Code : 4243 34 Hit

بقائے مقصد عاشورا کے لئے زینبی تدبیر

جناب زینب علیا مقام(س) کی ایک زندہ جاوید تحریک جو آپ نے اپنے بھائی امام حسین(ع) اور کربلا کے دیگر شہداء کی یاد میں منعقد کی وہ عزاداری اور مجالس و ماتم ہے۔تاریخ نے نقل کیا ہے کہ حسین(ع) پر سب سے پہلے نوحہ پڑھنے والی،ماتم کرنے والی خود بی بی (س) ہیں اور آپ عزاداری کرنے کے سلسلہ میں کسی زمانے و مکان کی محدودیت کو نظر میں نہ لائیں۔ شہادت امام حسین(ع)سے لیکر بازار کوفہ و شام یہاں تک کہ خود طاغوتوں کے محلوں کو بھی مجلس غم میں تبدیل کردیا اور اپنے اشکوں سے عزاداری امام حسین(ع) کی وہ عمارت تعمیر کی کہ مخالف ہوا کے جھونکے کبھی اس کے ستون کو نہیں لرزہ سکیں گے اور یہ بھی بی بی (س) کا کارنامہ تھا کہ آپ نے ان آنسوؤں ، مجلسوں اور ماتم و نوحوں کو بقائے مقصد حسینی(ع) کی ضمانت بنا دیا اور اس جذبہ غم کو ایک زندہ جاوید تہذیب میں تبدیل کردیا۔علی کی اس شیر دل بیٹی نے عزاداری کی شکل میں اپنے بھائی سے کیا ہوا وہ وعدہ پورا کردیا کہ بھیا میں کبھی کبھی آپ بھلا نہ سکوں گی۔

ولایت پورٹل: امام حسین (ع) کی شہادت اور اہل حرم کی اسیری کے ساتھ ہی حسینی(ع) انقلاب کے دوسرے مرحلے  کا آغاز ہوا اور اب حسین(ع) کے پسماندگان کی سنگین اور جاں فرسا ذمہ داریوں کی شروعات ہوتی ہے۔ امام سجاد(ع) اور زینب کبری(س) اس محاذ کے سپہ سالار تھے۔ اس مرحلے کو آج کی زبان میں سافٹ وار سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے کہ جس میں دو چیزیں بڑی اہم ہوتی ہیں:
۱۔ دشمنوں کے طعنوں  اور توہین و تحقیر کے مقابلے اپنے اور اپنے ساتھ والوں کے اندورنی جذبات و استقامت کو بحال رکھنا کہ جہاں دشمنوں کا مقصد اہل بیت(ع) کی اجتماعی حیثیت کو ختم کرنا تھا ۔
۲۔بنی امیہ اور ان پوری مشینری کی طرف سے حسین اور آپ کے ساتھیوں کو جو  خارجی کہہ کر جگہ جگہ تعارف کروایا جارہا تھا اور معاذ اللہ انہیں دین سے خارج اور خلیفہ کے خلاف بغاوت کرنے کا مجرم گردانا جارہا تھا اس حربہ کو ناکام کرنا اور لوگوں کو حقیقت حال سے آگاہ کرنا تھا۔
جناب زینب کبری(س) ،کہ جو امام سجاد(ع) کی تصریح کے مطابق ’’ عالمہ غیر معلمہ‘‘ ۔(۱) تھیں، نے حالات کی نزاکت اور معاشرے کی ضرورت کے پیش نظر اپنے اس انقلابی اور تبلیغی کردار کو مذکورہ دونوں میدانوں بخوبی نبھایا ۔ اگرچہ بی بی (س) نے امام حسین(ع) کی شہادت سے پہلے بھی قافلے کی تمام خواتین کے انتظام و انصرام کی ذمہ داری کو نبھایا اور اپنے بھائی کی سخت مصیبت کے وقت بھی  مدد فرمائی ۔چنانچہ جناب زینب(س) کے وہ بیانات جنہیں ارباب مقاتل نے نقل کیا ہے اس قدر تأثیر گذار تھے کہ شقی القلب اور خدا سے نہ ڈرنے والے  عمر سعدجیسے دشمن کی آنکھوں سے بھی آنسو نکل آئے۔(۲)
اگرچہ دشمن کا رونہ اور گریہ کرنا کوئی اہمیت نہیں رکھتا لیکن اس حقیقت کو عیاں کرنے والا ضرور ہے کہ انہیں بھی یہ احساس ہوگیا تھا کہ وہ کتنے عظیم ظلم کے مرتکب ہوئے ہیں اگرچہ دنیا پرستی، جاہ و حشم کا لالچ اور کردار کی پستی و پلیدی کے سبب یہ اشک اپنا اثر  نہ دکھا سکے۔
عاشورا کے بعد حضرت زینب(س) کے ۵ اہم اقدم
حضرت زینب(س) نے قیام عاشورا کے بعد مندرجہ ذیل یہ پانچ ایسے اقدام کئے کہ جن کے سبب واقعہ کربلا ہمیشہ کے لئے تاریخ کے دامن میں محفوظ رہ گیا اور لاکھ ظالم حکومتوں نے چاہا کہ لوگ حسین(ع) اور کربلا کو بھول جائیں لیکن وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے۔
۱۔شہداء اور اسراء کی رسول اللہ(ص) سے نسبت و قرابت کا برملا اعلان
حضرت زینب(س) نے کربلا سے کوفہ اور کوفہ سے شام  تک متعدد مقامات پر شہداء و اسیروں کی رسول اللہ(ص) سے نسبت کا برملا اظہار و اعلان فرمایا تاکہ بنی امیہ کے پیروپگنڈوں میں اسیر عوامانہ ذہنیتں یہ باور کرسکیں کہ کربلا میں جن ہستیوں کو شہید کیا گیا اور جن کے اہل حرم کو اسیر کرکے لایا گیا وہ کوئی باہر سے آنے والے خارجی نہیں تھے بلکہ وہ خود رسول اللہ(ص) کے اہل بیت(ع) ہیں کہ جن کی محبت اور مودت کو اجر رسالت قرار دیا گیا ہے۔چنانچہ ابن اثیر نقل کرتے ہیں: کہ جب عمر بن سعد نے اسیروں کو مقتل سے گذارا ، خواتین نے وہ نالہ و شیون برپا کیا اور اپنے سر و سینہ کو پیٹا کہ کربلا میں سناٹے کے بعد ایک بار پھر حشر برپا ہوگیا اور حسین (ع) کی بہن زینب(س) نے فریاد بلند کی: یا محمداہ ! اللہ کے فرشتوں کا آپ پر سلام ہو ! یہ آپ کا بیٹا حسین ہے کہ جس کا جسم ٹکڑے ٹکڑے ، خون آلود اور عریاں زمین پر پڑا ہوا ہے اور آپ کی بیٹیوں کو قیدی بنا کر تشہیر کے لئے لے جایا جارہا ہے۔ اے میرے جد رسول خدا(ص) آپ کی آل کو قتل کردیا گیا اور ان کے بے کفن لاشوں پر ہوا چل رہی ہے۔(۳)
نیز تاریخی شواہد کی روشنی میں جب عبداللہ بن زیاد نے اپنے قصر میں ( نعوذ باللہ) امام حسین(ع) کو جھوٹا اور کذاب کہا، حضرت زینب(س) نے اپنے تمام غموں کو بھلا کر ایک سرد آہ بھری اور شیر کی مانند دھاڑیں اور فرمایا : تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہے کہ جس نے ہمیں اپنے پیغمبر(ص) کے سبب مکرم و معظم بنایا اور ہمیں ہر طرح کی برائی و رجس سے پاک رکھا، بے شک فاسق رسوا ہوتا ہے اور فاجز جھٹلایا جاتا ہے اور وہ ہم نہیں بلکہ ہمارا غیر ہے ۔(۴)
اسی طرح آپ(س) نے یزید کے دربار میں جب اشراف و مختلف قبائل کے سرداروں سے دمشق کا قصر بھرا ہوا تھا اور بد مست شرابی یزید نے ، اہل حرم کو رسوا کرنے کی خاطر دربار میں بلایا تھا آپ نے اپنے بھائی امام حسین(ع) کے سر کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا:’’ اے بھائی حسین ! اے حبیب خدا(ص) کے حبیب ! اے جگر گوشہ فاطمہ زہرا(س) ! ۔ ۔ ۔ (۵)
قارئین کرام! یہاں اس امر کی جانب بھی توجہ ضروری ہے کہ زینب کبری(س) نے رسول اللہ(ص) سے اپنی قرابت و نسبت کو بنی امیہ اور ان کے بہی خواہوں کے سامنے اظہار کرنے سے پہلے عوام کے سامنے ظاہر کیا تاکہ انہیں یہ احساس ہوجائے کہ انہوں نے یزید ملعون کا ساتھ دے کر کتنی غلطی کی ہے چنانچہ آپ نے کوفہ کے بازار میں تماشائیوں کے ہجوم میں لوگوں خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔ شبیر بن خزیم کہتا ہے کہ میں نے علی کی بیٹی کا وہ خطبہ سنا کہ جس سے پہلے میں نے کبھی اتنی بلاغت سے بھرپور خطبہ کسی خاتون سے نہیں سنا تھا ، جب خطبہ دینے لگیں مجھے یہ احساس ہوا کہ جیسے میں علی(ع) کے دور خلافت میں آپ(ع) سے خطبہ سن رہا ہوں۔ بی بی نے فرمایا: تمام تعریفیں اللہ کی ذات کے لئے ہیں اور اس کا درود و سلام ہو میرے جد رسول(ص) اور ان کی آل پاک پر۔ اے کوفہ والوں ! کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ فرزند خاتم الانبیاء ،معدن رسالت اور جوانان جنت کے سردار کے خون کے نشانات کو اتنی جلدی مٹایا جاسکے گا؟ تم لوگوں نے اسے قتل کیا ہے جو نیک لوگوں کی پناگاہ اور بے اسراؤں کا اسرا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ (۶)
اور صرف شہزادی نے اپنے کلام و خطبات میں ہی نہیں بلکہ اپنے قول و عمل سے بھی لوگوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ ہم ذریت پیغمبر اور ان کی آل ہیں جیسا کہ مشہور روایت ہے کہ جب کوفہ میں اہل حرم کے قافلہ پر کھجوریں پھنکیں گئیں تو آپ نے اپنی بہن جناب ام کلثوم سے فرمایا : بہن ان کوفہ والوں کو سمجھا دو کہ یہ عام قیدی نہیں ہیں کہ جو تمہارا صدقہ کھا لیں بلکہ رسول اللہ(ص) کی آل ہے جس پر صدقہ کھانا حرام قرار دیا گیا ہے۔(۷)
 ۲۔ کربلا میں یزیدیوں کے جرم  و ظلم سے لوگوں کو آگاہ کرنا
اگرچہ بہت سے دوست اور دشمن راویوں نے واقعہ عاشورا کو نقل و بیان کیا ہے لیکن زینب کبری(س) خود اہل بیت رسول(ص) پر یزیدوں کے  فجیع مظالم کی سب سے برجستہ راوی ہیں۔ البتہ بی بی نے اپنی درایت سے نہ صرف حکومت اور ان سے وابستہ افراد کو اس جرم کا مجرم ٹہرایا بلکہ عوام کو بھی طاغوت کا ساتھ دینے اور اس کے ظلم پر خاموش رہنے کے سبب قصوروار ٹہرایا ہے ۔چونکہ اگر  وہ عبید اللہ اور یزید کا ساتھ نہ دیتے اور اپنے امام کو تنہا نہ چھوڑتے تو کھبی اتنا تلخ اور عظیم حادثہ رونما نہ ہوتا۔ یہی وجہ ہے  کہ بی بی(س) نے اپنے خطبہ میں کوفہ والوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے کوفہ والوں ! تم پر افسوس ہے ۔ کیا تم جانتے ہو کہ تم نے رسول اللہ(ص) کے جگر کو شکافتہ کردیا ہے اور آپ(ص) کو خون کے آنسو رلایا ہے کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم نے کن عصمت مآب ہستیوں کی بے حرمتی کی ہے ؟ کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم نے  خون رسول اللہ(ص) کو بہایا ہے اور آپ(ص) کی ہتک حرمت کی ہے‘‘۔(۸)
 ۳۔ بنی امیہ کے چہرے سے منافقت کی نقاب کو نوچنا
تاریخ سے یہ بات ثابت ہے کہ بنی امیہ کے دل میں اہل بیت رسول(ص)   کی نسبت دیرینہ بغض بھرا ہوا تھا ۔ صدر اسلام میں مسلمانوں سے جو ہزیمت انہیں اٹھانا پڑی تھی اس شکست کے شعلے ابھی بھی ان کے دلوں کو کباب کررہے تھے لہذا وہ واقعہ عاشورا کو بدر و خندق میں اپنے آباء و اجداد کا بدلہ تصور کر رہے تھے چنانچہ یزید کا یہ کینہ و حسد کربلا کے بعد اس کے اشعار میں صاف طور پر جھلکتا ہے چونکہ اس نے اپنے کفار آباء و اجداد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا:
اس ہاشمی (پیغمبر اکرم (ص) نے حکومت کا ایک ڈھونگ رچایا تھا وگرنہ کوئی غیبی خبری آئی اور نہ ہی ان پر کوئی وحی نازل ہوئی۔(معاذ اللہ ) میں بھی قبیلہ خندف سے نہیں ہوں  اگر  احمد کے بیٹوں سے اس کے کئے کاموں کا انتقام نہ لے لوں۔(۹)
ظاہر ہے جناب زینب کبری(س) اور امام سجاد(ع) کی ذمہ داری بہت سنگین تھی آپ نے لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ بنی امیہ کسی بھی طور پر اسلامی حکومت کے حقدار نہیں ہیں چونکہ ان دلوں میں آج بھی دور جاہلیت کا بغض و حسد بھرا ہوا ہے چنانچہ یزید کے دربار میں خود اسے مخاطب کرکے فرمایا:’’ اے آزاد کئے گئے غلاموں کے بیٹے ! کیا تجھے یہ زیب دیتا ہے کہ تیری عورتیں بچے اور کنیزیں پردے میں رہیں اور نبی زادیاں تیرے سامنے بے پردہ کھڑی ہوں ‘‘۔(۱۰)
جناب زینب(س) کا یہ بیان ایک دو دھاری تلوار کی مانند تھا کہ  جس سے ایک طرف یزید اور اس کے خاندان کے چہرے پر پڑی ہوئی منافقت کی نقاب کو الٹا اور اسے بتلایا کہ تو اپنی حیثیت اور وقعت کو یاد کر کہ فتح مکہ کے موقع پر ہمارے جد رسول اللہ(ص) نے تیرے خاندان جان بخشی تھی اور تم لوگ خوف میں ایمان لائے تھے لہذا تمہارا مسلمان ہونا ہماری نظر میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا اور دوسری جانب یہ اشارہ بھی تھا کہ یزید ! تو  کتنا پست و ذلیل ہے جسے اس بات کا بھی خیال نہیں کہ جس کے نام پر تخت پر بیٹھا ہوا ہے اس کی آل تیرے سامنے قیدی بنا کر لائی گئی ہے اور تخت پر بیٹھا ہوا فخر فروشی کررہا ہے۔
۴۔ امام سجاد(ع) کی حفاظت کرنا
جیسا کہ تاریخ کا ہر طالب علم یہ بات جانتا ہے کہ کربلا کے میدان میں امام سجاد(ع) کا بیمار ہوجانا الہی مصلحت تھی چونکہ سلسلہ امامت کو قیامت سے متصل ہونا تھا لیکن ساتھ میں یہ بھی حقیقت ہے کہ امام سجاد(ع) کی جان کو ہر آن بنی امیہ سے خطرہ لاحق تھا لہذا بی بی(س) نے فاطمی قوت اور علوی صولت کے ساتھ اپنے بھتیجے کی اس طرح حفاظت کی کہ امام وقت کو خطرات کے طوفان سے بچا کر مدینہ لے آئیں۔ چنانچہ تاریخ نے ہمیں بتلایا کہ کتنی مرتبہ شمر، عمر سعد ، ابن زیاد اور یزید کی طرف سے امام(ع) کو قتل کردینے کا منصوبہ بنایا گیا لیکن آپ(س) ہر مرتبہ بھتیجے کی ڈھال بن جاتی تھیں اور ان پر گر جاتی تھیں اور فرماتی تھیں اگر اسے قتل کرنا چاہتے ہو تو پہلے مجھے قتل کرنا پڑے گا۔(۱۱)
۵۔عزاداری سید الشہداء(ع) کی بنیاد ڈالنا
جناب زینب علیا مقام(س) کی ایک زندہ جاوید تحریک جو آپ نے اپنے بھائی امام حسین(ع) اور کربلا کے دیگر شہداء کی یاد میں منعقد کی وہ عزاداری اور مجالس و ماتم ہے۔تاریخ نے نقل کیا ہے کہ حسین(ع) پر سب سے پہلے نوحہ پڑھنے والی،ماتم کرنے والی خود بی بی (س) ہیں اور آپ عزاداری کرنے کے سلسلہ میں کسی زمانے و مکان کی محدودیت کو نظر میں نہ لائیں۔ شہادت امام حسین(ع)سے لیکر بازار کوفہ و شام یہاں تک کہ خود طاغوتوں  کے محلوں کو بھی مجلس غم میں تبدیل کردیا اور اپنے اشکوں سے عزاداری امام حسین(ع) کی وہ عمارت تعمیر کی کہ مخالف ہوا کے جھونکے کبھی اس کے ستون کو نہیں لرزہ سکیں گے اور یہ بھی بی بی (س) کا کارنامہ تھا کہ آپ نے ان آنسوؤں ، مجلسوں اور ماتم و نوحوں کو بقائے مقصد حسینی(ع) کی ضمانت بنا دیا اور اس جذبہ غم کو ایک زندہ جاوید تہذیب میں تبدیل کردیا۔علی کی اس شیر دل بیٹی نے عزاداری کی شکل میں اپنے بھائی سے کیا ہوا وہ وعدہ پورا کردیا کہ بھیا میں کبھی کبھی آپ بھلا نہ سکوں گی۔
چنانچہ بی بی (س) نے عزاداری کی بنیاد ڈال کر ہر یزید اور یزیدی سے نام اہل بیت(ع) کو مٹانے کی نجس فکر کو سلب کرلیا اور آپ نے اپنے چاہنے والوں اور مکتب عاشورا کے پیرو کاروں کو یہ سمجھا دیا کہ عزائے حسینی(ع) کو کسی زمان و مکان کی حدود میں قید نہیں کیا جاسکتا بلکہ جہاں بھی کچھ حسین(ع) کے عاشق جمع ہوجائیں وہی مکان، مجلس غم اور عزاداری بن سکتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔الاحتجاج طبرسی ج 2 ص 305۔
۲۔با کاروان حسینی از مدینه تا مدینه، ج 4 ص 380۔
۳۔الکامل فی التاریخ ج 3 ص 296۔
۴۔با کاروان حسینی از مدینه تا مدینه، ج 5 ص 15۔
۵۔اللهوف ص 213۔
۶۔سابق حوالہ، ص 192۔
۷۔با کاروان حسینی از مدینه تا مدینه ج 5 ص 84۔
۸۔امالی مفید ص 321۔
۹۔مقتل الحسین مقرم ص 357۔
۱۰۔اللهوف ص 216۔
۱۱۔اخبار الدول ص 108؛ الارشاد ج 2، ص 116۔

تحریر : سجاد ربانی


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین