Code : 2277 95 Hit

حملے بند کرؤ،محاصرہ ختم کرؤ،صلح ہوجائے گی:یمنی فوج کے سربراہ

یمن کی مسلح افواج کے سربراہ کا کہنا ہے کہ صلح کا راستہ حملے بند کرنے اور محاصرہ ختم کرنے سے ہو کر گزرتا ہے۔

ولایت پورٹل:یمن کی مسلح افواج کے سربراہ کا کہنا ہے کہ دشمن اگر صلح کرنا چاہتا ہے تو اسے حملے روکنا ہوں گے اور محاصرہ ختم کرنا ہوا ورنہ ہمارے پاس ایسے اسلحے موجود ہیں کہ ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں ،یمنی مسلح افواج کے سربراہ محمد عبدالکریم الغماری نے الیمن الجدید اخبار کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیاہے کہ ہم طویل جنگ لڑنے کے لیے بھی تیار ہیں اگر دشمن یہی چاہتا ہے، لیکن اگر دشمن چاہتا ہے کہ صلح کر لے تو اس کو عمل کرکے دکھانا ہوگا صرف باتوں سے کام نہیں چلے گا ااس کو حملے روکنا ہوں گے، الغماری میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہیمنی فوج ہر  خطرے سے نمٹنے کے لئے تیار ہے اگرسعودی اتحاد اپنے حملے جاری رکھے گا تو ہم بھی اس کو ایسا جواب دیں گے کہ  رہتی دنیا تک یاد رکھے گا اور آرامکو حملہ کو بھول جائے گا، انہوں نے مزید کہا کہ جتنے ہم پر حملے ہوں  گے ہم اس سے بڑھ کر دفاع کریں  گے جیسا  حملہ ہوگا اس سے سخت جواب دیں گے، الغماری میں مزید کہا کہ ہمارے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور نہ ہی آئے گی ہم اپنے ملک کا دفاع کریں گے جو ہمارا قانونی حق ہے اور ہم اپنے اس حق کو حاصل کرنے کے لیے جان کی بازی لگا دیں گے، یمن کی مسلح افواج کے سربراہ نے کہا کہ دشمن مزید دفاعی  ساز وسامان نئے جنگی ماہرین کو لا کر اپنا وقت اور پیسہ ضائع نہ کرے اس طرح سے اس کو  کچھ حاصل  ہونے والا نہیں ہے ،امریکی اور برطانوی پیشرفتہ ترین اسلحہ ان کی کوئی مدد نہیں کر سکتے اس سے صرف صرف وہ اپنا پیسہ ہی ضائع کریں گےاس لئے امریکہ اور اسرائیل کے کچھ خفیہ مقاصد بھی ہیں جن کو وہ کسی کے سامنے بیان نہیں کر تے ہیں،الغماری میں نصرمن اللہ کاروائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یمن ہر تجاوز کا جواب دینے کے لیے تیار ہے اور اس کاروائی میں ہم نے ایسےاسلحہ  کا استعمال کیا ہے جس کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں پھر بھی ہم نے بہت سارے مخبروں، خیانت کاروں اور وطن فروشوں کو یہ اجازت دے دی کہ وہ نجران چلے جائیں بھاگ کر ہمارے جوان بھاگنے والوں پر گولی نہیں چلاتے۔
 یاد رہے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور نائب وزیر دفاع خالد بن سلمان نے آپس میں کئی میٹنگیں کیں ہیں جن میں صنعاء کی طرف سے دی جانے والی صلح کی تجویز کا ظاہری طور پر استقبال کیا ہے  لیکن اس کے باوجود یمن پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम