Code : 2293 105 Hit

قرآن مجید کی روشنی میں طویل آرزؤں کا انجام

مذکورہ تمام آیات میں غور و خوص اور تدبر کرنے سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ طویل اور لمبی لمبی آرزوئیں انسانی سعادت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ،سب سے بڑا دشمن ہے اور جس طرح سابقہ امتیں طویل آرزؤں کے نتیجہ میں گمراہ اور بد بخت بنیں اسی طرح کہیں اس امت کی حالت بھی نہ ہوجائے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! طویل اور لمبی لمبی آرزوئیں کرنا اخلاقی رذائل میں شمار ہوتی ہیں کہ جن کے سبب انسان طرح طرح کے گناہوں میں گرفتار ، اللہ سے دور اور شیطان سے قریب ہوجاتا ہے اور آخر کار اس کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔
البتہ خود آرزو اور امید کرنا مذموم  امر نہیں ہے بلکہ زندگی میں امید ترقی کے لئے اہم کردار ادا کرتی ہے اور کبھی کبھی مادی و معنوی ترقی کے لئے امید اور آرزو کرنا ناگزیر ہوتا ہے۔
چونکہ اگر کسی ماں کے دل میں بچے کے لئے امید نہ ہو تو کبھی وہ اسے اپنا دودھ نہ پلائے اور طرح طرح کی زحمتوں کو اس کی پرورش میں برداشت نہ کرے اور اگر کسی کسان کو یہ امید نہ ہو کہ جو بیج اس نے زمین کے سینہ میں دفن کیا ہے وہ پھل دار درخت بن کر ایک دن نکلے گا تو کبھی وہ یہ تمام مشقت برداشت ہی نہیں کرے۔جیسا کہ خود سرکار رسالتمآب(ص) کی معروف حدیث میں وارد ہوا ہے:’’ الامل رحمة لامتي و لولا الامل ما رضعت والدة ولدها و لا غرس غارس شجرها‘‘۔(1) میری امت کے لئے امید ایک رحمت ہے اور اگر امید نہ ہو تو کبھی ماں اپنے بچے کو دودھ نہ پلائے اور نہ ہی کوئی پیڑ لگانے والا زمین میں کوئی پیڑ لگائے۔
اگر کسی شخص کو یہ یقین ہوجائے کہ آج اس کی زندگی کا آخری دن ہے یا وہ بہت جلدی مر جائے گا تو وہ سارے کام چھوڑ دے گا اور اس کی زندگی کی موٹر خاموش ہوجائے اور اس کے پہیے کام کرنا چھوڑ دیں گے شاید موت کے وقت کا انسان سے مخفی رکھنے کا ایک راز یہ بھی ہو کہ اس کی زندگی میں امید کا چراغ جلتا رہے اور وہ اپنی زندگی کی کوششوں کو جاری رکھ سکے۔
جیسا کہ ہمیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ملتا ہے کہ: آپ کسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ نے ایک بوڑھے کو دیکھا کہ جو زمین میں بیلچہ لئے اسے کھودنے میں مشغول ہے (اور اپنے کھیت کی زمین کو کاشت کے قابل بنانے میں لگا ہوا ہے) حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ کی بارگاہ میں عرض کی:پروردگار! امید و آرزو کو اس سے لے لے‘‘۔ ناگہاں آپ نے دیکھا کہ وہ بوڑھے  بیلچہ  چھوڑ کر زمین پر لیٹ کر سو گیا ۔ کچھ دیر کے بعد حضرت مسیح(ع) نے عرض کی: پالنے والے اس کی کھوئی ہوئی امید کو لوٹا دے‘‘۔ تو اچانک وہ بوڑھا اٹھا اور پھر بیلچہ اٹھا کر کام کرنے میں مشغول ہوگیا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس سے سوال کیا:میں نے تمہیں دو مختلف حالتوں میں دیکھا ہے ۔ایک بار تو تم بیلچہ چھوڑ کر زمین پر لیٹ کر سو گئے تھے لیکن کچھ ہی دیر میں اٹھے اور پھر کام کرنے لگے۔اس کا راز کیا ہے؟
بوڑھے شخص نے جواب دیا:’’جب میں پہلے کام کررہا تھا تو مجھے یہ خیال آیا کہ میں اب بوڑھا ہوچکا ہوں اور اب تو آفتاب لب بام ہے شاید آج مرجاؤں کل دوسرا دن تو پھر کیوں اتنی محنت کروں اور اتنی کڑی مشقت برداشت کروں! لہذا میں نے بیلچہ چھوڑ دیا اور جاکر سو گیا!
لیکن ابھی کچھ دیر ہی گذری تھی کہ میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ یہ کہاں سے معلوم میری زندگی ختم ہونے والی ہے؟ میرے جیسے بہت سے لوگ ایسے بھی اس دنیا میں گذرے ہیں جن کی عمریں دراز ہوئی اور انسان جب تک زندہ ہے اسے عزت بھری زندگی بہر حال چاہیئے تو اسے اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لئے کوشش کرنا چاہیئے لہذا اس خیال کے آتے ہی میں اٹھا اور دوبارہ کام کرنے میں مشغول ہوگیا۔(2)
اسی وجہ سے کسی بھی معاشرے کو متحرک و فعال معاشرہ بنانے کے لئے اس کے دل میں امید کی کرن کو روشن کئے رہنا بہت ضروری ہے۔
لیکن یہی آرزو اور امید کہ جو انسان کے متحرک ہونے ،کوشش کرنے اور ترقی پانے کا رمز ہے اور جو بارش کے حیات بخش قطروں کی مانند انسان کے دل کی زمین کو زندہ کرتی ہے اگر یہی حد سے گذر جائے تو یہ ایک ویران گر سیلاب کی صورت اختیار کرکے سب اچھائیوں کو بھی اپنے ساتھ بہا لے جاتی ہے اور آخر کار اس انسان کو دنیا پرستی،ظلم و جرائیم اور گناہ کی دلدل میں دھنسا دیتی ہے۔آرزؤں کے اس پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے سرکار ختمی مرتبت(ص) انسان کے دو اہم دشمنوں میں اس کا شمار کرتے ہیں:’’خصلتان اتباع الهوي و طول الامل، فاما اتباع الهوي فانه يعدل عن الحق، اما طول الامل فانه يحبب الدنيا‘‘۔(3)میں تمہارے بارے میں دو چیزوں سے ڈرتا ہوں: ہوا و حوس کی پیروی ،اور دوسرے طویل آرزوئیں،چونکہ ہوا و حوس تمہیں حق سے منحرف کردے گی اور لمبی لمبی آرزوئیں تمہیں دنیا کا حریص نہ بنا دے۔
اس تمہید کے بعد ہم قرآن مجید کی آیات کی طرف پلٹتے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ طویل و لمبی لمبی آرزؤں نے سابقہ امتوں کے متعلق کیا کردار ادا کیا ہے:
1-وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ عَادٍ وَبَوَّأَكُمْ فِي الأرْضِ تَتَّخِذُونَ مِنْ سُهُولِهَا قُصُورًا وَتَنْحِتُونَ الْجِبَالَ بُيُوتًا فَاذْكُرُوا آلاءَ اللَّهِ وَلا تَعْثَوْا فِي الأرْضِ مُفْسِدِينَ (سوره‏اعراف:74)
ترجمہ: اور وہ وقت یاد کرو جب اللہ نے تمہیں قومِ عاد کا جانشین بنایا۔ اور تمہیں زمین میں رہنے کے لئے ٹھکانا دیا کہ تم نرم اور ہموار زمین میں محلات بناتے ہو اور پہاڑوں کو تراش کر مکانات بناتے ہو۔ سو اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔ اور زمین میں فساد مت پھیلاتے پھرو۔
2۔أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (سوره‏شعراء:128 اور 129)
ترجمہ: کیا تم ہر بلندی پر بے فائدہ ایک یادگار تعمیر کرتے ہو؟ اور تم بڑے بڑے محل تعمیر کرتے ہو شاید کہ تم ہمیشہ زندہ رہوگے۔
3- يُنَادُونَهُمْ أَلَمْ نَكُنْ مَعَكُمْ قَالُوا بَلَى وَلَكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ أَنْفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغَرَّتْكُمُ الأمَانِيُّ حَتَّى جَاءَ أَمْرُ اللَّهِ وَغَرَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ(سوره‏حديد:14)
ترجمہ: وہ (منافق) اہلِ ایمان کو پکا ریں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ وہ کہیں گے ہاں تھے مگر تم نے اپنے آپ کو فتنہ (گمراہی) میں ڈالا اور (ہمارے بارے میں گردشوں کا) انتظار کیا (کہ نتیجہ کیا برآمد ہوتا ہے) اور شک و شبہ میں مبتلا رہے اور جھوٹی امیدوں نے تمہیں دھوکہ دیا یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آگیا اور دھوکہ باز (شیطان) نے تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکہ میں رکھا۔
4-أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَلا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الأمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَاسِقُونَ  (سوره‏حديد:16)
ترجمہ: کیا اہلِ ایمان کیلئے ابھی وہ وقت نہیںایا کہ ان کے دل خدا کی یاد اور (خدا کے) نازل کردہ حق کیلئے نرم ہوں اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو اس سے پہلے کتاب دی گئی تھی پس ان پر طویل مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہوئے اور (آج) ان میں سے اکثر فاسق (نافرمان) ہیں۔
5-ذَرْهُمْ يَأْكُلُوا وَيَتَمَتَّعُوا وَيُلْهِهِمُ الأمَلُ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ (سوره‏حجر:3)
ترجمہ: (اے رسول(ص)) انہیں چھوڑ دو کہ وہ کھائیں (پئیں) اور عیش و آرام کریں اور (بے شک جھوٹی) امید انہیں غفلت میں رکھے عنقریب انہیں (سب کچھ) معلوم ہو جائے گا۔
6-أَمْ لِلإنْسَانِ مَا تَمَنَّى فَلِلَّهِ الآخِرَةُ وَالأولَى (سوره‏نجم:24 اور 25)
ترجمہ: کیا انسان کو وہ چیز مل سکتی ہے جس کی وہ تمنا کرتا ہے؟ پس اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہے آخرت بھی اور دنیا بھی (یعنی انجام بھی اور آغاز بھی)۔
7-وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ لُمَزَةٍ الَّذِي جَمَعَ مَالا وَعَدَّدَهُ يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ  (سوره‏همزه:1سے 3)
ترجمہ: تباہی ہے ہر اس شخص کیلئے جو (رُوبرُو) طعن و تشنیع کرنے والا (اور پسِ پشت) عیب جوئی کرنے والا ہے۔ جو مال جمع کرتا ہے اور اسے گن گن کر رکھتا ہے۔ کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اس کا مال اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا۔
8-إِنَّ الَّذِينَ ارْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَى الشَّيْطَانُ سَوَّلَ لَهُمْ وَأَمْلَى لَهُمْ  (سوره‏محمد:25)
ترجمہ: جو لوگ پیٹھ پھیر کر (کفر کی طرف) پیچھے پلٹ گئے بعد اس کے کہ ان پر ہدایت واضح ہو گئی تھی۔ شیطان نے انہیں فریب دیا اورانہیں دور دور کی سجھائی۔
 قارئین کرام! مذکورہ آیات میں تدبر کرنے اور تفاسیر کا مطالعہ کرنے سے یہ باتیں سمجھ میں آتی ہیں:
پہلی اور دوسری آیات قوم عاد و ثمود کے متعلق ہیں ان کے پیغمبر ہود اور صالح(ع) تھے یہ قومیں صنعت اور کاشتکاری میں اپنا نظیر نہیں رکھتی تھیں اور اس طرح دنیا اور اس کی رعانائیوں میں حد درجہ مست ہوگئیں تھیں اور انہوں نے اپنے کو لمبی لمبی آرزؤں کے جال میں گرفتار کرلیا تھا اور وہ  طرح نخوت و غرور میں مبتلا ہوگئ تھیں کہ انہوں نے اپنے پیغمبروں کی خیرخواہانہ دعوت کو بھی ٹھکرا دیا تھا بلکہ ان سے مقابلہ اور لڑائی جھگڑا تک شروع کردیا تھا۔
لہذا مذکورہ بالا پہلی آیت میں قرآن مجید جناب صالح علیہ السلام کے اپنے قوم سے خطاب کو نقل کرتے ہوا فرماتا ہے:’’ اور وہ وقت یاد کرو جب اللہ نے تمہیں قومِ عاد کا جانشین بنایا۔ اور تمہیں زمین میں رہنے کے لئے ٹھکانا دیا کہ تم نرم اور ہموار زمین میں محلات بناتے ہو اور پہاڑوں کو تراش کر مکانات بناتے ہو۔ سو اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔ اور زمین میں فساد مت پھیلاتے پھرو‘‘۔
اور دوسری آیت قوم عاد کی حالت کی وضاحت کررہی ہے کہ:’’ کیا تم ہر بلندی پر بے فائدہ ایک یادگار تعمیر کرتے ہو؟ اور تم بڑے بڑے محل تعمیر کرتے ہو شاید کہ تم ہمیشہ زندہ رہوگے‘‘۔
جناب ہود علیہ السلام انہیں یہ سمجھا رہے تھے کہ تمہارے منحرف ہونے اور کجروی اختیار کرنے کی وجہ تمہاری ہوا و حوس اور تمہاری لمبی لمبی آرزوئیں ہیں جنہوں نے تمہیں اللہ سے غافل کردیا ہے اور تمہیں دنیا کی رعنائیوں میں الجھا دیا ہے۔
قوم عاد و ثمود یہ تصور کرتی تھیں کہ انہوں نے جو محکم اور خوبصورت قلعہ تعمیر کئے ہیں وہ ہر بلا سے انہیں محفوظ رکھیں  گے اور وہ لمبی عمروں تک زندہ رہ کر عیش و نوش کرتے رہیں گے۔
بے شک غرور ، نخوت اور طویل آرزؤں سے حاصل ہونے والی غفلت و بد بختی صرف قوم عاد و ثمود تک ہی منحصر نہیں تھی اور صرف انہیں کا مقدر نہیں بنی تھی بلکہ آج بھی یہ خصلت ممکن ہے بہت سے لوگوں میں پائی جاتی ہو چنانچہ قرآن مجید نے صرف ان دو اقوام کا تذکرہ تو بعنوان مثال و نمونہ کیا ہے اور یہ آیات ہمارے لئے آئینہ ہے کہ ہمیں بھی ان میں اپنے خدو خال کا سنوارنے کی ضرورت ہے۔
مذکورہ بالا آیات میں سے تیسری آیت قیامت کے دن مؤمنین اور منافقین کے درمیان ہونے والی گفتگو کا بیان ہے کہ جب منافقین اپنے کو ظلمت و تاریکی میں دیکھیں گے اور مؤمنین نور ایمان کے سائے میں بہشت میں داخل ہورہے ہونگے وہ ان سے کسب نور کرنے کی درخواست کریں گے لیکن ان دونوں کے درمیان ایک بلند و بالا دیوار حائل ہوجائے گی  تو اس جگہ منافقین،ان مؤمنوں سے کہیں گے:’’ أَلَمْ نَكُنْ مَعَكُمْ‘‘۔ کیا ہم دنیا میں تمہارے ساتھ نہیں تھے تو کیوں تم ہم سے منھ پھیرے جارہے ہو ؟ مؤمنین جواب دیں گے: ہاں ! کیوں نہیں! ہم ایک ساتھ دنیا میں رہے لیکن تم لوگوں نے اپنے کو دھوکہ دیا اور تم مسلمانوں کے کے لئے مسلسل ناگوار حادثوں کے انتظار میں رہتے تھے اور تمہاری لمبی لمبی آرزؤں نے تمہیں مغرور بنا دیا تھا یہاں تک کہ تمہاری موت کا حکم اللہ کی جانب سے آ پہونچا۔
لہذا زیر بحث آیت نے منافقین کی بدبختی کو چار چیزوں میں خلاصہ کیا کہ جن میں چوتھی چیز طویل اور لمبی آرزوئیں ہیں۔
اس آیت کے ذیل میں تفسیر منہج الصادقین اور قرطبی میں رسول اللہ(ص) کی ایک حدیث نقل کی ہے جس کا مضمون یہ ہے:’’ایک مرتبہ رسول اللہ(ص) اپنے صحابہ کو وعظ فرما رہے تھے اور اپنے سامنے زمین پر کچھ سیدھے خط کھینچ رہے تھے اور اس کے بعد ایک لکیر ان سب  کے اوپر کھینچ کر فرمایا:’’ کیا تم جانتے ہو اس کا مطلب کیا ہے؟ سب نے ایک ساتھ عرض کیا:نہیں! یا رسول اللہ(ص)! فرمایا: یہ سب سیدھی لکیریں انسان کی طویل اور لمبی آرزوئیں ہیں کہ جن کی کوئی حد نہیں ہوتی اور وہ عمودی خط(لکیر) موت اور زندگی کا رک جانا ہے کہ جو سب پر کھینچ دی جائے گی جس کے سبب اس کی تمام آرزوئیں خاک میں مل جائیں گی۔(4)
چوتھی آیت مؤمنین کو غیر مستقیم اور انڈاریکٹ مخاطب بنا کر آگاہ کررہی ہے کہ اپنے آپ سے غافل نہ ہونا کہیں ایسا نہ ہو کہ طویل آرزوئیں سابقہ امتوں کی سی طرح تمہیں بھی دوسروں کے لئے باعث عبرت بنا دے ۔ اور اس آیت کی روشنی میں صرف اللہ کے حضور خشوع و خضوع اور اس کی یاد ہی انسان کو لمبی لمبی آرزؤں سے نجات دے سکتی ہے۔
مذکورہ آیات میں سے پانچویں آیت میں پیغمبر اکرم(ص) کو کفار و مشرکین کے سلسلہ خطاب ہوا ہے:’’ اے رسول(ص)) انہیں چھوڑ دو کہ وہ کھائیں (پئیں) اور عیش و آرام کریں اور (بے شک جھوٹی) امید انہیں غفلت میں رکھے عنقریب انہیں (سب کچھ) معلوم ہو جائے گا‘‘۔
اس آیت میں انسان کے وجود کے اندر طویل آرزؤں کے منفی آثار کو بیان کیا گیا ہے اور یہ بتلایا گیا ہے کہ طویل آرزوئیں انسان کو کس طرح اپنے میں مشغول کرکے خدا سے غافل بنا دیتی ہیں۔
مذکورہ بالا آیات میں سے چھٹی آیت اس حقیقت کی طرف اشارہ کررہی ہے کہ اکثر انسان لمبی آرزؤں تک نہیں پہونچ پاتا اور وہ اسے اس طریقہ سے گھیر لیتی ہیں کہ جو امکانات و وسائل سعادت کے راستہ میں کام آسکتے تھے وہی چیزیں اس کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہیں لہذا ارشاد فرماتا ہے:’’ أَمْ لِلإنْسَانِ مَا تَمَنَّى‘‘۔کیا انسان کو وہ چیز مل سکتی ہے جس کی وہ تمنا کرتا ہے؟ پس اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہے آخرت بھی اور دنیا بھی (یعنی انجام بھی اور آغاز بھی)۔
یہ استفہام انکاری ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کبھی اتنی لمبی آرزؤں تک نہیں پہونچ پائے گا چونکہ کبھی کبھی آرزوئیں اس کی عمر سے 10 یا 100 گنا زیادہ تک طویل ہوتی ہیں اور کبھی کبھی تو ان آرزؤں کی کوئی انتہا ہی نہیں رہتی۔
ساتویں آیت سے بخوبی استفادہ ہوتا ہے کہ کبھی لمبی آرزوئیں اس حد تک پہونچ جاتی ہیں کہ انسان موت کو بالکل بھول بیٹھتا ہے اور اپنے کو ہمیشہ ہمیشہ رہنے والا موجود تصور کرنے لگتا ہے اور اسی سبب اس میں سرکشی اور طغیان پیدا ہوجاتا ہے۔
جبکہ آٹھویں اور آخری آیت اس حقیقت کی طرف متوجہ کررہی ہے کہ کیسے ممکن ہے کہ ایک انسان حق کو پہچانتا ہو اور پھر اسے بھول جائے اور نظر انداز کردے اور وہ اپنی نجات کے خواب دیکھتا ہو لیکن غلط راستہ کا انتخاب کرلے۔
مذکورہ تمام آیات میں غور و خوص اور تدبر کرنے سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ طویل اور لمبی لمبی آرزوئیں انسانی سعادت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ،سب سے بڑا دشمن ہے اور جس طرح سابقہ امتیں طویل آرزؤں کے نتیجہ میں گمراہ اور بد بخت بنیں اسی طرح کہیں اس امت کی حالت بھی نہ ہوجائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔بحارالانوار، جلد 74، صفحه‏173۔
2۔بحارالانوار، جلد 14، صفحه‏329 ۔
3۔المحجة البيضاء، جلد 8، صفحه 245۔
 4۔تفسير قرطبي، جلد9، صفحه‏6417۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम