Code : 1420 64 Hit

ایک دوسرے کا احترام؛ زوجین کا فرض

دین اسلام کے احکام اور فرامین پر عمل کرنا خاندان و گھرانے کے استحکام ،محبت اور میل ملاپ نیز زندگی کے خوشگوار بننے کا سبب ہوتے ہیں۔چنانچہ ایک ایسا ہی قانون اور دین کا حکم جو گھر کے مضبوط ہونے اور شادی شدہ زندگی کو منظم کرنے کا سبب ہے وہ بیوی اور شوہر کا ایک دوسرے کا احترام کرنا اور ایک دوسرے کی عزت کرنا ہے۔

ولایت پورٹل: دین اسلام کے احکام اور فرامین پر عمل کرنا خاندان و گھرانے کے استحکام ،محبت اور میل ملاپ نیز زندگی کے خوشگوار بننے کا سبب ہوتے ہیں۔چنانچہ ایک ایسا ہی قانون اور دین کا حکم جو گھر کے مضبوط ہونے اور شادی شدہ زندگی کو منظم کرنے کا سبب ہے وہ بیوی اور شوہر کا ایک دوسرے کا احترام کرنا اور ایک دوسرے کی عزت کرنا ہے۔
ایک حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے:’’ من اتخذ اهلا فلیکرمها فانما امرأة أحدکم لعبة فمن اتخذها فلا یضیعها‘‘۔(بحار،ج103،ص224)جو شخص کسی کو اپنے اہل(شریک حیات) کے طور پر انتخاب کرے تو اسے اس کا احترام بھی کرنا چاہیئے چونکہ تمہاری عورتیں تمہاری زندگی میں خوشیاں بھرنے والی ہیں ۔پس جس نے بھی کسی عورت کو اپنی زوجیت کے لئے چنا اسے حق نہیں ہے کہ وہ اس کی بے احترامی کرکے اسے ضائع کرے۔
پس خاص طور پر مردوں کو اپنی بیویوں کے احترام اور ان کی عزت کا خاص خیال رکھنا چاہیئے اسی طرح خواتین کو بھی اپنے شوہروں کا حددرجہ احترام کرنا چاہیئے ان کی اطاعت کرنا چاہیئے جیسا کہ پیغمبر اکرم(ص) کا ارشاد ہے:اگر مصلحت یہ ہوتی کہ(خدا کے علاوہ) کسی اور کے سجدہ کا حکم دیا جاتا تو میں خواتین کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں۔(وسایل،ج14،ص115)
ہر بیوی کو اپنے شوہر کی حرمت کا خیال رکھتے ہوئے ہمیشہ اس کا مطیع رہنا چاہیئے چنانچہ ایک روایت میں نقل ہوا ہے کہ رسول اکرم(ص) کے زمانے میں ایک شخص سفر پر جانا چاہتا تھا اس نے اپنی بیوی سے کہا:جب تک میں واپس لوٹ کر نہ آجاؤں تم گھر سے باہر قدم نہ نکالنا۔
ابھی اسے سفر پر گئے کچھ دیر بھی نہ گذری تھی کہ اس خاتون کا باپ بیمار ہوگیا اسے اطلاع دی گئی لیکن اب شوہر سے اجازت لینا تو ممکن نہ تھی اس نے سوچا کیوں نہ میں رسول اللہ(ص) سے اپنے والد کی اعادت کرنے کی اجازت لے لوں۔ اس نے کسی کو سرکار رسالتمآب(ص) کی خدمت میں بھیجا۔آپ نے فرمایا:تم گھر میں ہی رہو اور اپنے شوہر کے حکم کی اطاعت کرتی رہو یہی تمہارے لئے بہتر ہے۔
کئی دن اسی عالم میں گذرے کہ اس کے باپ کا مرض شدت اختیار کرگیا اب ایک بیٹی کا دل پھر باپ کو دیکھنے کے لئے مچلنے لگا اس نے پھر ایک شخص کو رسول اللہ(ص) کی خدمت میں بھیجا ۔آپ نے ارشاد فرمایا: تم اپنے شوہر کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے گھر میں ہی رہو۔ اب کچھ دنوں کے بعد اسے اپنے باپ کے انتقال کی خبر موصول ہوئی اس نے پھر کسی شخص کو رسول اکرم(ص) کے پاس باپ کی تشیع جنازہ میں شرکت کی اجازت طلب کرنے کے لئے بھیجا لیکن سرکار(ص) نے اسے وہی جواب دیا۔
آخرکار اس کے باپ کا جنازہ اٹھا اور اسے دفن کردیا گیا۔ ادھر رسول اللہ(ص) نے اس خاتون کے پاس یہ پیغام بھجوایا کہ:اللہ تعالیٰ نے شوہر کی اطاعت کرنے کیوجہ سے تمہارے اور تمہارے باپ دونوں کے سارے گناہ بخش دئیے ہیں۔(وسایل،ج14،ص125)


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम