Code : 1597 235 Hit

نماز صبح کو چھوڑنے کا انجام

آیت اللہ حسن علی اصفہانی نخودکی نے اپنے بیٹے کو آخری وصیت میں فرمایا:اگر کوئی شخص مسلسل 40 دن ریاضت و عبادت میں گذارے لیکن اس کی ایک دن نماز فجر قضا ہوجائے تو اس کی 40 دن کی ریاضت و عبادت بے اثر ہوجاتی ہے۔میرے بیٹے! میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ تم اپنی نمازوں کو اول وقت پڑھنا اور جہاں تک ممکن ہوسکے نماز شب کو ترک نہ کرنا۔

ولایت پورٹل: نماز کے قضا ہونے کی بہت سے اسباب ہوسکتے ہیں جیسا کہ رات میں دیر سے سونا،صبح کو سونے کا عادی ہونا،غفلت اور گناہ ،لہو و لعب کی محفلوں میں شرکت یا ان تقاریب میں شمولیت جن میں یاد خدا سے غفلت کا سبق پڑھایا جاتا ہے یہ وہ اسباب ہیں جن کی وجہ سے ممکن ہے انسان سے صبح کے وقت بستر چھوڑنے کی توفیق سلب ہوجائے پس ہمیں ان مشکلات پر نظر ثانی کرکے انہیں دور کرنے کی کوشش کرنا چاہیئے۔
اول وقت نماز نہ پڑھنا
اگر ہم نماز کی فضیلت،حقیقت اور اس کے اثرات کو جان لیں اور اپنے اندر اس ذمہ داری کا احساس کرلیں کہ اللہ نے ہمیں مکلف بنایا ہے اور ہم اس کے بندے ہیں اور ہمیں صرف وہ کام کرنا ہے جو اس نے ہمیں حکم  دیا ہے۔
دوسرے ہمیں ان چیزوں کو بھی پہچاننے کی سخت ضرورت ہے جو انسان سے نماز اور عبادات و مناجات کی لذت کو ختم کردیتے ہیں ان میں سے جہاں گناہ اور معصیت اور یاد خدا سے غفلت ہے وہیں نماز کو اس کے اول وقت میں ادا نہ کرنا بھی ایک سبب ہے چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا گیا کہ مولا! یہ بتائیے کیوں آخری زمانے کے لوگوں کے رزق تنگ اور زندگیاں بے برکت ہوں گی؟ فرمایا: اس وجہ سے کہ ان میں اکثر کی نمازیں قضا ہونگی۔
یا ایک دیگر حدیث میں ملتا ہے کہ ایک شخص امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں شرفیاب ہوا اور عرض کی: مولا! میں نے ایک گناہ کیا ہے۔
امام نے جواب میں فرمایا: اللہ اسے معاف کردے گا۔
اس شخص نے عرض کیا: مولا! میں جس گناہ کا مرتکب ہوا ہوں وہ بہت بڑا ہے۔
امام علیہ السلام نے فرمایا: اگر پہاڑ کے برابر بھی ہوگا تب بھی خدا بخش دے گا۔
اس شخص نے پھر عرض کی: مولا! میں نے جو گناہ کیا ہے وہ بہت بڑا ہے۔
امام نے آخرکار دریافت فرما ہی لیا: آخر تم نے ایسا کون سا گناہ کیا ہے؟
چنانچہ اس شخص نے پورا ماجرا کہہ سنایا۔
اس کی بات سن کر چھٹے امام نے اس کی طرف رخ مبارک کرکے فرمایا:خدا بخش دے گا بس میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ کہیں تمہاری نماز صبح قضا نہ ہوجائے۔
قارئین کرام! ویسے تو اللہ نے ہر مکلف پر دن میں 5 نمازیں واجب کی ہیں  اور ہر نماز کا اپنا ایک خاص اثر ہوتا ہے لیکن ان سب کے باوجود نماز صبح کی پابندی کرنے کی بڑی تأکید ہوئی ہے اور بعض عرفاء تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر یہ دیکھنا ہو کہ فلاں شخص نمازی ہے یا نہیں تو یہ دیکھ لیں کہ وہ نماز صبح وقت پر پڑھتا ہے یا نہیں چونکہ جو شخص صبح کی نماز ترک کرتا ہے ممکن ہے وہ دن کی ساری نمازیں وقت پر پڑھتا ہو، وہ پکا نمازی نہیں ہوسکتا۔ لیکن جو شخص صبح کی نماز پابندی سے ادا کرتا ہے محال ہے کہ اس کی کوئی دوسری نماز قضا ہوجائے۔
اسی طرح آیت اللہ حسن علی اصفہانی جو اہل علم کے درمیان آیت اللہ نخودکی کے نام سے پہچانے جاتے ہیں انہوں نے اپنے بیٹے کو آخری وصیت میں فرمایا:
اگر کوئی شخص مسلسل 40 دن ریاضت و عبادت میں گذارے لیکن اس کی ایک دن نماز فجر قضا ہوجائے تو اس کی 40 دن کی ریاضت و عبادت بے اثر ہوجاتی ہے۔میرے بیٹے! میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ تم اپنی نمازوں کو اول وقت پر پڑھنا اور جہاں تک ممکن ہوسکے نماز شب کو ترک نہ کرنا۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम