Code : 1244 41 Hit

آج امت اسلامیہ کو اپنی بقا و سربلندی کے لئے اتحاد کی ضرورت ہے:آیت اللہ خامنہ ای

آج عالم اسلام اور اسلامی امت کو بڑی مشکلوں اور مصائب کا سامنا ہے۔ یہ بات سچ ہے کہ یہ بہت ساری مصیبتیں خود ہم مسلمانوں کے ذریعہ ہی وجود میں آئی ہیں۔ ہم نے سستی و کوتاہی اور لاپروائی برتتے ہوئے اپنی خود خواہی اور دنیا پرستی کے سبب امت اسلامیہ کو ارتقائے انسانی کی بلندیوں تک پہنچنے سے روکاہے، لیکن اب ہمیں باز آجانا چاہیٔے، اپنی کوششوں کو از سرنو آغاز کرنا چاہیٔے، ہمیں اپنی ماضی کی غلطیوں سے توبہ کرنا چاہیٔے۔ البتہ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ حالیہ تاریخ کی بہت سی اہم مشکلیں، پسماندگیاں آج اور کل کے باطل نظام کی دین رہی ہیں۔ عالمی نظام، اقتدار پسندی والا نظام ہے۔ اس کی بنیاد زور زبردستی پر ٹکی ہوئی ہے۔

ولایت پورٹل: ایک اہم پہلو جو کہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد کی ضرورت کو واضح کرتا ہے۔ وہ خطرات اور دھمکیاں ہیں کہ جن سے عالم اسلام کو روبرو ہونا پڑ رہا ہے اور یہ ایسی دھمکیاں اور خطرات ہیں کہ جن سے امت اسلامیہ میں تفرقہ و افتراق کے باعث، مقابلہ کرنے کی توانائی نہیں پائی جاتی ہے،حالانکہ اگر مسلمان آپس میں متحد ہوجائیں اور ایک متحدہ طاقت بن کر ابھریں تو اسلامی ملکوں میں موجود مالی و افرادی طاقت کے پیش نظر،اسلام دشمنوں کی جانب سے ایجاد کردہ پریشانیوں اور خطرات سے مقابلہ کرنا، بہت آسان ہوگا۔
آج عالم اسلام اور اسلامی امت کو بڑی مشکلوں اور مصائب کا سامنا ہے۔ یہ بات سچ ہے کہ یہ بہت ساری مصیبتیں خود ہم مسلمانوں کے ذریعہ ہی وجود میں آئی ہیں۔ ہم نے سستی و کوتاہی اور لاپروائی برتتے ہوئے اپنی خود خواہی اور دنیا پرستی کے سبب امت اسلامیہ کو ارتقائے انسانی کی بلندیوں تک پہنچنے سے روکاہے، لیکن اب ہمیں باز آجانا چاہیٔے، اپنی کوششوں کو از سرنو آغاز کرنا چاہیٔے، ہمیں اپنی ماضی کی غلطیوں سے توبہ کرنا چاہیٔے۔ البتہ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ حالیہ تاریخ کی بہت سی اہم مشکلیں، پسماندگیاں آج اور کل کے باطل نظام کی دین رہی ہیں۔ عالمی نظام، اقتدار پسندی والا نظام ہے۔ اس کی بنیاد زور زبردستی پر ٹکی ہوئی ہے۔
یہ نظام انسانی زندگی پر استوار نہیں بلکہ جنگلی نظام زندگی پر محیط ہے۔ آپ دیکھیں کہ طاقتور لوگ طاقت کے بھروسے کیا کررہے ہیں ،یہ لوگ سبھی غیر معقول اور غلط باتوں کو زبردستی اور اسلحہ کی منطق اور سیاسی طاقت نیز دولت کے زور پر قابل دفاع اور منطقی بات بتا کر دنیا میں پیش کرتے ہوئے ان پر عمل کرتے ہیں،یہ اقوام عالم کے نزدیک جرم کہلائے جانے والے جرائم کو آشکارا اور کھلے عام انجام دیتے ہیں، اور دکھاوے کے لئے اس کا نام بھی رکھ دیتے ہیں۔ حالانکہ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ کوئی بھی انہیں قبول نہیں کرتا ہے اور کبھی کبھی تو اسے کوئی نام بھی نہیں دیتے اور اس کوپردے میں پوشیدہ بھی نہیں کرتے ہیں۔ صہیونیوں کی غاصب حکومت کھلے عام سرکاری طور پر اس کی حمایت کرتی ہے۔ یہ ہے آج کا عالمی نظام۔ آپ دیکھیں کہ عراق میں کیا ہورہا ہے؟آج امت اسلامیہ کی صورتحال ایسی ہے۔ امت اسلامیہ کا جرم صرف اتنا ہے کہ وہ دنیا کے ایک امیر ترین علاقہ میں واقع ہوئی ہے کیونکہ حالیہ متمدن دنیا کے نظام کے چلانے کا دار و مدار ان امکانات پر موقوف ہے جو دنیا کے اس علاقہ میں فراواں موجود ہیں۔ اس لئے بڑی طاقتوں کی لالچ کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے، اسی لئے یہ لوگ ہر طرح کے جرم و جارحیت کو اپنے لئے جائز سمجھتے ہیں۔ امت اسلامیہ کی صورتحال یہ ہے۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम