Code : 1527 104 Hit

عریانیت آج کی سب سے مہلک بیماری

انہیں تمدنی اور تہذیبی امراض میں سے ایک عریانیت بھی ہے کہ جہاں آج انسان اپنے برھنہ گھومنے کو اپنی ترقی سے جوڑ کر دیکھ رہا ہے جبکہ اس کے سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ اس ضمیر کا مر چکا ہے اور اسے بے حیائی کا مرض لاحق ہو چکا ہے اور اب اسے اس کے علاج کی شدید ضرورت ہے۔

ولایت پورٹل: اکیسویں صدی کی دنیا بھی عجیب دنیا ہے۔ جبکہ آج انسان نے متعدد علوم اور ٹکنالوجی کے ذریعہ ترقی کے بڑے بڑے قلعوں پر اپنی فتح کے پرچم لہرا دیئے ہیں۔ اور آج انسان گذشتہ زمانے سے زیادہ نعمتوں سے بہرہ مند ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جتنا اس کے پاس آج نعمتوں کی فراوانی ہے ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ اس کے یہاں شکر و قدردانی کے جذبات اور احساسات شدید تر ہوتے لیکن اس کے برعکس اس میں کفران نعمت کے جراثیم زیادہ پنپے ہیں۔
آج اس فلک زدہ و کفر زدہ دنیا میں انسان غرور و تکبر کی کھور میں اس طرح سر ڈالے چرنے میں مشغول ہے کہ وہ اپنی حقیقت ہی بھول گیا ہے اور بہت سی ایسی تمدنی و تہذیبی امراض میں مبتلاء ہوچکا ہے اور وہ ان بیماریوں کے علاج سے بھی غافل ہوگیا ہے اور ہر لمحہ شہوت پرستی اور دنیا پرستی کی دلدل میں دھنستا چلا جارہا ہے۔
انہیں تمدنی اور تہذیبی امراض میں سے ایک عریانیت بھی ہے کہ جہاں آج انسان اپنے برھنہ گھومنے کو اپنی ترقی سے جوڑ کر دیکھ رہا ہے جبکہ اس کے سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ اس ضمیر کا مر چکا ہے اور اسے بے حیائی کا مرض لاحق ہو چکا ہے اور اب اسے اس کے علاج کی شدید ضرورت ہے۔
آج آپ اپنے اطراف و جوانب میں بہت سے ایسے بے شمار لوگوں کو دیکھتے ہیں جو اپنے وقت کا ایک بڑا حصہ اور اپنی کمائی کی کافی مقدار اپنی وضع و قطع کو بہتر کرنے، اپنے چہرے و ابر کو سنوارنے اور اپنے لباس میں اسٹائلش بٹن اور پھول پٹی لگنوانے میں صرف کرتے ہیں یا بہ عبارت دیگر یہ کہا جائے کہ وہ اپنی ظاہری دنیا کو سنوارنے کے لئے اپنی روح اور اپنے ضمیر اور آخرت سے بے پرواہ ہوچکے ہیں اور انہیں یہ احساس بھی نہیں ہے کہ انہیں کوئی خطرناک بیماری لگ گئی ہے اور یہ ایک وبائی مرض ہے جو نسلوں کو تباہ کرسکتا ہے اور انہیں یہ فکر نہیں ہے آج بشریت کے لئے اس سے بڑی کوئی مشکل نہیں ہوسکتی ہے؟
چنانچہ شہید مطہری اپنی مائہ ناز کتاب’’ مسئلہ حجاب‘‘ کے مقدمہ میں اس خطرناک بیماری کے لئے اس طرح اظہار خیال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں:
بے شک عریانیت ہمارے زمانے کی ایک شائع اور رائج بیماری ہے اور جلد یا دیر سے،لوگ اس بیماری کو ضرور پہچان لیں گے اور اگر فرض کیجئے ہم اس امر(عریانیت) میں مغرب کی اندھی تقلید بھی کریں تو جلد ہی مغربی مفکرین اور اس قافلہ کے پیش رو اس بیماری کی حقیقت کا اعتراف کر اس کے قبیح و موذی ہونے کا اعلان کردیں گے لیکن اگر ہم ان کے اقرار و اعلان کے انتظار میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے  بیٹھے رہیں تو مجھے  ڈر اس بات کا ہے کہ کہیں دیر نہ ہوجائے۔
یورپ کی ایک مشہور سلیبریٹی ایک خط میں اپنی بیٹی کو عریاں حالت میں فیلم شوٹ کرنے کی اجازت دیتے ہوئے کہتی ہے کہ فیلم اور فن کے لئے تم سیٹ پر عریاں جا سکتی ہو اور اس عریانیت کو صرف سیٹ تک ہی محدود رکھنا اور یہ کام تمہارا صرف ایک آرٹ کی حد تک ہی رہے وہ لکھتی ہے:
عریانیت ہمارے زمانے کی سب سے رائج و شائع بیماری ہے میں بوڑھی ہوچکی ہوں اور ہوسکتا ہے کہ میری باتیں تمہیں مذاق لگےلیکن میرے خیال میں تمہارا عریاں جسم اس کے لئے ہونا چاہیئے کہ تم جس کی عریاں روح کو پسند کرتی ہوا ور اس میں کوئی قباحت نہیں کہ اس بارے میں اگر تمہارے خیالات تمہیں دس برس پہلے والی کپڑے پہننے کے دور میں لے جائیں تو تم بوڑھی نہیں ہوگی۔بہر حال امید ہے کہ تم جزیرہ عریاں کی اتباع کرنے والی آخری عورت ہو۔(مسئله حجاب، ص15-14 )


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम