Code : 1296 32 Hit

بچوں کی تربیت میں روابط کا کردار

بچوں کی تربیت اور ان کی اخلاقی دیکھ بھال میں والدین اور اساتذہ کی بنیادی ترین ضرورت بچوں سے صحیح روابط کا ہونا ہے۔خود ماں باپ کے درمیان اچھے روابط بچوں کی اخلاقی تربیت میں مؤثر ہوتے ہیں۔یہ ان کی اخلاقی پرورش کے تکامل کا سب سے اہم اور بنیادی نکتہ ہے۔بچوں کی اخلاقی کوائف معلوم کرنے کیلئے بہترین کسوٹی خود افراد خانہ کے آپس میں روابط ہیں اسی وجہ سے آج افراد خانہ کو ’’ارتباطی سسٹم‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور معاشرے کی سلامتی اسی ارتباط کی سلامتی سے مربوط ہے کیونکہ گھریلو سلامتی کے بغیر سالم معاشرہ وجود میں نہیں آسکتا۔

ولایت پورٹل: بچوں کی تربیت اور ان کی اخلاقی دیکھ بھال میں والدین اور اساتذہ کی بنیادی ترین ضرورت بچوں سے صحیح روابط کا ہونا ہے۔خود ماں باپ کے درمیان اچھے روابط بچوں کی اخلاقی تربیت میں مؤثر ہوتے ہیں۔یہ ان کی اخلاقی پرورش کے تکامل کا سب سے اہم اور بنیادی نکتہ ہے۔
بچوں کی اخلاقی کوائف معلوم کرنے کیلئے بہترین کسوٹی خود افراد خانہ کے آپس میں روابط ہیں اسی وجہ سے آج افراد خانہ کو ’’ارتباطی سسٹم‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور معاشرے کی سلامتی اسی ارتباط کی سلامتی سے مربوط ہے کیونکہ گھریلو سلامتی کے بغیر سالم معاشرہ وجود میں نہیں آسکتا۔
سسٹم کیا ہے؟
ان افراد یا عناصر کے مجموعے کو سسٹم کہتے ہیں جو مشترک منافع اور اہداف کے حصول کی خاطر ایک دوسرے سے رابطہ رکھتے ہوں اور ان سے ایک حقیقت تشکیل پاتی ہو کہ اگر ان میں سے کوئی ایک کسی مشکل سے دوچار ہے تو اس کا اثر سارے افراد خانہ پر پڑتا ہے۔جیسا کہ فارسی کے مشہور شاعر نے کہا ہے:
                                                                                 چو عضوی بہ درد آورد روزگار
                                                                                     دگر عضوھا را نماند قرار
ترجمہ:اگر جسم کے کسی ایک حصہ میں درد ہو تو جسم کے دوسرے اعضا بھی بے چین رہتے ہیں۔
اس بنا پر معاشرے کے بچوں کی سلامتی کی بنیاد گھریلو سلامتی پر ہے اور گھریلو سلامتی افراد خانہ کے درمیان صحیح رابطہ کی وجہ سے ہوتی ہے۔
رابطہ کیا ہے؟
طرفین کے درمیان اطلاعات و احساسات کے تبادلہ کو رابطہ کہتے ہیں ۔مبادلہ، مفاعلہ کے وزن پر ہے ۔ تبادلہ ایک طریفینی اور دو جانبہ امر ہے۔ لہذا رابطہ متقابل سلسلے کا نام ہے۔
کونسا رابطہ سالم ہے؟
اچھے روابط خوشگوار ماحول میں طرفین کے درمیان اطلاعات کے تبادلے اور ایک دوسرے کی ہم آہنگی سے پیدا ہوتے ہیں اور یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب دونوں ایک دوسرے کے احساسات کا خیال رکھیں کیونکہ مجموعی طور پر انسان دو نظریئے کی بنیاد پر ایک دوسرے سے رابطہ رکھتا ہے:
۱۔ کرامت
۲۔ اہانت
یعنی روابط یا تو شخصیت کے احترام کے ذریعہ ہوتے ہیں اور یا شخصیت کی تحقیر کی بنیاد پر ۔اسی بنیاد پر اسلامی ممالک کے حکمرانوں اور استعماری حکمرانوں مثلاً امریکہ کے درمیان روابط سالم نہیں ہوسکتے کیونکہ وہ سامنے والے کی انسانی عظمت پر عقیدہ نہیں رکھتے لہذا یہ روابط احترام متقابل کی بنیادوں پر استوار نہیں ہوتے۔ وہ اسلامی حکومت کے حکمرانوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ قرآن مؤمنین کو مخاطب کرکے کہتا ہے:’’يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَتُلْقُونَ إِلَيْهِم بِالْمَوَدَّةِ ‘‘۔(سورہ ممتحنہ:۱)۔ ایمان والو خبردار میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بنانا کہ تم ان کی طرف دوستی کی پیش کش کرو۔
ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے:’’ فَأَعْرِضْ عَن مَّن تَوَلَّىٰ عَن ذِكْرِنَا وَلَمْ يُرِدْ إِلَّا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا‘‘۔(سورہ النجم:۲۹)۔ پس تم بھی ان سے منھ موڑ لو جو ہماری بات سے روگردانی کرتے ہیں اور صرف دنیاوی زندگی کے ہی جویا ہوتے ہیں۔
بہر کیف رابطہ چاہے کسی بنیاد پر ہو(چاہے کرامت کی بنیاد پر استوار ہوں یا تحقیر و اہانت کی بنیاد پر)اس کو مستحکم کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے اگر کوئی شخص مقابل کو باعزت سمجھے گا تو اس کی عزت میں اضافہ کی کوشش کرے گا اور اگر اس کو بے عزت خیال کرے گا تو اس کی تحقیر کے لئے سعی کرے گا۔ اسلام کی نظر میں صحیح رابطہ شخصیت کی تکریم ،عزت نفس اور متقابل کے احترام کی بنیاد پر استوار ہونا چاہیئے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’ وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ‘‘ ۔(سورۃ الاسراء:۷۰)۔ اور ہم نے بنی آدم کو کرامت عطا کی ہے۔
ارتباط کا اہم ترین ذریعہ
جن ذرائع سے انسان ایک دوسرے کے ساتھ رابط برقرار کرتا ہے ان میں سے ایک بات چیت ہے کیونکہ الفاظ ہی انسان کے احساسات و عواطف کی عکاسی کرتے ہیں اور الفاظ ہی کے ذریعہ اہداف و مقاصد اور نظریات آشکار ہوتے ہیں حقیقت میں انسان کی شخصیت اس کی زبان میں پوشیدہ ہوتی ہے جیسا کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا:’’ تَكَلَّمُوا تُعْرَفُوا، فَإِنَّ الْمَرْءَ مَخْبُوءٌ تَحْتَ لِسَانِهِ‘‘۔تم گفتگو کرو تاکہ پہچانے جاؤ، چونکہ انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا ہوا ہے۔(نہج البلاغہ، حکمت:۸۴۱)۔
گفتگو کے ذریعہ رابطہ
جدید تحقیقات کی رو سے معاشرہ کے پچاسی فیصد افراد بات چیت کے ذریعہ اور تقریباً پندرہ فیصد افراد لکھنے پڑھنے کے ذریعہ روابط برقرار کرتے ہیں۔گویا الفاظ، کلمات اور جملے انسانوں کے احساسات اور مطالب کو منتقل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ اطلاعات کی منتقلی اور دو لوگوں ے درمیان رابطے میں الفاظ کا کردار بہت اہم ہے جذباتی حوالے سے بھی الفاظ انسان کی روح میں بہت اثر چھوڑتے ہیں۔
چونکہ انسان کا رابطہ دوسرے کے ساتھ گفتگو اور بیان کے ذریعہ اکثر ہوتا ہے تو صحیح و سالم روابط کے لئے ضروری ہے کہ کہنے والا بھی اچھا ہو اور سننے والا بھی یعنی اطلاعات و احساسات و عواطف کے تبادلہ میں الفاظ کی نزاکت کی رعایت ضروری ہے چونکہ کبھی کبھی الفاظ ایسے ہوتے ہیں جو روابط کو خراب کردیتے ہیں اور اس ماحول میں مثبت بات کا اثر بھی منفی ہوجاتا ہے لہذا گفتگو کرتے وقت مناسب الفاظ کا انتخاب بھی ضروری ہے اور ساتھ ہی مناسب وقت کا بھی کیونکہ ان دونوں کا خیال رکھنا روابط کے استحکام کا باعث بنتا ہے۔مگر افسوس ہم روز مرہ کی گفتگو میں اور خاص طور پر اپنے چھوٹوں اور ان میں بھی بالاخص اپنے بچوں کے ساتھ ان باتوں پر توجہ نہیں دیتے ہیں چنانچہ الفاظ کی حساسیت اور ان کی اہمیت سے آشنا ہونے اور زندگی میں ان کے اہم آثار کو دیکھنے کیلئے قرآن مجید سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں:’’ أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللَّـهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ﴿24﴾تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا ۗ وَيَضْرِبُ اللَّـهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ ﴿25﴾ وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ اجْتُثَّتْ مِن فَوْقِ الْأَرْضِ مَا لَهَا مِن قَرَارٍ﴿26﴾۔(سورہ ابراہیم:۲۴ ۔۲۶)
ترجمہ: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے اچھی بات کی کیسی اچھی مثال بیان کی ہے (اچھی بات) گویا ایک پاکیزہ درخت ہے کہ اس کی جڑیں مضبوط اور اس کی ٹہنیاں آسمان تک پہنچی ہوئی ہے۔یہ درخت ہر زمانہ میں حکم پروردگار سے پھلا پھولا رہتا ہے اور خدا لوگوں کے واسطے اس لئے مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ لوگ نصیحت و عبرت حاصل کریں۔اور گندی بات کی مثال گویا ایک گندے درخت کی سی ہے جس کی جڑیں ایسی کمزور ہیں کہ زمین کے اوپر سے ہی اکھاڑ پھینکا جائے(کیونکہ) اس کو کچھ ٹہراؤ تو نہیں ہے۔
یا ارشاد ہوتا ہے:’’ إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ‘‘۔(سورہ فاطر:۱۰)۔ یعنی اسی کی بارگاہ تک اچھی باتیں پہونچتی ہیں اور اچھے کام کو وہ خود بلند کرتا ہے۔
اور اسی آئیہ کریمہ میں کلمہ اور کلمات طیب کا اتم اور اکمل مصداق صحیح عقائد ہیں جن میں سے ایک توحید ہے اس کے ساتھ ساتھ ہر نیک اور مسرت بخش بات جو کہ امید عطا کرنے والی اور تقویٰ کو زندہ کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی شخصیت کو کمال مطلق عطا کرتی ہے وہ بھی کلمہ طیب کے زمرے میں آتی ہے۔ اس کے مقابلے میں ہر وہ بات جو انسانی عظمت کو داغ دار کرے اور انسانی شخصیت کو نابود کردے وہ کلمہ خبیث اور ناپاک گفتگو کی مصداق ہے۔
پیغمبر اکرم(ص) کا ارشاد گرامی ہے:’’خیرکم من اطاب الکلام‘‘۔(بحار الانوار،ج۷۱،ص ۳۸۳)۔یعنی تم میں سے بہترین وہ ہے جس کی گفتگو پاکیزہ ہے۔


جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम