Code : 2410 76 Hit

کیا زیادہ محبت بچے کو بگاڑ دیتی ہے؟

شاید آپ کی ملاقات بھی کسی ایسے فرد سے ہوئی ہو کہ جو بڑے ہوجانے کے باوجود بھی دوسروں کی محبت کے پیاسہ ہو۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کون لوگ ہیں؟ یاد رکھئے یہ وہی لوگ ہیں جو کسی وجہ سے محبت سے محروم رہے ہیں اور اپنے گھر والوں اور خاص طور سے اپنے والدین کی محبت سے سیراب نہیں ہوسکے ہیں۔ لیکن جن بچوں کو بچپن میں والدین کی وافر مقدار میں محبت نصیب ہوتی ہے وہ ہر ایک سے محبت تلاش نہیں کرتے بلکہ ان کی شخصیت میں زیادہ ٹہراؤ اور ثبات پایا جاتا ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! یہ ایک مسلّم حقیقت ہے کہ بچوں کی تربیت میں والدین اور خاص طور پر ماں کا کردار بڑی اہمیت کا حامل ہے، اور خود کسی بچے کی شخصیت میں نکھار یا ابہام، والدین کے سلقیہ تربیت پر موقوف ہوتا ہے۔ہم بچے کو اس پودے سے بھی تشبیہ دے سکتے ہیں جو ابھی ابھی زمین سے نکلا ہو اور اس کی ذمہ داری 2 باغبانوں(والدین) کے سپرد کی گئی ہو تاکہ وہ اس کی حفاظت کریں اور اس کا رخ صحیح سمت میں موڑیں ۔یہ سب ان کی تربیت پر منحصر ہوتا ہے۔
واضح سی بات ہے کہ تمام والدین کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ ان کے بچے خود اعتمادی کے ساتھ جئیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ تمام  والدین اپنے بچوں کی تربیت کے مسلّمہ اصولوں کی روشنی میں تربیت نہیں کرپاتے بلکہ ہر ایک اپنی خود ساختہ روش سے اپنے بچوں کو ہنڈل کرتا ہے جبکہ ان کے ارادے اور جذبات نیک اور مقدس ہوتے ہیں ۔کچھ گھروں میں بچوں کی تربیت مقتدرانہ اور کچھ گھرانوں میں آزادانہ اور آسان طریقہ سے کی جاتی ہے تو کچھ لوگ منطقی طریقوں سے بچوں سے پیش آتے ہیں تو کچھ محبت کے ساتھ!
بہر حال! والدین جس طریقہ و سلیقہ سے بھی تربیت کررہے ہوں ان کا ارادہ نیک ہی ہوتا ہے اور وہ اپنے بچوں کو بہتر زندگی دینے کے لئے اپنا تمام سرمایہ داؤں پر لگانے کو ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔
کیا زیادہ محبت بچوں کو بگاڑ دیتی ہے؟
آج کے زمانے میں اکثر بچوں کو آسایش، سکون اور محبت و شفقت کے ساتھ پروان چڑھایا جارہا ہے اور کبھی کبھی تو والدین اپنے بچوں کو اتنی آزادی و آسایش فراہم کردیتے ہیں کہ وہ ان کی تمام شروط کے سامنے سپر انداختہ نظر آتے ہیں اور ان کو سختی و دشواری سے آشنا تک نہیں  ہونے دیتے ۔
بچے کے بگڑنے کی وجوہات؟
جو والدین بچے کے بگڑنے یا خراب ہوجانے کو محبت تصور کرتے ہیں ان سے ہم یہ کہیں گے کہ شاید تربیت کے مرحلے میں حد درجہ محبت کے نتیجے میں چند فیصد بچے خراب ہوجاتے ہوں لیکن ہماری نظر میں بچوں کے بگڑنے اور خراب ہونے کی اصلی وجہ والدین کا بچوں کی ان خواہشات کے سامنے تسلیم ہوجانا کہ جو ان کے ناموزوں ہیں اور ان کے لئے وہ سب کچھ فراہم کردینا ہے جن کی بچوں کو مستقبل میں بھی شاید ضرورت نہ پڑے۔بچوں کے مطالبات اور توقعات کو چوں چرا کے بغیر پورا کردینا سبب ہوتا ہے کہ بچوں کو نقصان اٹھانا پڑے ۔ اور نقصان سے مراد کوئی مادی نقصان نہیں ہے بلکہ وہ نقصان یہ ہے کہ اس(بچے) کے سلیقہ زندگی میں ایک خلل ایجاد ہوجاتا ہے اور وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اب کوئی اس کی بات نہیں کاٹ سکے گا اور اسے  یہ انتظار و توقع ہوجاتی ہے کہ سب میری بات ویسے ہی مانیں گے جس طرح میرے والدین مانتے ہیں ایسے مواقع پر والدین تصور کرتے ہیں کہ انہیں زیادہ منھ نہ لگا کر ان کے لئے کھیلونے اور دیگر مشغولیات کی چیزیں فراہم کردیں اور اس طرح ہم اپنے فرض سے سبکدوش ہوجائیں گے۔جبکہ یہ فکر غلط ہے اور ایسا کرنے سے ایسے بچے پروان چڑھتے ہیں جن کی توقعات پہلےکی نسبت کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔
اگر والدین اپنے بچوں سے ہر روز یہ کہیں کہ بیٹا ! ہم تم سے بے پناہ محبت کرتے ہیں تو آپ کا یہ اظہار محبت اسے کوئی نقصان نہیں پہونچائے گا۔ بچے کے ساتھ آپ کی محبت آمیز گفتگو اور شفقت آمیز رویہ ،والہانہ انداز میں ۔مگر احتیاط کے ساتھ ۔ اس کی تعریف کرنا اسے کبھی نہیں بگڑنے دے گی لہذا یہ بہانہ بنا کر کہ محبت بچے کو بگاڑ دے گی اسے اپنی محبت سے محروم نہ کیجئے لیکن شرط یہی ہے کہ آپ کی محبت دکھاوٹی نہ ہو بلکہ حقیقی ہو۔(1)
اور کچھ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ بچوں سے حد سے زیادہ محبت اسے معاشرے کی مستقل شخصیت اور ذمہ دار فرد بننے میں بڑی رکاوٹ ہوتی ہے اور اگر اس سے زیادہ محبت کی گئی تو  وہ ایک وابستہ اور ضعیف افکار کا مالک فرد بنے گا۔
اگرچہ ہم اپنے طور پر اس نظریہ کو نہیں مانتے بلکہ ہمارا تو یہ ماننا ہے کہ آپ کی عادلانہ اور متوسط حد میں محبت سے بچے کی صحیح تربیت ہوگی اور وہ آپ کی محبت کے سائے میں زندگی گذار کر ہی مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہوسکے گا پیغمبر اکرم(ص) کا ارشاد ہے:’’جو کوئی مسلمان بچوں سے محبت و شفقت اور بڑوں کا احترام نہ کرے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے‘‘۔(2)
بچوں کو آپ کی سچی محبت اور حقیقی جذبات کی بہت ضرورت ہے اور یہ ان کے لئے اتنا بڑا سرمایہ ہے جس کی بنیاد پر وہ اپنے کو غیروں کی محبت سے مستغنی سمجھتے ہیں ۔شاید آپ کی ملاقات بھی کسی ایسے فرد سے ہوئی ہو کہ جو بڑے ہوجانے کے باوجود بھی دوسروں کی محبت کے پیاسہ ہو۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کون لوگ ہیں؟ یاد رکھئے یہ وہی لوگ ہیں جو کسی وجہ سے محبت سے محروم رہے ہیں اور اپنے گھر والوں اور خاص طور سے اپنے والدین کی محبت سے سیراب نہیں ہوسکے ہیں۔ لیکن جن بچوں کو بچپن میں والدین کی وافر مقدار میں محبت نصیب ہوتی ہے وہ ہر ایک سے محبت تلاش نہیں کرتے بلکہ ان کی شخصیت میں زیادہ ٹہراؤ اور ثبات پایا جاتا ہے چنانچہ اس کے متعلق امام جعفر صادق(ع) کا ارشاد ہے:’’بے شک اللہ تعالیٰ کسی بندے پر اپنے بچوں سے شدید محبت کی بنیاد پر رحم کرتا ہے‘‘۔(3)
محبت کے صحیح طریقے
والدین کو یہ توجہ رکھنا چاہیئے کہ وہ اپنے بچوں کو وقت دیں ، ان کے ساتھ وقت گذاریں اور اگر وقت ہو تو انہیں باہر لیکر جائیں ۔بچوں سے محبت کے لئے وقت اور حوصلہ ہونا ضروری ہے اور جب آپ کے پاس بچوں کے لئے وقت نہ ہو یا ان کی باتیں سننے کا وقت نہ ہو تو پھر ان سے یہ توقع نہ رکھی جائے کہ آپ جیسے ہی گھر پہونچیں تو وہ آپ کے گرد آکر جمع ہوجائیں گے۔
دوسری بات یہ کہ آپ جب بھی اپنے بچوں سے محبت کریں وہ خالص ہو تو پھر بچہ آپ کے ساتھ بھی ویسے ہی پیش آئے گا جیسا آپ آتے ہیں۔
اور آخری بات یہ کہ بچوں کو خراب ہونے اور بگڑنے سے بچانے کے لئے یہ ہدایت ضروری ہے کہ مثال کے طور پر جب آپ کا بچہ کسی چیز کا مطالبہ کرے کہ جس کی اسے ضرورت نہ ہو تو آپ اس کے اس مطالبہ کے سامنے تسلیم نہ ہوں اور پہلے ہی مرحلے میں اسے وہ چیز لاکر مت دیں اور ظاہر ہے ایسے مواقع پر بچہ رونا دھونا شروع کردیتا ہے آپ صبر و تحمل سے کام لیجئے اور اسے اس چیز کے نقصانات کے بارے میں بتلائیے اور اس دوران اس سے آپ کی محبت کی رسّی ڈھیلی نہیں پڑنی چاہیئے تاکہ اسے معلوم ہوسکے کہ آپ کا اس سے محبت کرنا اس مطلوبہ چیز سے کہیں زیادہ قیمتی ہے چنانچہ رسول اللہ (ص) کا ارشاد ہے:’’اپنے بچوں کو دوست رکھو،ان سے محبت کرو اور جو آپ نے ان سے وعدہ کیا ہے اسے پورا کرو‘‘۔(4)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔دکترنسرین امیری، فوق تخصص روان پزشکی اطفال و عضو هیئت علمی دانشگاه علوم بهزیستی در گفتگو با روزنامه خراسان۔
2۔مجموعة ورام، جلد 1، صفحه34 . قالَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّی اللهُ عَلَیْهِ وَ آلِه - : لَیْسَ مِنّا مَنْ لَمْ یَرْحَمْ صَغیرَنا وَ لَمْ یُوَقِّرْ کَبِیرَنا۔
3۔ اصول کافى ، جلد 6، صفحه50 . قال الامام الصادق – (عَلَیْهِ السَّلامُ): اِنَّ اللّهَ‏ لَیَرحَمُ العَبدَ لِشِدَّةِ حُبِّهِ لِوَلَدِهِ۔
4۔اصول کافى جلد 6،  صفحه 49 . اَحِبُوا الصِّبیانَ وَ ارحَمُوهُم وَ اِذا وَعَدتُمُوهُم شَیئاً فَفُوالَهُم۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम