Code : 2267 95 Hit

شیعہ ثقافت کے ارتقا میں مجالس حسینی(ع) کا کردار

اس ضمن میں امام حسین(ع) کا عظیم قیام بھی حق و باطل کے درمیان صف آرائی کا منظر پیش کررہا ہے لہذا مجالس برپا کرنا ماتم و عزاداری منعقد کرنا یہ’’کل یوم عاشورا و کل ارض کربلا ‘‘ کی عملی تصویر ہے۔ اور جس طرح امام حسین(ع) کے اصحاب آپ کی معیت میں عرفان و کمال کی ان منازل پر فائز ہوگئے تھے جہاں آنکھوں کے سامنے سے تمام حجاب اٹھ چکے تھے اسی طرح امام حسین(ع) کی عزاداری برپا کرنے والا غفلت سے بیدار ہوجاتا ہے اور وہ اپنے کو امام حسین(ع) کی رکاب میں محسوس کرتا ہے اور اسے کمال نصیب ہوتا ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ثقافت عربی لفظ ہے جس سے مراد کسی قوم یا طبقے کی تہذیب ہے۔ علماء نے اس کی یہ تعریف مقرر کی ہے، ’’ثقافت اکتسابی یا ارادی یا شعوری طرز عمل کا نام ہے‘‘۔ اکتسابی طرز عمل میں ہمارے عقائد ،عادات، افعال، خیالات اور رسوم اور اقدار شامل ہیں جن کو ہم ایک منظم معاشرے یا خاندان کے رکن کی حیثیت سے عزیز رکھتے ہیں یا ان پرعمل کرتے ہیں یا ان پر عمل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ تاہم ثقافت یا کلچر کی کوئی جامع و مانع تعریف آج تک نہیں ہو سکی ہے۔(1)
قارئین ! میری نظر میں کوئی بھی ثقافت ان 3 بنیادی ارکان پر استوار ہوتی ہے:
1۔عقائد
2۔عادات
3۔اقدار
لیکن ان میں بھی سب سے  اہم کسی معاشرے کے عقائد ہوتے ہیں چونکہ کسی بھی جماعت یا گروہ کے اکثر اعمال و افعال اس کے عقائد اور رجحانات کے سرچشمہ سے پھوٹتے ہیں۔
امام حسین(ع) کا پر برکت اور خونی قیام تاریخ کا ایسا اثر گذار واقعہ ہے کہ جس سے شیعہ ثقافت متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکی۔ چونکہ جس وقت دمشق کے قصر سبز میں بنی امیہ کی نسل پست اور خبیث عیش و نوش کی محفل سجائے پیغمبر اکرم(ص) کی عظیم میراث(اسلامی تہذیب) کو برباد کردینا چاہتے تھی اس وقت رسول اللہ(ص) کا نواسہ اپنے ہاتھ میں اصلاح و قیام کا علم لیکر کھڑا ہوگیا چنانچہ آپ اپنے بھائی محمد بن حنفیہ کو اپنے وصیت نامہ میں تحریر فرماتے ہیں:’’و انی لم اخرج اشرا و لا بطـرا و لا مفسدا و لا ظالما و انما خرجت لطلب الاصلاح فی امة جدی (ص) ارید ان امر بالمعروف و انهی عن المنکر و اسیر بسیرة جدی و ابی علی ابن ابی طالب (ع)‘‘۔(2) میں خود خواہی یا سیر و تفریح کے لئے مدینہ سے نہیں نکل رہا اور نہ ہی میرے سفر کا مقصد فساد اور ظلم ہے بلکہ میرے اس سفر کا مقصد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔ اور میں چاہتا ہوں کہ اپنے اس سفر کے دوران امت کے مفاسد کی اصلاح کروں۔ اپنے جد امجد رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قوانین اور ان کی سنتوں کو زندہ کروں اور اپنے پدر بزرگوار علی(ع) کا راستہ اور ان کا طرز عمل اپناؤں۔
امام حسین علیہ السلام کے عظیم اور حیات بخش قیام نے نہ صرف یہ کہ یزید کے محل کو ویران کردیا بلکہ آپنے طول تاریخ میں ہمیشہ یزیدیوں کو شکست فاش دی ہے اور آپ کا وجود مظلوموں اور مستضعفین کے لئے چراغ ہدایت کی طرح منور و روشن رہا ہے یہی وجہ ہے تاریخ کربلا کے بعد جتنی اصلاحی تحریکیں چلیں ان کے روح رواں حضرت امام حسین(ع) کی ذات تھی چنانچہ ایران کے اسلامی انقلاب کے بانی حضرت امام خمینی(رح) اس حقیقت کے متعلق رقمطراز ہیں:’’اگر عاشورا اور اہل بیت پیغمبر اکرم(ص) کی قربانیاں نہ ہوتیں تو رسول اللہ (ص) کی بعثت اور آپ کی تمام زحمات و فداکاریاں طاغوطوں کے ہاتھوں خراب ہوجاتیں لیکن اللہ تعالیٰ کا ارادہ یہ تھا کہ وہ اپنے دین کو آزاد اور اپنی کتاب(قرآن مجید) کو ہدایت افروز بنا کر زندہ جاوید رکھے اور فرزندان وحی کے خون کے ذریعہ اس دین کی حمایت کرے لہذا اللہ نے خلاصہ نبوت اور یادگار امامت و ولایت حسین بن علی(ع) کو اس عظیم انقلاب و قیام کے لئے اٹھایا کہ جنہوں نے اپنی اور اپنے عزیزوں کو راہ عقیدہ میں پیش کرکے دین خدا کے گلشن کی آبیاری کی اور اس طرح رسول اللہ(ص) کو زحمتوں کو برباد ہونے سے بچا لیا‘‘۔(3)
عاشورا اور تہذیب نفس
جس طرح قرآن مجید بیان کرتا ہے بالکل ویسے ہی پورے عالم اور کائنات کے درمیان ایک مسلسل جنگ برپا ہے:’’اللَّهُ وَلِیُّ الَّذِینَ آمَنُوا یُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِینَ کَفَرُوا أَوْلِیَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ یُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ  أُولَئِکَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِیهَا خَالِدُونَ‘‘۔(سورہ بقرہ:257)
اللہ ان لوگوں کا سرپرست ہے جو ایمان لائے وہ انہیں (گمراہی کے) اندھیروں سے (ہدایت کی) روشنی کی طرف نکالتا ہے۔ اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کے سرپرست طاغوت (شیطان اور باطل کی قوتیں) ہیں جو انہیں (ایمان کی) روشنی سے نکال کر (کفر کے) اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہی دوزخی لوگ ہیں جو اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
یہ نزاع اور کشمکش تمام عالم کے ذرہ ذرہ میں موجود ہے لہذا انسان کے فکری،روحی اور کرداری حالات کا تغیر اسی کی ایک کڑی ہے  یعنی ایک طرف وہ نورانی راستہ ہے جسے انبیاء نے دکھایا ہے جس کی منزل سعادت اور کمال ہے اور دوسری طرف وہ ظلمانی فضا ہے کہ شیاطین انس و جن جس کی طرف رہبری کررہے ہیں اور جو ان کے چنگل میں گرفتار ہوا اسے اضطراب اور ہلاکت کے علاوہ کوئی اور چیز نصیب نہیں ہوئی۔
اس ضمن میں امام حسین(ع) کا عظیم قیام بھی حق و باطل کے درمیان صف آرائی کا منظر پیش کررہا ہے لہذا مجالس برپا کرنا ماتم و عزاداری منعقد کرنا یہ’’کل یوم عاشورا و کل ارض کربلا ‘‘ کی عملی تصویر ہے۔ اور جس طرح امام حسین(ع) کے اصحاب آپ کی معیت میں عرفان و کمال کی ان منازل پر فائز ہوگئے تھے جہاں آنکھوں کے سامنے سے تمام حجاب اٹھ چکے تھے اسی طرح امام حسین(ع) کی عزاداری برپا کرنے والا غفلت سے بیدار ہوجاتا ہے اور وہ اپنے کو امام حسین(ع) کی رکاب میں محسوس کرتا ہے اور اسے کمال نصیب ہوتا ہے۔
عاشورا اور معاشرے کے تربیتی نقوش
جس طرح امام علیہ السلام کے مقدس قیام سے ایک عام شیعہ متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اسی طرح پورے شیعہ معاشرے پر اس عظیم قیام کے آثار و برکات مشاہدہ کئے جاسکتے ہیں اس طرح کہ خود دشمن بھی اس حقیقت کا اقرار کررہا ہے فوکویاما،ایک جاپانی فیلسوف جو امریکہ میں رہتا ہے اس نے یوروشلم میں ایک کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے کہا:’’شیعہ ایسا پرندہ ہے جس کی پرواز اس افق پر ہوتی ہے جہاں تک ہمارا تیر نہیں پہونچ سکتا ۔ یہ ایسا پرندہ ہے جس کے دو پر ہیں۔ایک سبز اور دوسرا سرخ ! اس پرندہ کا سبز پر وہ مہدویت کا نظریہ و عقیدہ ہے چونکہ شیعہ اس انتظار میں زندہ ہیں کہ ان کے امام آئیں گے اور اس دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے چونکہ یہ لوگ منتظر و امیدوار ہیں اور امیدوار کبھی شکست نہیں کھا سکتے اور ان لوگوں سے یہ امید نہیں چھینی جاسکتی۔۔۔۔! اور شیعیت کا دوسرا پر، سرخ رنگ کا ہے یعنی اس قوم میں شہادت کی تمنا کا زندہ ہونا اور یہ سبق انہوں نے حسین بن علی(ع) سے سیکھا و پڑھا ہے اسی وجہ سے شیعوں کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔( httP://www.liberaldemocrat-ir.com)
شیعہ معاشرے میں مجالس ، عزاداری اور یاد امام حسین(ع) کو احیاء کرنے کی بدولت آپ کا قیام آج کسی پر پوشیدہ نہیں ہے اور ہمیشہ سے یہ مجالس امام حسین(ع) کے چاہنے والوں کے اجتماع کا مرکز رہی ہیں کہ جو ایک طرح اپنے امام سے تجدید عہد و بیعت کا منظر پیش کرتی ہیں جس کی بدولت ہم یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ حقیقی اسلام کا استمرار اور تسلسل قیام کربلا کا مرہون منت ہے چنانچہ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بانی انقلاب حضرت امام خمینی(رح) فرماتے ہیں:’’ یہ محرم و صفر ہے جس نے اسلام کو زندہ رکھا ہوا ہے‘‘۔(4)
ان مجالس میں شیعوں کا اکھٹا ہونا اور طول تاریخ میں ظلم اور ظالمین سے نفرت اور بیزاری ہی ان اجتماعات کا سب سے بڑا سبق ہے لہذا اس جذبہ سے الہام لیتے ہوئے ایران کی غیور قوم نے امام حسین(ع) اور آپ کے باوفا اصحاب کے نقوش قدموں کو اپنے لئے مشعل راہ قرار دیتے ہوئے وہ انقلاب خلق کیا جو اس صدی کا سب سے عظیم قیام و انقلاب کہلایا۔(5)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔ محمدتقی مصباح یزدی، تهاجم فرهنگی، قم: مؤسسه آموزشی و پژوهشی امام خمینی، ص 71۔
2۔ ابن شهر آشوب، المناقب, ج 4, ص 88۔
3۔ صحیفۀ امام، ج14، ص406-407۔
4۔ سابق حوالہ، ج‌15، ص: 330۔
5۔  سابق حوالہ، ج 17، ص 481۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम