Code : 1395 161 Hit

امام صادق علیہ السلام کی نظر میں شیعہ کون؟

امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:مجھے یہ سن کر خوشی ہوتی ہے اور اچھا لگتا ہے چونکہ ایسے لوگوں کو دیکھ کر یہ کہا جاتا ہے:کہ شیعہ ایسے ہی ہوتے ہیں یعنی اہل بیت(ع) کے چاہنے والے نہایت مودب و مہذب ہوتے ہیں۔لیکن اگر آپ کا اخلاق اچھا نہ ہوگا تو تمہاری بے ادبی و بد تہذیبی کا نقصان سب سے زیادہ ہمیں پہونچتا ہے چونکہ دوسرے تمہیں دیکھ کر کہیں گے کہ:یہ ان کے آئمہ(ع) کی تربیت کا نتیجہ ہے۔

ولایت پورٹل: انبیاء(ع) کی بعثت کے مقاصد میں سے سب سے اہم تزکیہ نفس اور کردار و اخلاق کا سنوارنا ہے اور اگر انبیاء(ع) نے امت کی تعلیم پر توجہ دلائی تو اس کا مقصد بھی تربیت ہی ہے جیسا کہ قرآن مجید میں نبی آخر حضرت محمد مصطفیٰ(ص) کی بعثت کے مقاصد کو اللہ نے بیان کیا ہے انہیں میں سے ایک یہ آئیہ کریمہ ہے:’’ هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ‘‘۔(سورہ جمعہ:۲)
ترجمہ: وہ (اللہ) وہی ہے جس نے اُمّی قوم میں انہیں میں سے ایک رسول(ص) بھیجا جو ان کو اس (اللہ) کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاکیزہ بناتا ہے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ اس سے پہلے یہ لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا تھے۔
لہذا آئمہ علیہم السلام نے بھی رسول اکرم(ص) کی سیرت کی تأسی اور اپنے منصب کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اپنی تعلیم و تبلیغ کا پورا زور اس بات پر صرف کیا ہے کہ امت با اخلاق اور با کردار بن جائے تاکہ معاشرے و اجتماع میں ان کے ذریعہ سے کسی کو کوئی نقصان نہ پہونچے۔
قارئین کرام! اخلاق دین کی روح ہے۔ اور اگر بغیر اخلاق کے دین کے احکام پر عمل کرلیا گیا تو اس سے خوارج بن کر نکلے گے۔طالبان بن کر نکلے گے،داعش اسی تفکر سے وجود میں آتی ہے۔
پس اخلاق اور تربیت؛ ہدایت کے محکم ستون ہیں اور ہمارے آئمہ(ع) نے ہر ہر قدم پر اپنے شیعوں کو اخلاق حسنہ کو اپنانے اور اپنے وجود میں بسانے پر تأکید فرمائی ہے اور یہ بتلایا ہے کہ اگر تم ہم سے منسوب ہونے پر افتخار کرتے ہو تو ایسے بنو کہ تمہاری وجہ سے لوگ ہم پر اور ہماری تربیت و قیادت پر انگلیاں نہ اٹھائیں:’’کونُوا لَنا زَيْناً وَ لا تَکونُوا عَلَيْنا شَيْناً‘‘۔ ہمارے لئے باعث زینت بننا باعث شرمندگی نہ بننا۔
یہ ایک شیعہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ کوئی ایسا کام نہ کرے جس سے آئمہ(ع) کو تکلیف پہونچے کوئی ایسا کام نہ کرے جس سے لوگ اسے شیعہ ہونے کا طعنہ نہ دے بلکہ ہمیشہ ایسا کام کرے جس سے لوگ میں یہ احساس ہو کہ شیعہ ہمشیہ بلند اقدار کے مالک ہوتے ہیں۔
اسی نکتہ کو سمجھنے کے لئے  کتاب کافی میں مرقوم ایک روایت پیش خدمت ہے: کہ ایک دن امام جعفر صادق علیہ السلام کے حضور کچھ اصحاب بیٹھے ہوئے تھے آپ نے ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:’’اگر تم میں سے کوئی سچا،امانتدار اور خوش اخلاق ہوتا ہے اور اس کی تعریف میں یہ کہا جاتا ہے کہ:’’یہ شخص شیعہ ہے‘‘۔
مجھے یہ سن کر خوشی ہوتی ہے اور اچھا لگتا ہے چونکہ ایسے لوگوں کو دیکھ کر یہ کہا جاتا ہے:کہ شیعہ ایسے ہی ہوتے ہیں یعنی اہل بیت(ع) کے چاہنے والے نہایت مودب و مہذب ہوتے ہیں۔
لیکن اگر آپ کا اخلاق اچھا نہ ہوگا تو تمہاری بے ادبی و بد تہذیبی کا نقصان سب سے زیادہ ہمیں پہونچتا ہے چونکہ دوسرے تمہیں دیکھ کر کہیں گے کہ:یہ ان کے آئمہ(ع) کی تربیت کا نتیجہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منبع:
اصول کافی ، ج ۲ ، ص ۶۳۶
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम