے کے لئے اس کی پناہ میں آیا ہوں اور اپنی حاجات کو دعا کے قالب میں اس کے سامنے بیان کررہا ہوں۔

ولایت پورٹل: مخلوق کا اپنے خالق کے ساتھ رابطے اور تعلق کو شریعت کی اصطلاح میں دعا کہا جاتا ہے۔ دعا ایک ایسا رابطہ ہے جو آسانی سے ہر ایک کے لئے میسر ہو ہے۔ اس میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہوتی۔ اس میں انسان کا کوئی سرمایہ خرچ نہیں ہوتا ، اس میں کسی سورس اور سفارش کی ضرورت نہیں پڑتی۔
جب انسان کی روح مادی مشکلات کے باعث ضعف و نقاہت میں مبتلا ہوجاتی ہے تو اسے دور کرنے کے لئے اسے(روح کو) شدت کے ساتھ منبع لا یزال ہستی سے متصل ہونے اور رابطہ برقرار کرنے کا احساس ہوتا ہے ۔اللہ کی بارگاہ میں راز و نیاز کرنے سے روح پاک ہوتی ہے اور اس میں ایک طرح سے مزید قوت اور نشاط پیدا ہوجاتی ہے۔
دعا کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صرف انسان کچھ مخصوص کلمات اور فقرات اپنی زبان پر جاری کرلے ! بلکہ دعا کے پس منظر میں وہ جذبہ اور احساس بہت اہمیت کا حامل ہے جس سے متأثر ہوکر انسان کے ہاتھ اللہ کی بارگاہ میں دعا کے لئے اٹھ جاتے ہیں۔
دعا یعنی انسان یہ سوچتے ہوئے اپنے ہاتھ بلند کرے کہ اس دنیا و مافیہا کے تمام امور اللہ کے دست قدرت میں ہے اور وہی میری مشکلات کی گرہ کو کھول کر میرے لئے فرج کا سامان فراہم کرسکتا ہے اور میں اپنی محتاجی و ضرورت کو برطرف کرنے کے لئے اس کی پناہ میں آیا ہوں اور اپنی حاجات کو دعا کے قالب میں اس کے سامنے بیان کررہا ہوں۔
جب انسان اس جذبہ اور احساس کے ساتھ دعا کرتا ہے تو اسے یہ امید بھی ہوتی ہے کہ اس کی ضرور قبول ہوگی اور مرحلہ اجابت و قبولیت تک پہونچے گی لیکن ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیئے کہ وہی دعائیں درگاہ حق میں قبولیت کا شرف حاصل کرتی ہیں جن میں رکاوٹیں نہ ہوں جن کے درمیان ہماری بنائی ہوئی دیواریں نہ ہوں پس اس تمہید کے بعد ہم با آسانی یہ سمجھ سکتے ہیں کہ دعا کے قبول ہونے کے اپنے کچھ شرائط و آداب ہوتے ہیں کہ جن کا تحقق دعا کرنے کرنے سے پہلے ضروری و لازمی ہوتا ہے۔قارئین! ہم ذیل میں دعاؤں کی استجابت میں حائل کچھ رکاوٹوں کا تذکرہ کررہے ہیں:
۱۔ غیر خدا سے توقع رکھنا
معرفت انسان کے لئے عظیم سرمایہ ہے اور یہ ایک ایسی نعمت ہے جس کے حصول میں بہت زیادہ مشقت کرنا پڑتی ہے چنانچہ اگر ہمارے پاس معرفت نہ ہو اور ہمارا دامن اس سے خالی ہو تو پھر ہم دعا تو اللہ سے کرتے ہیں لیکن ہماری توقع اپنے اطراف میں موجود لوگوں سے زیادہ ہوتی ہیں اور وہ توقعات اور امیدیں کو خدا سے وابستہ ہونا چاہیئے ہو ہم لوگوں سے کر بیٹھتے ہیں۔ چنانچہ ایک حدیث میں امام جعفر صادق (ع) نے اللہ کی نسبت قلت معرفت کو دعاؤں کی قبولیت میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے، ارشاد ہوتا ہے:’’جب بھی تم میں  سے کوئی(شخص) یہ چاہے کہ جو کچھ اس نے اللہ سے مانگا ہے اسے وہ سب مل جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ صرف اللہ سے توقع اور امید رکھے اور اس کے غیر سے کسی طرح کی کوئی خواہش نہ کرے چونکہ جب اللہ تعالیٰ یہ جان لیتا ہے کہ یہ شخص جو کچھ کہہ رہا ہے اس میں سچا ہے تو اسے وہ سب کچھ عطا کردیتا ہے جو  اس نے جو کچھ طلب کیا تھا ‘‘۔(۱)
اس حدیث کی روشنی میں ایک مؤمن کی تمام تر توقعات اور امیدیں صرف اللہ تعالیٰ سے وابستہ ہونا چاہیئے اور اس کے علاوہ کسی سے کوئی امید اور توقع نہ رکھے اور جب انسان اس شرط اور ادب کے ساتھ دعا کرے گا تو اس کی دعا آسانی کے ساتھ بارگاہ پروردگار میں مستجاب ہوجائے گی۔
۲۔لقمہ حرام سے پرہیز نہ کرنا
زندگی میں حرام مال کے سبب انسان کا معنوی رزق کم ہوجاتا ہے اور انسان کی روح الطاف الہی کے حصول سے محروم رہ جاتی ہے۔ اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ کی دعائیں مستجاب ہوں تو آپ کو اپنے مال پر دقیق نظریں رکھنا ہونگی اور آپ کبھی یہ اجازت نہ دیں کہ کسی طرح کا حرام یا شبہ آمیز مال آپ کے گھر میں داخل ہوجائے۔ زندگی میں حلال و حرام کی رعایت نہ کرنے کے سبب ہماری دعا معنویت اور الہی رنگ سے عاری ہوجاتی ہیں جس کے سبب باب اجابت تک پہونچے بغیر ہی دعائیں رد ہوجاتی ہیں چنانچہ رسول اللہ(ص) کا ارشاد ہے’’ بے شک وہ بندہ کہ جو لقمہ حرام کھاتا ہے اس کی دعا کس طرح مستجاب ہوسکتی ہے؟!‘‘۔(۲)
پس ہمیں معلوم ہونا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ سست، اور کاہل انسان کو پسند نہیں کرتا۔ اللہ ایسے لوگوں سے  خوش ہوتا ہے جو کوشش اور محنت کرکے لقمہ حلال کھاتے ہیں لہذا وہ لوگ جو بغیر محنت اور مشقت کئے لقمہ حرام کے چکر میں پڑے رہتے ہیں اور پھر دعا بھی کرتے ہیں تو انہیں یہ توقع نہیں رکھنا چاہیئے کہ اللہ ان کی دعاؤں کو قبول کرلے گا بلکہ انسان کو خواب غفلت سے جاگنا ہوگا اور اپنے گھر کی چاردیواری سے نکل کر رزق حلال کو تلاش کرنا ہوگا تاکہ اس کی دعائیں مستجاب ہوسکیں۔
 ۳۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک کرنا
امام علی علیہ السلام کا فرمان ہے:’’جو شخص ان دو الہی فرائض(یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر) کو ترک کرتا ہے اس کی دعائیں مستجاب نہیں ہوتیں چونکہ پیغمبر اکرم(ص) نے اس کے متعلق ارشاد فرمایا ہے:’’ مسلسل امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہو نہیں تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ اللہ تعالیٰ زمانے کے اشرار کو تمہارے بہترین لوگوں پر مسلط کردے گا اور پھر اگر وہ (نیک لوگ) دعا بھی کریں گے تو ان کی دعائیں مستجاب نہیں ہونگی‘‘۔(۳)
۴۔ خدا کی نافرمانی کرنا
ہماری دعائیں مستجاب ہونے تک کئی مراحل سے گذرتی ہیں پس ممکن ہے کہ کوئی شخص دعا کرے لیکن اس سے پہلے کہ اس کی اجابت کا وقت پہونچے انسان اپنے پروردگار کی کوئی نافرمانی یا گناہ انجام دیدے۔ تو وہ دعا باب اجانت تک پہونچنے سے پہلے ہی لوٹا دی جاتی ہے۔ اس طرح کہ اگر ہو گناہ نہ کیا ہوتا تو یقیناً یہ دعا مستجاب ہوجاتی۔ چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے:’’ ایک بندہ اللہ سے کسی حاجت کو طلب کرتا ہے ۔ پروردگار کی شان کا تقاضہ یہ ہے کہ اسے جلد یا دیر سے پورا کردے۔ لیکن اسی دوران وہ بندہ کوئی گناہ کربیٹھتا ہے تو پروردگار اپنے فرشتہ سے کہتا ہے: اس کی دعا کے تقاضوں کا پورا مت کرو بلکہ اسے اس (طلب) سے محروم کردو چونکہ اس نے یہ گناہ کرکے میرے غیض و غضب کو مشتعل کردیا ہے لہذا اس کی دعا میری طرف سے رد ہوچکی ہے‘‘۔(۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔کافی، محمد بن یعقوب الکلینی، تهران، جلد 2 ، صفحه ‏148۔
2۔ارشاد القلوب، الدیلمی، صفحه ‏149۔
3۔بحار الانوار، جلد ‏75، صفحه ‏311 ۔
4۔بحار الانوار، مجلسی، مؤسسه الرسالۀ، بیروت، جلد ‏73، صفحه ‏329 ۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین