Code : 3484 31 Hit

توحید حضرت علی علیہ السلام کی نظر میں(1)

امام(ع) نے دوسری روایات میں توحید کے نتائج وثمرات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے۔ مثلاً نہج البلاغہ کے دوسرے خطبہ میں ارشاد فرماتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے ایسی گواہی جس کا خلوص پرکھا جاچکا ہے جس پر عقیدہ خلوص نیت کے ہمراہ ہے جب تک ہم زندہ رہیں گے۔ اس سے متمسک رہیں گے اور مستقبل میں پیش آنے والے سخت ترین دنوں کے لیے اس کو ذخیرہ بناکر رکھیں گے ایسی گواہی ہمارے مضبوط ومستحکم ایمان کی نشانی اور ہماری نیکیوں کا راز اور خوشنودیٔ پروردگار کا ذریعہ ہے اور شیطان سے دوری کاسبب ہے۔

تحریر: آیت اللہ سید جعفر سیدان
ترجمہ : حجۃالاسلام مولانا شمس الحسن عارفی(استاذ جامعہ ناظمیہ لکھنؤ )
(نوٹ: اس مقالے میں ’’حضرت علی(ع) کی نگاہ میں توحید‘‘ سے بحث کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ خدا شناسی سے متعلق وہ مباحث جن کے بارے میں امام علیہ السلام نے اپنے گرانقدر افکار و خیالات کا اظہار فرمایا ہے وہ اس مقالے میں شامل نہیں ہیں)۔
اس مقالے میں روایات حضرت علی(ع) سے استفادہ کرتے ہوئے مندرجہ ذیل عناوین سے بحث کی گئی ہے: (۱) اہمیت وآثار توحید۔ (۲) توحید کے معنی اور اقسام۔ (۳) ادلۂ توحید۔ (۴) خصوصیات توحید۔
اہمیت وآثار توحید: اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اصول دین میں’ ’اصلِ توحید‘‘ ایک خاص عظمت واہمیت کی حامل ہے اس طرح کہ تمام اصول دین کی بنیاد اسی اصل پر ہے (یعنی توحیدپر) بنابریں حضرت علی(ع) کی نگاہ میں اصل توحید اور اس کے آثار ونتائج کی خاص اہمیت ہے اور اسی لیے حضرت علی(ع) نے اپنے ارشادات میں توحید کا بکثرت ذکر فرمایا ہے۔ ایک روایت میں حضرت علی(ع) آنحضرت(ص) کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ آنحضرت(ص) نے ارشاد فرمایا ’’التوحید نصف الدین‘‘ یعنی توحید نصف دین ہے۔(۱)
اور خود حضرت علی(ع) نے فرمایا: پروردگار عالم نے انسان کے اعضاء بدن میں مقام زبان کو عظمت بخشی ہے۔ (جس سے انسان کلمۂ توحید ادا کرتا ہے) اور قرآن نے توحید کا تذکرہ فرمایا ہے۔ (۲)
حضرت علی علیہ السلام نے بعض احادیث میں اصل توحید کی فضیلت اور اس کے عظیم اجروثواب کو بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ حضرت(ع) کا ارشاد گرامی ہے۔ ’’جب بھی کوئی بندۂ مسلم اپنی زبان سے کلمہ لاالہ الااللہ ادا کرتا ہے تو اس کی یہ گفتار ہر رکاوٹ کو دور کرتے ہوئے بلندی تک پہنچتی ہے اور گناہ سے محفوظ رکھتی ہے یہاں تک کہ اس کو اطمینان قلب حاصل ہوجاتا ہے۔(۳)
حضرت امام رضا علیہ السلام حدیث سلسلۃ الذہب کے آخر میں حضرت علی علیہ السلام کے حوالے سے آنحضرت(ص) کا یہ قول نقل فرماتے ہیں کہ حضرت جبرئیل امین نے اللہ کی جانب سے بیان فرمایا ہے ’’میں خدائے یگانہ ہوں، اے میرے بندو! میری عبادت کرو جو بندہ خلوص نیت کے ساتھ کلمہ ’’لاالہ الااللہ‘‘ کہے گا وہ میرے قلعہ میں داخل ہوجائے گا اور جو میرے قلعہ میں داخل ہوگا وہ میرے عذاب سے امان میں ہوگا۔
حضرت امام رضا علیہ السلام سے پوچھا گیا: اے فرزند رسول! اخلاص سے مراد کیا ہے؟ حضرت نے فرمایا: (اخلاص سے مراد) خدا اور رسول کی اطاعت اور ولایت اہل بیت(ع) کو قبول کرنا ہے۔ (۴)
دوسری روایت میں حضرت علی(ع) نے حضرت رسول خدا(ص) کے حوالے سے فرمایا ’’توحید پر اعتقاد کا نتیجہ بہشت میں داخل ہونا ہے۔
آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا: جو شخص اس دنیا سے اٹھے اس حال میں کہ اس نے کسی چیز کو اللہ کا شریک نہ قرار دیا ہو اس سے نیکی سرزد ہویا برائی وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (۵)
دوسری جگہ حضرت(ع) ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے آنحضرت(ص) سے سنا کہ آپ نے آیہ کریمہ ’’ھل جزاء الاحسان الاالاحسان‘‘ کے بارے میں فرمایا: اللہ ارشاد فرماتا ہے ’’جو شخص توحید کو دوست رکھے میں اس کو بہشت کے علاوہ کوئی جزاء نہیں دوں گا۔ (۶)
امام(ع) نے دوسری روایات میں توحید کے نتائج وثمرات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے۔ مثلاً نہج البلاغہ کے دوسرے خطبہ میں ارشاد فرماتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے ایسی گواہی جس کا خلوص پرکھا جاچکا ہے جس پر عقیدہ خلوص نیت کے ہمراہ ہے جب تک ہم زندہ رہیں گے۔ اس سے متمسک رہیں گے اور مستقبل میں پیش آنے والے سخت ترین دنوں کے لیے اس کو ذخیرہ بناکر رکھیں گے ایسی گواہی ہمارے مضبوط ومستحکم ایمان کی نشانی اور ہماری نیکیوں کا راز اور خوشنودیٔ پروردگار کا ذریعہ ہے اور شیطان سے دوری کاسبب ہے۔
توحید الٰہی پر ایمان کے بعض آثار ونتائج:
(۱)نجات وحفاظت کا وسیلہ ہے۔ (۲) مستقبل میں پیش آنے والی سختیوں اور پریشانیوں کے لیے ایک ذخیرہ ہے۔ (۳) ایمان کے مستحکم ہونے کی ایک پہچان ہے۔ (۴) احسان ونیکی کا عنوان ہے۔ (۵) خوشنودیٔ پروردگار کا ایک سبب ہے۔ (۶) شیطان سے جنگ کرنے کا ایک وسیلہ ہے۔
حضرت علی علیہ السلام نے دوسری جگہ کلمۂ اخلاص (یعنی لاالہ الااللہ) کو خدا تک پہنچنے کا بہترین وسیلہ قرار دیا ہے۔ چنانچہ حضرت (ع) ارشاد فرماتے ہیں: جو افراد خدائے سبحان تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرتے ہیں ان کے لیے بہترین وسیلہ خدا ورسول پر ایمان لانا ہے۔ اور اس کی راہ میں جہاد کرنا ہے۔ اور کلمۂ توحید کہ وہ فطرت کی آواز ہے۔ (۷)
دوسری جگہ حضرت(ع) نے مسلمانوں کے حقوق اور توحید الٰہی کے درمیان ارتباط کا بھی تذکرہ فرمایا ہے۔ ’’پروردگار عالم نے کلمۂ اخلاص کے ذریعہ مسلمانوں میں سے ہر ایک کے دوسرے سے مربوط حقوق کو مستحکم قرار دیا ہے۔ (۸)
عقیدۂ توحید کی عظمت اور اس کے آثار اس سے کہیں زیادہ بیان کیے گئے ہیں۔ اس مقالہ میں تمام مطالب کو پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ لہٰذا اس عنوان کو یہیں پر تمام کرتے ہوئے دیگر مباحث کو پیش کرتے ہیں۔
توحید کے معنی اور اس کے اقسام: توحید سے کیا مراد ہے؟ اس سوال کی عظمت واہمیت اس اعتبار سے اور زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ ایک انسان کے ایمان واسلام کی لازمی شرط صحیح توحید کی معرفت ہے۔ درحقیقت آثار توحید کی عظمت واہمیت کی بنیاد صحیح توحید کی معرفت ہے۔ جس کو قرآن وسنت کے عقلی وقطعی اصول سے درک کیا گیا ہو۔
مفکرین اسلامی کے درمیان توحید کے مختلف معانی بیان کیے گئے ہیں یہ حقیقت اہمیت موضوع میں مزید اضافہ کا سبب ہے۔ اس فصل میں حضرت علی علیہ السلام کے اقوال کی روشنی میں توحید کے معانی بیان کرنے کے ساتھ ہم اس بات کی کوشش کریں گے کہ مطالب حقہ تک ہماری رسائی ہوسکے۔ توحید کے معنی ہیں پروردگار عالم کا ایک ہونا اس وحدت ویگانگی پر مختلف پہلوئوں سے بحث کی جائے گی ان میں اہم ترین پہلو، توحید ذاتی، توحید صفاتی، توحید افعالی، توحید عبادی ہیں۔
توحید ذاتی: حضرت علی(ع) کی نظر میں توحید ذاتی کے معنی یہ ہیں کہ پروردگارکا نہ کوئی شریک ہے نہ کوئی مثل ہے اور نہ کوئی جز ہے اس اعتبار سے توحید کے دیگر معانی چاہے وہ توحید عددی ہو یا توحید نوعی ہو پروردگار سے متعلق صحیح نہیں ہیں۔
حضرت علی(ع) نے ایک روایت میں واحد کے معانی بیان فرمائے ہیں اور اس سے متعلق معانیٔ حقہ کو مشخص فرمایا ہے۔ شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ جنگ جمل میں ایک اعرابی نے حضرت علی علیہ السلام سے سوال کیا۔ کیا خدا واحد ہے؟ حضرت (ع) کے اصحاب نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا یہ سوال کا کون سا موقع ہے جب کہ حضرت(ع) مصروف جنگ ہیں؟ حضرت(ع) نے فرمایا اس کو سوال کرنے دو ہماری جنگ بھی اسی بنیاد پر ہے۔ اس موقع پر حضرت نے فرمایا: اے اعرابی! اللہ واحدہے اس قول سے متعلق چار صورتیں ممکن ہیں ان میں دو صورتیں ’’اللہ‘‘ کے بارے میں جائز نہیں ہیں اور دوصورتیں اس کے بارے میں جائز ہیں۔ لیکن دو صورتیں جو اللہ کے بارے میں جائز نہیں ہیں وہ یہ ہیں:
پہلی صورت: اگر کوئی کہنے والا لفظ واحد کہے اور اس کا مقصد عدد ہو تو یہ جائز نہیں ہے اس لیے جس کا کوئی ثانی نہ ہو وہ فہرست اعداد میں شامل نہیں ہوگا۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ وہ شخص کافر ہے جو یہ کہے ’’ثالث ثلٰثۃ‘‘۔ (یعنی تین میں کا تیسرا)
دوسری صورت: اگر کوئی شخص یہ کہے ’’ھوواحد من الناس‘‘ اور اس کے ذریعہ نوع کا ارادہ کرے تو یہ مفہوم اللہ کے لیے جائز نہیں ہے اس لیے کہ تشبیہ ہے اور ہمارا رب اس سے بلند وبالا ہے۔
اور دوصورتیں اللہ کے بارے میں جائز ہیں ان میں سے پہلی صورت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے’’ ھوواحد لیس لہ فی الاشیاء شبہ ‘‘یعنی خدا ایک ہے تمام اشیاء میں کوئی اس کے مشابہ نہیں ہے یقینا ہمارارب ایسا ہی ہے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ اگر کوئی کہے ’’انہ احدی المعنی‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ وجود کے اعتبار سے نہ اس کی تقسیم کی جاسکتی ہے اور نہ عقل ووہم کے اعتبار سے اس کی تقسیم ممکن ہے’’ کذالک ربنا‘‘۔ (۹)
اس روایت کی بنیاد پر واحد کے چار معنی ہیں:(۱) واحد عددی۔ (۲) واحد نوعی۔ (۳) واحد بمعنیٔ موجود بے نظیر۔ (۴) واحد بمنی موجود ناقابل تقسیم۔ پہلے اور دوسرے معنی اللہ کے لیے ناجائز ہیں اور تیسرے اور چوتھے معنی اللہ کے لیے جائز ہیں۔
تشریح:
توحید عددی: اس سے مراد وہ واحد ہے جو کثرت اور تعدد کو قبول کرتا ہو چاہے یہ کثرت ایک دوسرے کے ساتھ ہم جنس ومشابہ نہ ہو جب ہم کسی موجود کے لیے لفظ واحد استعمال کرتے ہیں تو اس موجود کے لیے دو، تین وغیرہ کا تصور بھی ممکن ہے اس قسم کے واحد کو اللہ کے لیے استعمال نہیں کرسکتے اس لیے کہ ذات پروردگار تعدد بردار نہیں ہے اور نصاریٰ یہ کفرآمیز جملہ کہتے ہیں:’’ ان اللہ ثالث ثلٰثہ‘‘۔ (سورہ مائدہ آیت؍۷۳)
درحقیقت وہ خد اکے واحد عددی ہونے پر اعتقاد رکھتے ہیں۔
حضرت امیرعلیہ السلام نے مختلف انداز سے پروردگار عالم سے متعلق واحد عددی کی نفی فرمائی ہے۔ واحد عددی کی مذکورہ تعبیرات کے علاوہ دیگر تعبیرات کی جانب بھی اشارہ ممکن ہے۔
واحد لابعددیعنی یگانہ ہے لیکن شمار کے ذریعہ نہیں۔ (۱۰)
الاحدبلاتاویل عدد۔ یعنی وہ یگانہ ہے لیکن عدد کے معنی میں نہیں۔ (۱۱)
واحد لامن عدد۔ یعنی وہ یگانہ ہے لیکن عدد کے ذریعہ نہیں۔ (۱۲)
توحید نوعی: اس سے مراد وہ واحد ہے جو تعدد بردار ہو جنس کے اعتبار سے مماثلت رکھتا ہو۔ لفظ نوع یہ ان افراد پر بولا جاتا ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ مشابہت رکھتے ہوں اور ہم جنس ہوں۔ (۱۳)
مثلاً جب یہ کہاجاتا ہے ’’لیس ھٰذا من نوع ذالک‘‘ تو اس سے مراد یہ ہے کہ یہ دو چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ مشابہ اور ہم جنس نہیں ہیں۔ (۱۴)
اسی طرح جب کسی کے بارے میں کہتے ہیں: ’’واحد من الناس‘‘ تو اس سے مقصد یہ ہوتا ہے متشابہ اور ہم جنس افراد میں سے ایک ہے۔
اس بنا پر وحدتِ نوعی میں تعدد اور تشابہ پایاجاتا ہے۔ واحد نوعی نوع کے دیگر افراد کے ساتھ ہم جنس اور متشابہ ہے اس طرح یہ نہیں کہاجاسکتا کہ خدا وندعالم واحد نوعی ہے اس لیے کہ اس کا لازمہ یہ ہوگا کہ پروردگار عالم دیگر افراد کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے۔
اس اعتبار سے جب ائمہ معصومین علیہم السلام یہ فرماتے ہیں: ’’اللہ شیء‘‘ تو اس کے ساتھ یہ بھی اضافہ فرماتے ہیں ’’لاکالا شیاء‘‘ (۱۵) یعنی خدا شئے ہے لیکن دیگر اشیاء کے مانند نہیں ہے۔
توحید بمعنائے بے نظیر وبے شبیہ
حضرت علی علیہ السلام وحدت عددی اور وحدت نوعی کی نفی فرمانے کے بعد اللہ کے لیے وحدت کے دوسرے معانی بیان فرماتے ہیں: (۱) واحد لیس لہ فی الاشیاء شبہ۔ یعنی وہ واحد کہ تمام اشیاء میں کوئی بھی شئی اس کے مشابہ نہیں ہے۔
ہم اپنی بحث میں توحید کے اس معنی کے خصوصیات کو تفصیل سے بیان کریں گے۔
(۲) یعنی واحد کے دوسرے معنی ہیں کہ جو تجزیہ اور تقسیم کو قبول نہ کرتا ہو۔
توحید کے اس دوسرے معنی میں ذات پروردگار سے ہرقسم کے تجزیہ اور تقسیم کی نفی کی گئی ہے چاہے وہ تقسیم خارجی ہو یا عقلی ہو یا وہمی ہو۔ (۱۶)
خدا کے بارے میں اس کا تصور نہیں کیاجاسکتا جیسا کہ حضرت امیر فرماتے ہیں کہ اللہ کے بارے میں تجزیے (یعنی جزء جزء ہونا) اور تبعیض کا تصور ناممکن ہے۔ (۱۷)
حضرت امیر علیہ السلام کا یہ بھی ارشاد ہے کہ پروردگار جزء نہیں رکھتا کہ جس کے ذریعہ اس کی توصیف کی جاسکے اور نہ وہ اعضاء وجوارح رکھتا ہے جن کے ذریعہ اس کی توصیف ممکن ہو۔ اور نہ وہ عرض ہے اور نہ پروردگار کی اس طرح توصیف ممکن ہے کہ اس کے بارے میں یہ کہیں کہ وہ دوسروں کا غیر ہے۔ (۱۸)
اس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ ذات پروردگار میں ترکیب کا کوئی گذر نہیں اور نہ وہ تجزیہ اور تحلیل کو قبول کرتا ہے۔ اس کی فاعلیت فاعلیتِ ارادی ہے۔ اس کی لامن شی سے ہے اور نہ یہ کہ اس کی خلقت کسی دوسرے کے فیضان کے سبب ہے (یعنی کسی دوسرے نے اس کو وجود نہیں بخشا) اور نہ یہ کہ تمام موجودات اس کے ہم جنس بلکہ اس کے عین وجود ہوں۔
دوم: توحید صفاتی: اس سے مراد یہ ہے کہ جس طرح پروردگار ذات کے اعتبار سے یگانہ وبے مثل ہے اسی طرح اپنے صفات کمالیہ میں بھی یگانہ و بے مثل ہے اس کے صفات میں کوئی اس کا مثل ونظیر نہیں ہے۔
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں: اللہ کے علاوہ ہر غلبہ وطاقت والا عاجز وناتواں ہے اور اس کے علاوہ ہر مالک مملوک ہے۔ اور ہر عالم اس کے علاوہ طالب علم ہے اور اس کے علاوہ ہر قدرتمند کمزور وناتواں ہے۔ (۱۹)
ان کلمات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ صفات پروردگار اس سے مخصوص ہیں کوئی دوسرا ان میں شریک نہیں ہے۔ کوئی بھی عالم وقادر، مالک اس کے بالمقابل نہیں ہے بلکہ سب اسی کی وجہ سے عالم وقار ومالک ہیں۔ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ تمام اشیاء کے صفات وکمالات خدا کے صفات ہیں اوران کے علاوہ خدا کی مطلقاً صفات وکمال نہیں ہیں۔ اس لیے کہ دلیل اس مطلب پر دلالت کرتی ہے کہ انسان کے صفات کمالی جیسے قدرت وحیات خود اسی سے مربوط ہیں نہ یہ کہ وہ صفات پروردگار ہیں دوسرے لفظوں میں یوں کہاجائے کہ تمام موجودات کے صفات وکمالات خدا کے ارادے کے سبب ہیں لیکن اس کے صفات نہیں ہیں۔
توحید افعالی: اس سے مراد یہ ہے کہ اس دنیا میں تمام امور پروردگار کے ارادے اور مشیت سے انجام پاتے ہیں۔
یہ بات واضح ہے کہ یہ انسان کے اپنے افعال میں صاحب اختیار ہونے سے کوئی منافات نہیں رکھتی اس لیے کہ فعل اختیاری کے مقدمات میں سے خود اختیار ہے کہ اللہ نے اس قدرت واختیار کا انسان کومالک بنایا ہے۔ اللہ کا ارادہ ومشیت انسان کے فعل اختیاری سے متعلق ہے۔
لیکن مکتب فلسفہ وعرفان کی جانب سے توحید افعالی سے متعلق کچھ نظریات وارد ہوئے ہیں جو صحیح نہیں معلوم ہوتے مثلاً یہ کہ ارادۂ خدا وندی بلکہ اس کی ذات تمام موجودات کی علت تامہ ہے۔ انہیں میں سے افعال انسان بھی ہیں۔
اس نظریے سے بخوبی واضح ہے کہ بندے اپنے افعال میں مجبور ہیں اور ان کے اختیارات کا کوئی دخل نہیں ہے۔ دوسری جانب سے وحدت وجود وموجود کی بناء پر بھی چونکہ غیریت درکار نہیں ہے فعل کی نسبت انسان کی جانب مجازی ہے اور یہاں جبر وتفویض کا موضوع بھی نہیں ہے۔
لاہیجی شرح گلشن میں مراتب شہود کو بیان کرتے ہوئے کہ ان میں سے ایک توحید افعالی ہے تحریر فرماتے ہیں: حضرت حق تعالیٰ افعال کی تجلی میں سالک پر متجلی ہوتا ہے اور سالک صاحب تجلی تمام افعال واشیاء کو حق تعالیٰ میں فانی سمجھتا ہے اور کسی بھی مرتبہ میں کوئی شئی علاوہ حق تعالیٰ کے اس کو نظر نہیں آتی اور وہ اس کے غیر کو مؤثر نہیں سمجھتا۔ (۲۰)
توحید عبادی: حضرت علی علیہ السلام اذان کی خوبیوں اور عظمتوں کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’اما قولہ اشھدان لاالہ الااللہ‘‘ جب مؤذن اس کلمہ کو ادا کرتاہے تو گویا اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ اس بات کو جان لو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اس کے علاوہ ہر معبود باطل ہے۔ (۲۱)
حضرت امیر علیہ السلام نے ایک دوسری حدیث میں فرمایا ہے کہ بعثت نبوی کے اہم مقاصد میں سے ایک مقصد لوگوں کو عبادت الٰہی کی جانب توجہ دلانا تھا۔ چنانچہ آ پ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’وہ خدا جس نے محمد(ص) کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے تاکہ اپنے بندوں کو اپنے بندوں کی پرستش سے اپنی عبادت کی جانب متوجہ کرے۔ (۲۲)
عبادت خشوع وخضوع کے معنی میں ہے اور مخلوقاتِ الٰہی میں سے کسی بھی مخلوق کی دوسری مخلوق کی مولویت اور مالکیت کی طرف نسبت نہیں ہے (یعنی اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا اس مخلوق کا مالک، مولی نہیں ہے تاکہ اس کی بارگاہ میں خشوع وخضوع لازم ہو اس لیے کہ فقط عبادت اور خشوع وخضوع کا مستحق حقیقی مالک ومولا ہے۔) یہ عبادت وخشوع وخضوع اس کی اطاعت وپیروی کے ساتھ ہوگی اسی لیے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام آیۂ کریمہ ’’واتخذوا من دون اللہ الخ‘‘ (۲۳)کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’وہ لوگ جنہوں نے خدائے متعال کے علاوہ دوسروں کو اپنا معبود قرار دیا ہے روز قیامت وہ معبود ان کی مخالفت کریں گے۔ اور وہ ان سے اور ان کی عبادت سے بیزاری اختیار کریں گے۔‘‘
پھر حضرت نے فرمایا: عبادت وپرستش فقط رکوع وسجود بجالانے کا نام نہیں ہے بلکہ اس کی اطاعت وفرمانبرداری ہی اس کی عبادت ہے۔ اور جو شخص بھی کسی مخلوق کی اللہ کی معصیت میں اطاعت کرے اس نے اس مخلوق کی عبادت کی ہے۔ (۲۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱) شیخ صدوق، التوحید، ص ۲۸، ح ۲۴ ۔
۲) بحار الانوار، محمدباقر مجلسی، ج ۳، ص ۱۳، ح ۳۱ ۔
۳) التوحید، ص ۲۱ ح ۱۲ ۔
۴) بحارالانوار، ج ۳، ص ۱۴، ح ۳۹ ۔
۵) التوحید، ص ۳۰، ح ۳۲ .دوسری احادیث میں لازمی شرط مثلا ولایت کو بیان کیا گیا ہے۔
۶) التوحید، ص ۲۸، ح ۲۹ ۔
۷) نہج البلاغہ، خطبہ ۱۰۶ ۔ ۸
) گذشتہ، خطبہ ۱۶۲ ۔
۹) التوحید، ص ۸۳، ح ۳ ۔
۱۰) نہج البلاغہ: خطبہ ۱۸۰ ۔
۱۱)خطبہ ۱۴۸ ۔
۱۲) التوحید: ص ۷۰ ح ۲۶ ۔
۱۳) ابن فارس، معجم مقاییس اللغۃ، ج ۵، ص ۲۷۰ ۔
۱۴)سابق، ص ۳۷۰ ۔
۱۵) کلینی، اصول کافی، ج ۱، ص ۔
۱۶) تقسیم خارجی مثلا انسان کی تقسیم بدن و روح کی طرف۔ تقسیم عقلی مثلا انسان کی تقسیم حیوان و ناطق۔ اور تقسیم وہمی مثلا انسان کی تقسیم دو دو حصوں کی طرف۔
۱۷) نہج البلاغہ، خطبہ ۸۱ ۔
۱۸) خطبہ ۱۷۹ ۔
۱۹) خطبہ ۶۵ ۔
۲۰) شرح گلشن راز، ص ۲۶۸ ۔
۲۱) شیخ صدوق، معانی الاخبار، ص ۳۹ ۔
۲۲) ثقۃ الاسلام کلینی، الکافی، ج ۸، ص ۳۸۶ ۔
۲۳) اور مشرکین نے خدا کو چھوڑ کر دوسرے خدا اختیار کرلئے ہیں تاکہ وہ ان کے لئے باعث عزّت بنیں۔ہرگز نہیں عنقریب یہ معبود خود ہی ان کی عبادت سے انکار کردیں گے اور ان کے مخالف ہوجائیں گے(سورہ مریم، آیت ۸۱ و ۸۲)۔
۲۴) تفسیر قمی، ج ۲، ص ۵۵ ۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین