Code : 1243 33 Hit

مؤمن،مؤمن کا آئینہ

پس وہ مؤمن جو کسی دوسرے مؤمن کی اصلاح کرنا چاہتا ہے اور اس کا آئینہ بننا چاہتا ہے تو اسے اپنے دل کے شیشہ کو صاف و صیقل رکھنا ہوگا اور پھر اس پر کچھ نور کی کرنیں بھی پڑنے دینا ہوگی نیز گناہ و آلودگی کی گندگی کی پرت بھی قلب پر نہ جمنے دے۔ اس وقت ایک مؤمن اپنے دوسرے مؤمن بھائی کے لئے آئینہ کی طرح ہوسکتا ہے اور اگر کسی نے اپنے اندر ان صفات کو جگہ نہیں دی تو پھر وہ اس حدیث کے مصداق نہیں بن سکتا۔

ولایت پورٹل: ہماری زندگی میں بہت سے ایسے قریبی و صمیمی دوست بھی ہوتے ہیں کہ جن کے ساتھ ہماری زندگی کے بہت سے گھڑیاں اور اور لمحات گذرتے ہیں کبھی یہ دوستی اور قربت اس قدر بڑھ جاتی ہیں کہ دوست کے تمام اسرار ہماری تیز بین نگاہوں کے سامنے ہوتے ہیں۔کیا ہم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ اگر ہم کبھی اپنے دوست کے کسی عیب سے آشنا ہوگئے تو ہمیں کس رد عمل کا مظاہرہ کرنا چاہیئے ؟ شاید آپ اس سوال کو سن کر ایسا محسوس کریں کہ اس سوال کا جواب اتنا روشن و ظاہر ہے کہ اس کو پیش کرنا اور بیان کرنا ہی بیہودہ چیز ہے لیکن بظاہر یہی سادہ سا سوال اب تک نہ جانے کتنی کدورتوں کے پنپنے اور کتنی دوستیوں کے ٹوٹنے کا سبب بنا ہے لہذا کسی کو اس کے عیب کی طرف متوجہ کرنا بھی ایک خاص قسم کے انداز ،سلیقہ اور ہنر کا محتاج ہے۔
آپ نے معروف حدیث’’المؤمن مرأۃ المؤمن‘‘ ۔یعنی مؤمن، مؤمن کا آئینہ ہوتا ہے۔ کو ضرور سنا یا پڑھا ہوگا۔ہمارا ماننا یہ ہے کہ اگر اس نورانی کلام پر تھوڑا مزید غور کرلیا جائے تو اس کے اوپر بہت سی دوستیاں اور اخوتیں بہتر طور پر آگے بڑھ سکتی ہیں اور دوستی و بھائی چارگی کا رشتہ مزید مستحکم ہوسکتا ہے۔
آئینہ کے اندر کچھ ایسے خواص پائے جاتے ہیں کہ اگر انسان خود کو ان خواص سے آراستہ کرلے تو وہ اس حدیث کا روشن مصداق بن سکتا ہے چنانچہ آئینہ کے کچھ اہم خواص یہ ہیں:
۱۔آئینے کبھی حقیقت کو نہیں چھپاتے یعنی یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اگر کسی کے چہرے یا صورت پر کوئی عیب و نقص ہو اور وہ آئینہ کے سامنے کھڑا ہوجائے اور آئینہ اس کے اس عیب کو ظاہر نہ کرے۔
۲۔ آئینے کبھی جھوٹ نہیں بولتے اور جس چیز کو بھی دکھاتے ہیں وہ سچ ہی ہوتا ہے۔یعنی عیب کو اس طرح اور اسی مقدار میں دکھاتے ہیں جیسا وہ ہوتا ہے بغیر اس کے کہ اس میں سے کوئی چیز کم کرے یا زیادہ۔
۳۔ آئینے ہر کسی کے عیب کو صرف اسی کے سامنے اور خود اسی سے بتلاتے ہیں لہذا یہ ممکن نہیں ہے کہ انسان آئینہ کے سامنے نہ ہو لیکن وہ پھر بھی دوسروں سے اس کے عیب بیان کررہا ہو۔
۴۔آئینہ کسی کے عیب و نقص کو بتلاتے وقت ڈھنڈورا نہیں پیٹتا بلکہ خاموشی کے ساتھ انسان کو متوجہ کردیتا ہے اور یہ بات محال ہے کہ آئینہ کسی کے عیوب کو اتنی بلند آواز میں بیان کرے کہ دوسرے کو سنائی دے جائے۔
ان وجوہات کی بنیاد پر اگر کوئی مؤمن یہ چاہتا ہے کہ وہ اس حدیث شریف:’’المؤمن مرأۃ المؤمن‘‘کا کامل و اکمل مصداق بن جائے تو وہ  اپنے بھائی اور اپنے دوست کے عیوب و نقائص کے مقابل غیر جانبدار نہیں رہ سکتا لیکن یہ خیال رکھا جائے کہ عیب جیسا ہے اسے بغیر کم و کاستی کے ویسا ہی اور صرف اسی سے بتلائے اور بیان کرے اور بغیر ڈھنڈورا پیٹے اسے اصلاح کرنے کی ترغیب دلائے۔
لیکن یہ بات ذہن نشین رہے کہ مذکورہ صفات و خواص آئینوں میں کچھ شرائط کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں اور ان میں سے پہلی شرط یہ ہے کہ آئینہ خود صاف و شفاف ہو تاکہ صاف و شفاف تصویر اور جیسا صاحب ہے ویسی ہی تصویر دکھائے۔
دوسری شرط یہ ہے کہ آئینہ پر کچھ نور کی شعائیں بھی پڑے ورنہ اگر کسی بند و تاریک کمرے میں آئینہ کو رکھ دیا جائے اور اب اسان اس کے سامنے جاکر کھڑا ہو تو وہ اسے کچھ نہیں دکھا سکتا۔
پس وہ مؤمن جو کسی دوسرے مؤمن کی اصلاح کرنا چاہتا ہے اور اس کا آئینہ بننا چاہتا ہے تو اسے اپنے دل کے شیشہ کو صاف و صیقل رکھنا ہوگا اور پھر اس پر کچھ نور کی کرنیں بھی پڑنے دینا ہوگی نیز گناہ و آلودگی کی گندگی کی پرت بھی قلب پر نہ جمنے دے۔ اس وقت ایک مؤمن اپنے دوسرے مؤمن بھائی کے لئے آئینہ کی طرح ہوسکتا ہے اور اگر کسی نے اپنے اندر ان صفات کو جگہ نہیں دی تو پھر وہ اس حدیث کے مصداق نہیں بن سکتا۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम