Code : 1526 89 Hit

شادی شدہ اولاد کے ساتھ والدین کا رویہ

گھر بسانا جتنا مشکل ہے اس سے کہیں زیادہ اس کا بچانا اور چلانا بھی ہے۔لیکن جن گھروں میں بچے اپنے والدین کو لڑتے جھگڑتے دیکھتے ہیں اور اسی ماحول میں پروان چڑھتے ہیں اس ماحول کا اثر ان کی شادی شدہ زندگی پر بھی بڑا منفی پڑتا ہے۔لہذا اگر گھر میں میاں بیوی کے درمیان کسی بات کو لیکر تکرار بھی ہوجائے تو اسے آرام و سکون سے حل کرلینا چاہیئے اور بچوں کو کانوں کان خبر بھی نہ ہونے دینا چاہیئے۔ اور خاص طور پر لڑکیوں کے لئے تربیت کا مرحلہ بہت اہم ہے والدین کو ہمیشہ یہ فکر کرنا چاہیئے کہ ہم ان کی ایسی تربیت کریں جس سے وہ اپنا گھر صحیح سے چلا سکیں۔

ولایت پورٹل: شادی شدہ زندگی ایک نہایت ہی حساس دور ہوتا ہے اس میں والدین کو اپنے بچوں کی ضد کے سامنے تسلیم نہیں ہونا چاہیئے بلکہ انہیں یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ گھر کیسے بستا اور چلتا ہے۔
قارئین کرام! گھر بسانا جتنا مشکل ہے اس سے کہیں زیادہ اس کا بچانا اور چلانا بھی ہے۔لیکن جن گھروں میں بچے اپنے والدین کو لڑتے جھگڑتے دیکھتے ہیں اور اسی ماحول میں پروان چڑھتے ہیں اس ماحول کا اثر ان کی شادی شدہ زندگی پر بھی بڑا منفی پڑتا ہے۔لہذا اگر گھر میں میاں بیوی کے درمیان کسی بات کو لیکر تکرار بھی ہوجائے تو اسے آرام و سکون سے حل کرلینا چاہیئے اور بچوں کو کانوں کان خبر بھی نہ ہونے دینا چاہیئے۔ اور خاص طور پر لڑکیوں کے لئے تربیت کا مرحلہ بہت اہم ہے والدین کو ہمیشہ یہ فکر کرنا چاہیئے کہ ہم ان کی ایسی تربیت کریں جس سے وہ اپنا گھر صحیح سے چلا سکیں۔آئیے بات واضح ہوجائے ہم آپ کی توجہ اس تمثیلی داستان کی طرف مبذول کرنا چاہتے ہیں۔
ایک صبح ہی صبح میاں بیوی کا خوب جھگڑا ہو گیا، بیگم صاحبہ غضبناک ہو کر بولیں... "بس، بہت کر لیا برداشت، اب میں مزید ایک منٹ بھی تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتی"۔
میاں جی بھی طیش میں تھے ... بولے ...
"میں بھی تمہاری شکل دیکھ دیکھ کر تنگ آ چکا ہوں... دفتر سے واپس آوُں تو مجھے نظر نہ آنا گھر میں... اٹھاؤ اپنا ٹین ڈبا اور نکلو یہاں سے"... میاں جی غصے میں ہی دفتر چلے گئے ...
بیگم صاحبہ نے اپنی ماں کو فون کیا اور بتایا کہ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بچوں سمیت میکے واپس آرہی ہے... اب مزید نہیں رہ سکتی اس جہنم میں ...
ماں نے کہا:"بندے کی پتر بن کے آرام سے وہیں بیٹھ، تیری بڑی بہن بھی اپنے میاں سے لڑ کر آئی تھی، اور اسی ضد میں طلاق لے کر بیٹھی ہوئی ہے، اب تو نے وہی ڈرامہ شروع کر دیا ہے.. خبردار جو ادھر قدم بھی رکھا تو.... صلح کر لے میاں سے... اب وہ اتنا بُرا بھی نہیں ہے "...
ماں نے لال جھنڈی دکھائی تو بیگم صاحبہ کے ہوش ٹھکانے آئے اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیں... جب رو کر تھکیں تو دل ہلکا ہو چکا تھا ...
میاں کے ساتھ لڑائی کا سین سوچا تو اپنی بھی کافی غلطیاں نظر آئیں ...
منھ ہاتھ دھو کر فریش ہوئی اور میاں کی پسند کی ڈش بنانی شروع کر دی... اور ساتھ سپیشل کھیر بھی بنا لی... سوچا شام کو میاں جی سے معافی مانگ لوں گی، اپنا گھر پھر بھی اپنا ہی ہوتا ہے...
شام کو میاں جی گھر آئے تو بیگم نے ان کا اچھے طریقے سے استقبال کیا... جیسے صبح کچھ  بھی نہ ہوا ہو ...
میاں جی کو بھی خوشگوار حیرت ہوئی ...
کھانا کھانے کے بعد میاں جی جب کھیر کھا رہے تھے تو بولے:"بیگم، کبھی کبھار میں بھی زیادتی کر جاتا ہوں.. تم دل پر مت لیا کرو، بندہ بشر ہوں، غصہ آہی جاتا ہے"....
میاں جی بیگم کے شکر گزار ہو رہے تھے... اور بیگم صاحبہ دل ہی دل میں اپنی ماں کو دعائیں  دے رہی تھی ...ورنہ تو جذباتی فیصلے نے گھر تباہ کر دیا تھا ...!!
پس اگر والدین اپنی شادی شدہ اولاد کی ہر جائز ناجائز بات کو حمایت کرنا چھوڑ دیں تو رشتے بچ جاتے ہیں۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम