Code : 3485 30 Hit

توحید حضرت علی علیہ السلام کی نظر میں(۲)

حضرت امیر علیہ السلام کے اس قول کے یہ معنی ہیں کہ پروردگار اپنی مخلوق کے ساتھ ہر قسم کی مشابہت ویگانگت سے پاک ومنزہ ہے تمام اشیاء اس اعتبار سے کہ حادث ہیں عالم وجود میں آنے کے لیے ایک خالق کے محتاج ہیں اور تمام مخلوق اس احتیاج میں یکساں ہیں۔ لیکن چونکہ ذات پروردگار ازلی وبے نیاز ہے وہ کسی خالق کا محتاج نہیں ہے۔ اس کے مثل کوئی نہیں ہے۔ (مثل ہونے کی صورت میں) اس کی مخلوق اس کے مانند قرار پائے گی وہ ہمیشہ اہل معرفت کے نزدیک مشابہت رکھنے والوں اور اضداد سے پاک ومنزہ ہے۔

تحریر: آیت اللہ سید جعفر سیدان
ترجمہ : حجۃالاسلام مولانا شمس الحسن عارفی(استاذ جامعہ ناظمیہ لکھنؤ )
گذشتہ سے پیوستہ :
ادلۂ توحید: ۱۔ فطرت:دینی منابع کی بناء پر خداشناسی ایک فطری جذبہ ہے خدائے متعال نے اپنے فضل ومہربانی کے ذریعہ تمام انسانوں کی فطرت کو اپنی معرفت کے ساتھ جوڑ دیا ہے اس اعتبار سے جب کوئی انسان دنیا میں آتا ہے تو اپنے ہمراہ ذات پروردگار اور اس اسماء وصفات کی معرفت اپنے ہمراہ لے کر آتا ہے یہ معرفت الٰہی کا فطری جذبہ مختلف اسباب کے ذریعہ مثلاً پیغمبران الٰہی کی نصیحت اور کائنات کے رموز واسرار میں غوروفکر کے ذریعہ یاد آتا ہے حضرت علی(ع) نے اپنے ایک انتہائی عمدہ ترین قول میں فرمایا: انبیاء الٰہی کی ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری فطری میثاق کو واپس لانا اور اس فراموش شدہ نعمت کی یاد آوری کرانا ہے یعنی خداشناسی۔
پروردگار عالم اپنے انبیاء کو بندوں کے درمیان مسلسل بھیجتا رہا تاکہ ان کے عہدوپیمان کو ابھاریں اور ان کو ان کی فراموش شدہ نعمت کو یاد دلائیں۔(۲۵)
اس فطری معرفت میں توحید پروردگار کی معرفت موجود ہے اس میں پروردگار عالم کو بندوں کے درمیان خدائے وحدہ لاشریک کے عنوان سے پہنچوایا گیا ہے۔
معرفت فطری کا محور خدائے واحد ہے لامحالہ فطری معرفت کی جانب توجہ کرنا خدائے واحد کی جانب توجہ کرنا ہے۔ جیسا کہ کتاب توحید میں ابوہاشم کے حوالہ سے روایت میں آیا ہے۔ (راوی کہتا ہے) میں نے حضرت امام جواد علیہ السلام سے سوال کیا کہ واحد کے معنی کیا ہیں؟ حضرت نے فرمایا: وہ کہ جس کی وحدانیت پر سب متفق ہوں جیسا کہ پروردگار فرماتا ہے: اگر ان لوگوں سے پوچھو کہ کس نے آسمان وزمین کو زیور وجود سے آراستہ کیا ہے؟ وہ بغیر کسی شک وتردید کے یہی کہیں گے خدا۔ (۲۶)
ایک روایت میں حضرت امیر نے توحید کے فطری ہونے کو اس طرح بیان فرمایا ہے: ’’اس میں کوئی شک نہیں وہ بہترین وسیلہ جس کو تلاش کرنے والوں نے اپنایا ہے اور پروردگار سے متوسل ہوئے ہیں وہ کلمۂ اخلاص ہے اور یہی فطرت الٰہی ہے۔ (۲۷)
۲۔ ہماہنگی اور وحدتِ تدبیر:توحید پروردگار کی دلیل اس نظام ہستی کا ایک ہونا ہے اس کائنات میں ہر طرف پروردگار کی ربوبیت کے بکھرے ہوئے نمونوں میں غوروفکر کے ذریعہ اس کی وحدانیت کو سمجھاجاسکتا ہے۔ قرآن کریم لوگوں کو تکوینی نشانیوں میں غوروفکر کی دعوت دیتا ہے تاکہ اس راہ سے خالق کائنات اور اس کی وحدانیت کو سمجھ سکیں۔ جیسا کہ سورۂ نمل کی آیات ۶۰ سے ۶۴ تک ہر آیت میں اللہ کی کچھ نعمتوں اور بخششوں کو ذکر کیا ہے اس موقع پر ’’ ء الہ مع اللہ‘‘ اس جملے کے ذریعہ اللہ کی وحدانیت پر استدلال کیاجاسکتا ہے مثلاً آیت نمبر ۶۴ میں فرماتا ہے: ’’وہ کون ہے جو خلقت کا آغاز فرماتا ہے پھر اس کو پلٹاتا ہے اور وہ کون ہے جو تم کو آسمان وزمین سے رزق عطا فرماتا ہے کیا خدا کے ساتھ دوسرا معبود ہے (اے رسول) تم کہہ دو اگر تم سچے ہو اپنی دلیل پیش کرو۔
حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کہ جو مکتب قرآن کے پروردہ ہیں وہ ایک جانب آسمان وزمین کے کچھ رموز واسرار کو بیان فرماتے ہیں۔ (۲۸)۔ اور دوسری جانب نصیحت فرماتے ہیں تمام چیزوں کا خالق خدائے واحد ہے۔ (خطبہ نمبر؍۱۸۵) میں ارشاد فرماتے ہیں: اگر تم غوروفکر کے راستے پر چلو تو تم اس کے ذریعہ وحدانیتِ پروردگار تک پہنچ جائو گے۔ تم کو معلوم ہوگا کہ جو چیونٹیوں کا پیدا کرنے والاہے وہ ہی درختوں کا خالق ہے اور تم کو یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ تمام مخلوقات چاہے وہ چھوٹی ہو یا بڑی ہو، کمزور ہو یا قوی ہو، خلقت میں سب ایک دوسرے کے مانند ہیں ۔ درحقیقت اس کائنات کی تمام مخلوقات کی ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی اور خلقت کا استحکام اس بات کی علامت ہے کہ اس جہان ہستی پر صرف ایک قوت حاکم ہے
(۳) شریک پروردگار کی نشانیوں کا نہ ہونا: حضرت علی علیہ السلام کے بیانات میں اللہ کے شریک نہ ہونے پر اس کے آثار ونشانیاں موجود نہ ہونے کے ذریعہ تیسری دلیل اس طرح پیش کی گئی ہے کہ اگر خدائے واحد کا کوئی شریک وہمسر ہوتا تو اس دنیا میں ضرور اس کی صفت وتدبیر کے آثار موجود ہوتے اور چونکہ ایسا نہیں ہے اس سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ کوئی دوسرا خدا نہیں ہے۔ حضرت امیر علیہ السلام نے اسی دلیل کو حضرت امام حسن علیہ السلام کے نام ایک مکتوب میں نہایت خوبصورت انداز میں مزید وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ’’اے میرے فرزند! اگر تمہارے پروردگار کا کوئی شریک ہوتا تو اس کے رسول بھی تمہاری جانب آتے اور اس کی سلطنت وملکیت کے آثار کا بھی تم ضرور مشاہدہ کرتے اور اس کے کچھ افعال وصفات بھی معلوم ہوتے مگر وہ ایک ہے جیساکہ خود اس نے بیان کیا ہے۔ (۲۹)
یہ تمام آثار وعلامات اپنے خالق کے وجود پر دلالت کرتے ہیں اس اعتبار سے مخلوقات میں اور ان پر حاکم نظم وتدبیر میں غوروفکر سے وجود خالق کی جانب راہنمائی ہوتی ہے بہرحال یہ تمام آثار ومخلوقات اس سے قطع نظر کہ یہ وجود خالق پر دلالت کرتے ہیں اس خالق کی وحدانیت پر بھی دلالت کرتے ہیں جیسا کہ گذشتہ دلیل میں بیان کیا گیا ہے۔ مخلوقات کی نظم وہم آہنگی خدائے واحد کی خبر دیتی ہے۔ موجودہ مخلوقات کے علاوہ کسی دوسرے کے آثار ومخلوقات درمیان میں نہیں ہیں تاکہ دوسرے خالق کے وجود پر دلالت کریں۔
خدائے متعال کے وہ آثار جن کو حضرت علی علیہ السلام نے بیان فرمایا ہے۔ ان میں سے ارسال رُسُل (یعنی دنیا میں رسولوں کا بھیجنا) بھی ہے اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہ انبیاء علیہم السلام خدائے واحد کے بارے میں خبر دیتے ہیں اور دوسرے خدا کے وجود کی نفی کرتے ہیں۔ اگر دوسرا خدا درمیان میں ہو تو انبیاء جھوٹے قرار پائیں گے حالانکہ انبیاء کی صداقت دین اسلام کے واضح ترین حقائق میں سے ہے۔
اگر کوئی کہے: ممکن ہے اس دنیا کے پیدا کرنے والے چند خالق ہوں اور وہ باہم ایک دوسرے کے ساتھ اس دنیا کے نظم وترتیب میں موافقت رکھیں اور سب اپنے اپنے دائرۂ کار کو مشخص کرلیں؟ اس اعتراض کا جواب یہ ہوگا کہ یہ خیال ان فرض شدہ خدائوں کی محدودیت پر دلالت کرتا ہے اور نقص ومحدودیت مخلوقات کے صفات میں سے ہے۔ خالق ان صفات سے بری ہے۔
توحید کے شرائط: حضرت علی علیہ السلام کے اقوال میں غوروفکر کے بعد ہم اس نتیجہ تک پہنچتے ہیں کہ توحید واقعی جس کا تذکرہ قرآن وسنت میں ہوا ہے اور امام کے اقوال میں بھی اس کا وجود ملتا ہے اس توحید واقعی کی منزل تک پہنچنے کے لیے کچھ شرائط ہیں جو بہت ضروری ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی ایک شرط مفقود ہوگی تو یہ نفی توحید کے مترادف ہوگا۔
توحید کے شرائط یہ ہیں : (۱) انکار تشبیہ۔ (۲) توصیف پروردگار کا ممکن نہ ہونا۔ (۳) تباین کا ہونا۔
پہلی شرط: انکارتشبیہ۔ یعنی انسان حقیقت توحید تک اسی وقت پہنچ سکتا ہے جب ذات الٰہی سے ہر قسم کی تشبیہ ومثل ونظیر کی نفی کرے اس کی جھلک حضرت علی(ع) کے اقوال میں پائی جاتی ہے ہمیشہ آپ نے اس مفہوم کی جانب تاکید فرمائی ہے۔ مثلاً ایک جگہ آپ فرماتے ہیں: ’’وہ یعنی پروردگار تمام مخلوق سے جدا ہے کوئی چیز اس کے مانند نہیں ۔ (۳۰)۔ دوسری جگہ حضرت(ع) ارشاد فرماتے ہیں: اللہ کے لیے نہ کوئی مثل ہے اور نہ کوئی نظیر ہے۔ (۳۱)۔ حضرت کا یہ بھی ارشاد ہے: وہ یعنی خدا وندعالم واحد ویگانہ ہے، دیگر اشیاء کے مانند نہیں ہے۔ (۳۲)۔ اسی طرح حضرت نے یہ بھی فرمایا ہے: وہ اپنے وجود پر اپنی مخلوق کی قوت کے ذریعہ اور اپنے ازلی ہونے اور اپنی مخلوق کے حادث ہونے پر گواہ ہے۔(۳۳)
حضرت امیر علیہ السلام کے اس قول کے یہ معنی ہیں کہ پروردگار اپنی مخلوق کے ساتھ ہر قسم کی مشابہت ویگانگت سے پاک ومنزہ ہے تمام اشیاء اس اعتبار سے کہ حادث ہیں عالم وجود میں آنے کے لیے ایک خالق کے محتاج ہیں اور تمام مخلوق اس احتیاج میں یکساں ہیں۔ لیکن چونکہ ذات پروردگار ازلی وبے نیاز ہے وہ کسی خالق کا محتاج نہیں ہے۔ اس کے مثل کوئی نہیں ہے۔ (مثل ہونے کی صورت میں) اس کی مخلوق اس کے مانند قرار پائے گی وہ ہمیشہ اہل معرفت کے نزدیک مشابہت رکھنے والوں اور اضداد سے پاک ومنزہ ہے۔
دوسری شرط: خدا کی توصیف ناممکن ہے۔ یہ نکتہ نہایت قابل توجہ ہے کہ کسی حقیقت کی معرفت اسی وقت ممکن ہوگی جب ہم اس کا ادراک کریں اور پھر اس کی معرفت حاصل کریں لیکن ذاتِ پروردگار اپنے لامحدود قدس ونورانیت کے سبب عقل وفکر کے دائرے سے باہر ہے۔ (۳۴)
حضرت امیرعلیہ السلام کی نظر میں پروردگار عالم کی توصیف کا مطلب اس کو محدود کرنا ہے۔ آپ ارشاد فرماتے ہیں: ’’جو شخص خدا کے لیے کسی صفت (یعنی زائد برذات) کا قائل ہو اس نے خدا کو محدود کردیا اور جس نے اس کو محدود کردیا وہ اس کو شمار میں لے آیا اورجو اس کو شمار میں لے آیا اس نے خدا کی ازلیت کو باطل قرار دیا اور جس نے اس کی کیفیت کے بارے میں سوال کیا وہ اس کی صفت (یعنی زائد برذات) کا قائل ہوا۔ (۳۵)
پس اللہ کی صفت (یعنی زائد برذات) کا لازمی نتیجہ اس کو محدود کرنا ہے اور اس سے قبل یہ بیان کیاجاچکا ہے کہ توحید عددی کا اس کے لیے استعمال نہیں کیاجاسکتا۔ اس مفہوم کے واضح طور پر بطلان سے متعلق اپنی دلیل پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر اس سے مربوط حضرت علی علیہ السلام کے اقوال کا ذکر کریں گے۔
پہلی دلیل: ذات پروردگار ہماری عقل کے دائرے میں نہیں سما سکتا اس مطلب کو پیش نظر رکھتے ہوئے خالق ومخلوق کے درمیان سنخیت نہیں ہے۔ (یعنی دونوں ایک حقیقت نہیں رکھتے۔)
یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ ذات پروردگار ایک ایسا وجود ہے جس کی حقیقت دیگر تمام حقائق سے جدا ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ ایک مبائن کا دوسرے مبائن سے کوئی تعلق نہیں ہے پھر یہ انسان ذات پروردگار کا کس طرح ادراک کرسکتا ہے۔ حقیقت انسان حقیقت پروردگار سے جدا ہے۔
دوسری دلیل: انسان ایک محدود مخلوق ہے اور ایک محدود مخلوق لامحدود حقیقت کو درک نہیں کرسکتی۔ بنابریں ذات پروردگار کا احاطہ یا دوسرے لفظوں میں اس کی حقیقت تک پہنچنا ناممکن ہے۔
تیسری دلیل: انسانی فکروذہن کچھ مفاہیم کے ذریعہ حقائق تک پہنچتا ہے۔ دوسری جانب سے ہر مفہوم کی چمک ایک خاص حد تک پہنچتی ہے اور چونکہ خداوندعالم کی کوئی حد نہیں ہے ہماری فکرو ذہن میں اس کا کوئی مفہوم نہیں سما سکتا۔
پروردگار کی توصیف (یعنی زائد برذات) یہ ایک ایسا موضوع ہے جس کی آیات وروایات میں بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے۔ ’’آنکھیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں لیکن وہ آنکھوں کا ادراک کرتا ہے۔ (سورہ انعام؍۱۰۲)
دوسری جگہ فرماتا ہے: تمہارا رب عزت کا مالک ان باتوں سے پاک ہے جو لوگ اس کے بارے میں کہتے ہیں۔ (سورہ صافآت؍۱۸۰)
اور ایک مقام پر اس طرح فرماتا ہے۔ ان لوگوں نے (یعنی یہودیوں) نے خد اکی اس طرح قدر نہیں کی جیسی قدر کرنا چاہئے تھی۔ (سورہ انعام؍۹۱)
(سورہ نجم آیت؍۴۲) میں اس طرح فرماتا ہے: بے شک سب کو تمہارے رب کی جانب پہنچنا ہے۔
حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ کے پہلے خطبہ میں فرماتے ہیں: دین کا آغاز معرفت پروردگار ہے اور خدا کی معرفت کا کمال اس کی تصدیق ہے اور اس کا کمال تصدیق اس کی وحدانیت ہے اور کمال توحید اخلاص ہے اور کمال اخلاص یہ ہے کہ اس کی ذات سے صفت کی نفی کی جائے اس لیے کہ ہروصف گواہی دیتا ہے کہ وہ موصوف کا غیر ہے۔ اور ہر موصوف گواہی دیتا ہے کہ وہ صفت کا غیر ہے۔ پس جو بھی خدائے سبحان کی توصیف کرے اس نے اس کو کسی چیز کے نزدیک کیا ہے اور جس نے اس کو کسی چیز سے نزدیک کیا ہے اس نے اس کو دو قرار دیتا ہے اور جو اس کے دو ہونے کا قائل ہو اس نے اس کو تجزیہ کیا اور جس نے اس کا تجزیہ کیا اس نے اس کو نہیں پہچانا اور جو اس کو نہ پہچانے وہ اس کی جانب اشارہ کرتا ہے اور جو اس کی طرف اشارہ کرے اس نے گویا خدا کو محدود کیا اور جو اس کو محدود کرے اس نے اس کو معدود بنایا ہے۔ (۳۶)
دوسری جگہ حضرت ارشاد فرماتے ہیں: عبادت پروردگار کا آغاز اس کی معرفت ہے اور معرفت خدا کی اصل اس کی توحید ہے اور نظام توحید اس کی ذات سے صفات کی نفی ہے وہ بلند وبالا ہے اس سے کہ اس کی جانب صفات کا رخ ہو۔ اس لیے کہ عقلیں گواہی دیتی ہیں اس بات پر کہ جس کے لیے صفات کی تجویز کی جائے وہ مصنوع اور مخلوق ہے۔ اور عقلیں گواہی دیتی ہیں کہ پروردگار صانع ہے مصنوع نہیں۔(۳۷)
پروردگار کی توصیف (زائد برذات) کے ناممکن ہونے کو مندرجہ ذیل روایات میں اس طرح بیان کیا گیاہے وہ ایسی صفت نہیں رکھتا جو قابل ادراک ہو وہ ایسی حدنہیں رکھتا جس کی مثالیں بیان کی جائیں۔ آنکھیں اس کی صفات کے مقابلے میں حیرت زدہ رہ جاتی ہیں۔ مختلف صفات اس کی بارگاہ قدرت میں رک جاتے ہیں ہماری فکریں اس کی بارگاہ ملکوتی میں حیران ہیں۔
وہ پاک ومنزہ ہے وہ اسی طرح جیساکہ خود اس نے اپنی توصیف فرمائی۔ دیگر توصیف کرنے والوں کی رسائی اس تک ناممکن ہے۔ (۳۸)
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ حضرت امیر مسجد کوفہ میں خطبہ ارشاد فرمارہے تھے دوران خطبہ ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا: اے امیرالمومنین! ہمارے لیے خدا کی توصیف فرمائیے تاکہ ہمارے قلوب میں اس کی محبت ومعرفت میں اضافہ ہو۔ یہ سن کر حضرت ناراض ہوگئے اعلان فرمایا: الصلوٰۃ جامعہ۔ یہ سن کر لوگ جمع ہوگئے مسجد لوگوں سے بھر گئی۔ حضرت اسی ناراضگی کی حالت میں بالائے منبر تشریف لے گئے خد اکی حمدوثناء بجالانے کے بعد محمد وآل محمدؐ پردرودوسلام بھیجا پھر اس طرح آپ نے فرمایا: خدائے متعال اہل فکر کی فکروں میں نہیں سماسکتا۔ عقل وفکر اس کی حقیقت ذات تک پہنچنے سے قاصر ہے یہاں تک کہ اس کی عظمت وجلالت کی ایک جھلک تک بھی انسانی عقل وفکر نہیں پہنچ سکتی۔ اس لیے کہ وہ مخلوق کی محدود ادراکی قوتوں کے دائرے میں نہیں سماسکتا۔ اس کی حقیقت الگ ہے اور مخلوق کی حقیقت الگ ہے۔ بے شک ہر چیز اس چیز کے مشابہ ہے جو اس سے مماثلت رکھتی ہے اور جو ذات اپنا مثل ونظیر نہیں رکھتی وہ کس طرح دوسری چیز کے مشابہ ہوگی۔ (۳۹) پروردگار سے متعلق ہر قسم کے تصور کی نفی سے متعلق حضرت امیر علیہ السلام کے ایک کلام کا ذکر کرکے اس بحث کو یہیں تمام کرتے ہیں۔
حضرت امیر علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے: حقیقت توحید یہ ہے کہ تم اپنی عقل وفکر کے ذریعہ اس کا کوئی تصور نہ کرو۔(۴۰)
تیسری شرط: تباین۔ یہ توحید کی تیسری بنیادی شرط ہے جس سے مراد یہ ہے کہ خالق ومخلوق کے درمیان ذات وصفت کے اعتبار سے تباین وجدائی موجود ہے۔ اور خالق ومخلوق کے درمیان تبائن ذاتی وصفتی سے مراد یہ ہے کہ پروردگار ذات اور تمام صفات میں اپنی مخلوق سے حقیقتاً جدا ہے خالق ومخلوق کے درمیان کوئی شرکت نہیں ہے۔ خداشناسی سے متعلق یہ موضوع قرآن وسنت کے مسلمات میں سے ہے اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ہم یہاں حضرت علی علیہ السلام کے کچھ اقوال کا ذکر کرتے ہیں۔
حضرت علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں: وجود پروردگار کی دلیل اس کی واضح نشانیاں ہیں۔ ان نشانیوں کا ہونا وجود پروردگار پر دلالت کرتا ہے اور اس کی معرفت اس کی وحدانیت پر ایمان لانا ہے اور توحید یہ ہے کہ اس کو اس کی مخلوق سے علیحدہ رکھاجائے اور یہ جدائی ایک صفت ہے مکانی اعتبار سے دوری نہیں ہے۔
پروردگار خالق ہے مخلوق نہیں اور جو کچھ (اس کے بارے میں) وہم وگمان کرتے ہیں وہ اس کے خلاف ہے۔ (۴۱)
حضرت علی علیہ السلام کا یہ بھی ارشاد گرامی ہے: حمدوثناء مخصوص ہے اس پروردگار سے جو اپنی مخلوق کے ذریعہ اپنے وجود پر دلالت کرتا ہے اور اس مخلوق سے جدا ہے لیکن اس طرح نہیں کہ وہ ان سے کچھ مسافت کی دوری پر ہے۔ وہ اپنے غلبہ وقدرت کے سبب تمام اشیاء سے جدا ہے اور تمام اشیاء اس سے جدا ہیں اس لیے کہ وہ اس کے سامنے سجدہ ریز ہیں اور ان کی بازگشت اس کی جانب ہونے والی ہے۔ (۴۲)
ایک دوسری جگہ حضرت فرماتے ہیں: حمدوثناء کا مستحق ہے وہ پروردگار جس نے افکار کو اپنی حقیقت تک پہنچنے سے قاصر بتایا ہے اور عقلوں کو اپنی اس ذات کے تصور سے کہ جو بے شبیہ ہے دور رکھا ہے اس کی ذات میں کوئی تفاوت نہیں ہے وہ عدد کے ذریعہ نہ شمار کے دائرے میں آسکتا ہے اور نہ قابل تجزیہ ہے۔ وہ تمام چیزوں سے جدا ہے لیکن اس معنی میں نہیں کہ وہ ان سے دور ہے۔(۴۳)
حضرت کا یہ بھی ارشاد ہے: حمدوثناء مخصوص ہے اس پروردگار سے جو واحد ویگانہ ہے بے نیاز ہے اس کا وجود کسی چیز کی وجہ سے نہیں اس نے اپنی مخلوق کو کسی چیز سے پیدا نہیں کیا وہ اپنی قدرت وغلبہ کے ذریعہ تمام چیزوں سے جدا ہے اور تمام چیزیں اس سے جدا ہیں اس نے ان اشیاء کو ان کی تخلیق کے موقع پر محدود قرار دیاتاکہ یہ واضح وآشکار ہو جائے کہ وہ اس سے مشابہ نہیں ہے اور نہ وہ اشیاء اس سے مشابہ ہیں۔ (۴۴)
ایک جگہ حضرت نے یہ فرمایا ہے کہ حمدوثناء اس خد اکے لیے ہے جس کا وجود کسی چیز کی وجہ سے نہیں ہے اس نے مخلوقات کو کسی چیز کی وجہ سے پیدا نہیں کیا وہ صفات میں اپنی مخلوقات سے جدا ہے۔ (۴۵)
اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ پروردگار تمام مخلوقات سے جدا ہے اور یہ بات واضح ہے کہ خالق ومخلوق کے درمیان جدائی درحقیقت یکسانیت کی نفی کے ساتھ ہے۔ تمام صفات میں جدائی سے مراد یہ نہیں ہے کہ خالق ومخلوق کے درمیان فقط صفات میں جدائی برقرار ہے اور ذات میں جدائی نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس حدیث میں صفت کے معنی متصف ہونے کے ہیں۔ یعنی پروردگار صفت میں اپنی مخلوق سے جدا ہے اور اس وجہ سے کہ صفات پروردگار عین ذات ہیں۔ درحقیقت حدیث مذکورہ باعتبارذات جدائی کی تاکید کرتی ہے۔ اس کے علاوہ مذکورہ حدیث بخوبی خالق ومخلوق کے مابین تبائن ذاتی کو آشکار کررہی ہے اس لیے کہ اگر یہ فرض کرلیاکہ پروردگار ذات کے اعتبار سے اپنی مخلوق کے ہم جنس ہے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ پروردگار اپنی مخلوق سے مشابہت رکھتا ہے۔ حالانکہ روایت بارگاہ ربوبی سے تمام اوصاف کی نفی کرتی ہے نتیجہ یہ ہے کہ حدیث مذکورہ اس بات کی نفی کرتی ہے کہ پروردگار اپنے مخلوق کے ہم جنس ہے۔
ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ حضرت امیرعلیہ السلام سے پوچھا گیا۔ کہ آپ نے اپنے رب کو کس چیز سے پہچانا؟ حضرت(ع) نے فرمایا اس چیز سے کہ جس کا اس نے حکم دیا ہے۔
حضرت سے سوال کیا گیا کہ پروردگار نے کس طرح اپنے کو پہچنوایا ہے؟ حضرت(ع) نے فرمایا: نہ کوئی صورت اس سے مشابہت رکھتی ہے اور نہ حواس کے ذریعہ اس کو محسوس کیاجاسکتا ہے اور نہ لوگوں پر اس کا قیاس کیاجاسکتا ہے۔ وہ دور ہوتے ہوئے بھی قریب ہے اور قریب ہوتے ہوئے بھی دور ہے۔ وہ ہر چیز کے اوپر ہے لیکن اس کے بارے میں یہ نہیں کہاجاسکتا کہ فلاں چیز اس کے اوپر ہے۔ وہ ہر چیز کے آگے ہے اس کے لیے یہ نہیں کہاجاسکتا کہ کوئی چیز اس سے آگے ہے وہ تمام اشیاء میں داخل ہے لیکن اس طرح نہیں کہ اس کے بارے میں یہ کہاجائے کہ فلاں چیز اس میں داخل ہے۔پاک ومنزہ ہے وہ ذات کہ جو ایسی ہی ہے اور اس کا غیر یہ صفات نہیں رکھتا۔ (۴۶)
اس روایت میں امام علیہ السلام نے یہ پیغام دیا ہے کہ پروردگار کی نہ کوئی شبیہ ہے کسی بھی صورت میں اس کا کوئی ہم جنس نہیں ہے اور نہ مخلوقات کے درمیان کوئی شبیہ رکھتا ہے۔ خالق ومخلوق کے درمیان مکمل طور پر تباین وجدائی برقرار ہے۔ گویا ان بیانات نے خالق ومخلوق کے درمیان تباین سے متعلق مزید توضیح سے بے نیاز کردیا ہے۔ حضرت(ع) نے اس جملے میں جس چیز کی تاکید فرمائی ہے وہ یہ کہ مقدس بارگاہِ الٰہی ہرقسم کی تشبیہ اور ہم جنس جو قابل تصور ہو اس سے دور ہے مذکورہ فرمان میں آخری جملے انتہائی لطافت سے بھرپور ہیں اس طرح کہ اگر ہم اس سے متعلق (یعنی اللہ) کو سنخیت وہم جنسیت کو قبول کرلیں تو ہم ہرگز اس کی تشریح نہیں کرسکتے۔
یہ کہ امام(ع) فرماتے ہیں: ’’قریب فی بعدہ وبعید فی قربہ‘‘ یہ فقرہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ سنخیت درمیان میں نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس کے کوئی معنی نہیں ہیںکہ جو چیز دور ہو وہ قریب بھی ہو اور جو چیز نزدیک ہو وہی چیز دور بھی ہو۔
حضرت علی(ع) ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: وہ تمام اشیاء سے قریب ہے (لیکن اس طرح کہ) وہ ان سے ملا ہوا نہیں ہے اور ان سے دور بھی ہے (لیکن اس طرح کہ) وہ ان سے جدا بھی نہیں ہے۔ وہ متکلم ہے لیکن اس طرح کہ اس کو پہلے سے) غوروفکر اور ارادہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے وہ صانع ہے۔ (لیکن ایسا کہ) وہ اعضاء وجوارح کا محتاج نہیں ہے۔(۴۷)
مذکورہ فرمان میں اس عبارت سے ’’قریب من الاشیاء غیر ملابس وبعیدمنھا غیر مباین‘‘ کم از کم دوحقیقتوں تک رسائی ہوسکتی ہے:
پہلی حقیقت یہ کہ خارج میں دو حقیقتیں موجود ہیں ان میں عینیت درکار نہیں ہے۔ یہ تعبیر اور وہ تمام روایات جن میں یہ مضمون نقل ہوا ہے وہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ دوحقیقتیں موجود ہیں ایک وہ کہ جو بذات خود قائم ہے دوسری وہ کہ جو اپنے قائم ہونے میں دوسرے کی محتاج ہے۔
دوسری حقیقت یہ کہ خالق ومخلوق کے درمیان کوئی سنخیت نہیں ہے اور اس سے متعلق ہر قسم کی مشابہت جو ہمارے ذہن میں آئے وہ ممنوع ہے۔
اس روایت میں حضرت(ع) نے فرمایا: ’’قریب من الاشیاء وغیر ملابس‘‘عموماً ایسی دوچیزیں جو ایک دوسرے سے نزدیک ہوں ان کے درمیان مناسبت ہوتی ہے۔ لیکن ذات پروردگار باوجودیکہ تمام اشیاء سے نزدیک ہے اور انسان کی شہ رگ سے زیادہ اس سے قریب ہے۔ وہ مخلوقات کے ساتھ ملابست نہیں رکھتا لیکن اس اعتبار سے کہ تمام چیزیں پروردگار کی وجہ سے قائم ہیں۔ درحقیقت وہ تمام اشیاء سے خود ان سے زیادہ قریب ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان سے جدا بھی ہے اور دور بھی ہے۔ لیکن اس معنی میں نہیں کہ وہ بُعْدِ مکانی رکھتا ہے کہ وہ یعنی پروردگار کسی ایک جگہ ہو اور دیگر تمام اشیاء دوسری جگہ پر ہوں یہاں باعتبار مکان جدائی مراد نہیں ہے بلکہ باعتبار حقیقت ذات جدائی مراد ہے۔
حضرت علی علیہ السلام اس حدیث میں سلسلۂ بیان کو جاری رکھتے ہوئے خالق ومخلوق کے درمیان مشابہت کی نفی کے بعد فرماتے ہیں: پروردگار متکلم ہے لیکن اس طرح نہیں جیسا کہ مخلوق کلام کرتی ہے اس لیے کہ مخلوق پہلے سوچتی ہے پھر کلام کرتی ہے خداوندعالم صاحب ارادہ ہے لیکن انسان کے مانند نہیں کہ جو اس مقصد کے لیے پہلے کچھ مقدمات کی فراہمی کا محتاج ہوتا ہے۔ مثلاً تصور، تصدیق، شوق، عزم۔
خداوندعالم خالق ہے لیکن مخلوق کے مانند خالق نہیں ہے لیکن مخلوق کچھ آلات کے ذریعہ کسی چیز کو وجود میں لاتی ہیں۔(۴۸)
وحدت شخصی وجود اور توحید پروردگار
وہ تمام روایات جو شرائط توحید سے مربوط فصل میں بالخصوص نفی سنخیت کی بحث میں گزر چکی اور ان کے علاوہ دیگر بکثرت احادیث سب خدا اور مخلوق کے درمیان نفی سنخیت پر گواہی دیتی ہیں۔
بنابریں بعض عرفاء کے اس نظریے کا بطلان بھی ظاہر ہوجاتا ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ خالق ومخلوق کے درمیان عینیت ہے اور یہ کہ موجود حقیقی وجود لاشریک میں منحصر ہے۔ اور یہ کثرت جو ہر طرف نظر آتی ہے یہ درحقیقت عین وجود پروردگار ہے۔ ابن عربی فصول الحکم میں کہتے ہیں: عارف وہ شخص ہے جو خدا کو تمام چیزوں میں بلکہ تمام چیزوں کا عین سمجھتا ہے۔(۴۹)
اسی طرح دوسری جگہ لکھتے ہیں: پاک ومنزہ ہے وہ ذات جس نے تمام چیزوں کو ظہور بخشا ہے اور تمام چیزیں بعینہ وہ ہی ذات ہیں۔ (۵۰)
صدر الدین شیرازی کہتے ہیں:میرے پروردگار نے آسمانی دلیلوں کے ذریعہ اس طرح راہ مستقیم دکھائی کہ وجود اور موجود اور جو کچھ بھی ہے وہ سب ایک ہی حقیقت میں منحصر ہے۔۔۔اور در حقیقت خدا کے علاوہ کوئی موجود ہی نہیں۔ دنیا میں جو کچھ بھی واجب معبود کے علاوہ وجود دکھائی دیتا ہے وہ صرف اس کی ذات کا ظہور اور صفات کی تجلی ہے جو وہ بھی درحقیقت اسی کا عین ذات ہے۔ جیسا کہ عرفا کی زبانی اس حقیقت کی تصریح ہوئی ہے(۵۱)۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۲۶) التوحید، ص ۸۳، ح ۲ ۔
۲۷) نہج البلاغہ، خطبہ ۱۰۶ ۔ ۲۸
)نمونہ کے دیکھیے خطبہ ۱ و ۸۷ و ۱۰۸ ۔
۲۹) نہج البلاغہ، خط ۳۱ ۔
۳۰) التوحید، ص ۳۲، ح ۱ ۔
۳۱) نہج البلاغہ، خطبہ ۱۸۱ ۔
۳۲) التوحید، ص ۸۳ ۔
۳۳) نہج البلاغہ، خطبہ ۱۵۲ ۔
۳۴) دیکھیے ملکی میانجی، محمدباقر، توحید الامامیہ، فصل ششم و ہفتم۔
۳۵) نہج البلاغہ، خطبہ ۱۴۵ ۔
۳۶) نہج البلاغہ، خطبہ ۱ . اسی طرح کا مطلب امام رضا علیہ السلام کے کلام میں بینا ہوا ہے۔ دیکھیے: التوحید، ص ۳۴، ح ۲ ۔
۳۷) الاحتجاج، ج ۱، ص ۲۹۸ ۔
 ۳۸) التوحید، ص ۴۲، ح ۳ ۔
 ۳۹) التوحید، ص ۵۲، ح ۱۳؛ دیکھیے:نہج البلاغہ، خطبہ ۸۷ ۔
۴۰) نہج البلاغہ، حکمت ۴۷۰ ۔
 ۴۱) الاحتجاج، ج ۱، ص ۲۹۹ ۔
 ۴۲) نہج البلاغہ، خطبہ ۱۵۲ ۔
 ۴۳) التوحید، ص ۷۳، ح ۲۷ ۔
 ۴۴) سابق، ص ۴۱، ح ۳ ۔
 ۴۵) التوحید، ص ۶۹، ح ۲۶ ۔
 ۴۶) التوحید، ص ۲۸۵، ح ۲ ۔
 ۴۷) نہج البلاغہ، خطبہ ۱۷۹ ۔
 ۴۸) سنخیت کی بحث کے سلسلہ میں کتاب ’’تنبیہات حول المبدء و المعاد‘‘،   ۵۳- ۹۵  کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے۔
 ۴۹) شرح فصوص الحکم، قیصری، ص ۴۳۶ ۔
 ۵۰) الفتوحات المکیہ، ج ۲، ص ۶۰۴ ۔
 ۵۱) الاسفار الاربعہ، ج ۲، ص ۲۹۲ ۔

(ماہنامہ اصلاح لکھنؤ، امیرالمومنین(ع) نمبر، رمضان ۱۴۴۰ھ)


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین