Code : 1050 52 Hit

محتاج اور دولت مند

اس نے معذرت کی۔’’ اے اللہ کے رسول(ص)! مجھ سے غلطی ہوگئی اور میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہوں اور اس گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لئے تیار ہوں اور کفارہ کی صورت میں اپنی ملکیت کا آدھا حصہ اپنے اس غریب و مفلس مسلمان بھائی کو عطا کرنا چاہتا ہوں‘‘۔دولت مند آدمی کی بات سن کر وہ غریب مسلمان بول پڑاــ لیکن میں اسے قبول کرنے کے لئے قطعی طور پر آمادہ نہیں ہوں‘‘۔مجلس رسول اللہ(ص) میں بیٹھے ہوئے تمام لوگوں نے دریافت ‘‘۔آخر کویں؟‘‘۔اس مفلس نے جواب دیا:میں ڈرتا ہوں کہ کہیں دولت کی فراوانی ایک دن مجھے بھی اتنا مغرور نہ کردے کہ میں بھی اپنے دوسرے مفلس مسلمان بھائی کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرنے لگوں جیسا اس شخص نے آج میرے ساتھ کیا ہے۔

ولایت پورٹل: رسول مقبول(ص) اپنے معمول کے مطابق اپنے گھر میں بیٹھے تھے۔اصحاب اور دوستوں نے ان کے ارد گرد اس طرح حلقہ کررکھا تھا جیسے انگوٹی کے درمیان نگینہ ہو۔ اسی اثنا میں ایک مفلس اور گدڑی پوش مسلمان مجلس رسول(ص) میں داخل ہوا اور اسلامی روایت کو مد نظر رکھتے ہوئے جس کی روشنی میں ہر شخص کو برابر کا درجہ حاصل ہے اور آداب مجلس کی رو سے نو وارد کو جہاں خالی جگہ ملے اسی جگہ بیٹھ جانا چاہیئے اور یہ خیال نہ کرنا چاہیئے کہ فلاں جگہ میری شأن و شوکت کے مطابق نہیں ہے،وہ غریب مسلمان اپنے بیٹھنے کے لئے خالی جگہ تلاش کرنے لگا۔ اس نے چاروں طرف نگاہ ڈالی تو ایک کونے میں اسے خالی جگہ نظر آئی لہذا نہایت خاموشی کے ساتھ وہ وہاں بیٹھ گیا۔اتفاق کی بات ہے کہ اس کے قریب ایک دولت مند شخص پہلے ہی سے بیٹھا ہوا تھا۔ اس غریب مسلمان کو اپنے قریب بیٹھے ہوئے دیکھ کر اس دولت مند آدمی نے اپنے قیمتی کپڑے سیمٹے اور کنارے ہٹ گیا۔رسول اکرم(ص) بڑے غور سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔دولت مند آدمی کا یہ اخلاق دیکھ کر پیغمبر اکرم(ص) نے اسے مخاطب کیا اور کہا:’’تو ڈر گیا کہ کہیں اس کی مفلسی اور غریبی کا سایہ تجھ پر نہ پڑ جائے؟‘‘۔
اس نے عرض کیا:نہیں! یا رسول اللہ نہیں۔
رسول اللہ(ص) نے سوال کیا:’’ آخر کیا بات تھی جس کی وجہ سے تو اس مفلس آدمی کو دیکھتے ہی ایک طرف ہٹ گیا؟‘‘۔
اس نے معذرت کی۔’’ اے اللہ کے رسول(ص)! مجھ سے غلطی ہوگئی اور میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہوں اور اس گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لئے تیار ہوں اور کفارہ کی صورت میں اپنی ملکیت کا آدھا حصہ اپنے اس غریب و مفلس مسلمان بھائی کو عطا کرنا چاہتا ہوں‘‘۔
دولت مند آدمی کی بات سن کر وہ غریب مسلمان بول پڑاــ لیکن میں اسے قبول کرنے کے لئے قطعی طور پر آمادہ نہیں ہوں‘‘۔
مجلس رسول اللہ(ص) میں بیٹھے ہوئے تمام لوگوں نے دریافت ‘‘۔آخر کویں؟‘‘۔
اس مفلس نے جواب دیا:میں ڈرتا ہوں کہ کہیں دولت کی فراوانی ایک دن مجھے بھی اتنا مغرور نہ کردے کہ میں بھی اپنے دوسرے مفلس مسلمان بھائی کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرنے لگوں جیسا اس شخص نے آج میرے ساتھ کیا ہے۔(اصول کافی،ج۲،باب فضل فقراء المسلمین۔ص۲۶۰)۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منبع

داستان راستان،شہید مطہری(رض)


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम