Code : 588 14 Hit

امام خمینی(رح) کی ایران واپسی اور انقلاب کی تقدیر کا فیصلہ

یہ وہ دن تھا جب دنیا کی تاریخ بدلنے کا آغاز تھا۔ کیونکہ دنیا شیطانی قوتوں کے ہاتھوں اسیر ہو چکی تھی اور خیبر کی شکست کے بعد ایک مرتبہ پھر یہود اسرائیل نامی قلعہ بنا کر اسے دنیا کے سامنے ایک ناقابل خیر ریاست قرار دئے چکے تھے۔لیکن ایک مرتبہ پھر تاریخ نے اپنے کو دہرایا اور حسین ابن علی (ع) کی اولاد میں سے ہی ایک حسینی شخص، بنام امام خمینی (رض) شیطانی قوتوں کو للکارنے اور حیدری صداؤں کی براقیت سے دشمنوں کو لرزانے کے لئے وطن واپس لوٹے۔

ولایت پورٹل: یکم فروری وہ دن ہے جس دن ایک ایسا انقلاب برپا ہونے کے لئے آیا تھا جس انقلاب نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔
یہ وہ دن تھا جب ۱۹۷۹ میں خمینی کبیر سال ہا سال کی جلا وطنی کاٹ کر ایران واپس آئے اور جس کے بعد صدیوں پرانی بادشاہٹ جڑ سے ختم ہوگئی۔
یہ وہ دن تھا جب دنیا کی تاریخ بدلنے کا آغاز تھا۔ کیونکہ دنیا شیطانی قوتوں کے ہاتھوں اسیر ہو چکی تھی اور خیبر کی شکست کے بعد ایک مرتبہ پھر یہود اسرائیل نامی قلعہ بنا کر اسے دنیا کے سامنے ایک ناقابل خیر ریاست قرار دئے چکے تھے۔
لیکن ایک مرتبہ پھر تاریخ نے اپنے کو دہرایا اور حسین ابن علی (ع) کی اولاد میں سے ہی ایک حسینی شخص بنام امام خمینی (رض) شیطانی قوتوں کو للکارنے اور حیدری صداؤں کی براقیت سے دشمنوں کو لرزانے کے لئے وطن واپس لوٹے۔
کون جانتا تھا کہ وہ مکتب جس کا دعوی دنیا پر امامت کرنے کا تھا وہی مکتب سر سے لے کر پاؤں تک رسومات میں گھرا چکا تھا اور جسے دنیا  نے بھی حاشیہ پر پہونچا دیا تھا۔
لیکن یہ امام خمینی ہی تھے جو دنیا کو ایک مرتبہ پھر سے بتانے آئے تھے کہ تشیع حاکمیت، امامت و ولایت کا مکتب ہے۔ آج تشیع کو حاشیہ سے نکال کر دنیا کی سرخی بنا دیا گیا۔ لبنان، عراق، بحرین، یمن، نائجریا ہر طرف تشیع عروج پر جا پہنچا۔ آج ہماری شعوری حالت اور ہماری بیداری تاریخ ساز عروج تک جا پہنچی ہے۔
وہ خیبر کے زخم خوردہ یہود اسرائیلی جو ناقابل شکست بنے بیٹھے تھے انہیں آج بھی آل حیدر کی مار پڑ رہی ہے اور آل حیدر کی للکار سے پریشان ہیں۔ آج تشیع اپنے قدموں پر الحمداللہ کھڑے ہو کر دنیا کو امامت کا فلسفہ سمجھا رہا ہے۔
1 فروری وہ دن ہے جس دن ایک لمبے عرصے کی خشک سالی  کے بعد  بہار کی آمد ہوئی۔ اسی وجہ سے شیطانی استعمار کے گرگے کہتے ہیں کہ انقلاب کو چالیسویں سالگرہ نہیں دیکھنے دیں گے۔ لیکن انہیں معلوم نہیں’’مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ ۖ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ ۖ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِن شَجَرَةٍ مُّبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ‘‘۔ یہ وہ منور چراغ ہے جسے مشرق و مغرب کی استعماری آندھیاں بجھا نہیں سکتیں!
                             نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن                                       پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम