Code : 1401 40 Hit

محروموں کے فریاد رس

امام حسن علیہ السلام کبھی کبھی ایک بڑی رقم یعنی کثیر مال ایک ہی دفعہ،کسی حاجتمند کو بخش دیتے تھے جس سے سبھی کو تعجب ہوتا تھا اور حضرت امام حسن(ع) کا اس بڑی بخشش کا سبب یہ تھا کہ آپ کسی فقیر کو ہمیشہ کے لئے بے نیاز کردینا چاہتے تھے اور وہ اس مال کثیر سے اپنی تمام ضرورتوں کو پورا کرکے ایک عزت مندانہ کام شروع کردیتا تھا اور پھر وہ خود اس لائق بن جاتا تھا کہ اب وہ خود دوسرے غریبوں کی مدد کردینے پر قادر ہوجاتا تھا۔

ولایت پورٹل: دین اسلام نے مالداروں اور ثروتمندوں پر معاشرے کے دبے کچلے اور ضرورتمندوں کے تئیں سنگین ذمہ داری عائد کی ہے اور ’’مسلمان ایک دوسرے کا بھائی ہے‘‘ اس قانون کے تحت ان کے درمیان ایک عمیق رابطہ برقرار کردیا ہے لہذا ایک مستطیع اور صاحب حیثیت مسلمان کو چاہیئے کہ وہ ہمیشہ معاشرے کے محروم لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے کوشا رہے ۔چنانچہ سرکار رسالتمآب(ص) اور آئمہ معصومین(ع) نے صرف یہی نہیں کہ اس بارے میں بہت تأکید فرمائی ہو بلکہ ہر ایک نے اپنے اپنے دور میں انسان دوستی اور محروموں کی فریاد رسی کا اعلٰی نمونہ پیش کیا ہے۔
چنانچہ ہمارے دوسرے امام سرکار حضرت حسن علیہ السلام جس طرح علم، تقویٰ،زہد اور عبادت میں اپنے زمانے میں بے نظیر و بے مثیل تھے اسی طرح بخشش و عطا اور درماندہ لوگوں کی دستگیری اور بے آسراؤں کی فریاد رسی کرنے میں آپ کی کوئی مثال نہیں تھی یہی وجہ ہے کہ جب سخاوت و عطا کی بات آتی ہے تو مورخین کی زبان پر سب سے پہلا نام امام حسن(ع) کا ہی آتا ہے۔
امام حسن(ع) ہمیشہ دردمندوں کی پناہ گاہ،فقراء و بے نواؤں کا سہارا تھے آپ کے دروازے سے کبھی کوئی سائل و فقیر خالی ہاتھ نہیں لوٹا۔غرض جس نے بھی اپنے دکھی دل کی بات حضرت(ع) کے سامنے رکھی آپ نے اس کے زخموں پر ضرور مرہم رکھا۔اور اکثر تو ایسا ہوتا تھا کہ اس سے پہلے کہ کوئی ضرورتمند و حاجت مند آپ کے سامنے آکر اپنی پریشانی کا اظہار کرتا اور  اس کی پیشانی پر شرمندگی کا پسینہ آتا حضرت اس کی حاجت روائی فرمادیا کرتے تھے۔
سیوطی اپنی تاریخ میں تحریر کرتے ہیں:’’حسن بن علی(ع) کی ذات اخلاقی و انسانی فضائل کا سرچشمہ تھی ۔آپ ایک کریم،بزرگوار،باوقار متین اور سخی شخصیت کے مالک تھے اور لوگوں کے دلوں پر آپ کی حکومت تھی‘‘۔(تاریخ سیوطی)
امام حسن علیہ السلام کبھی کبھی ایک بڑی رقم یعنی کثیر مال ایک ہی دفعہ،کسی حاجتمند کو بخش دیتے تھے جس سے سبھی کو تعجب ہوتا تھا اور حضرت امام حسن(ع) کا اس بڑی بخشش کا سبب یہ تھا کہ آپ کسی فقیر کو ہمیشہ کے لئے بے نیاز کردینا چاہتے تھے اور وہ اس مال کثیر سے اپنی تمام ضرورتوں کو پورا کرکے ایک عزت مندانہ کام شروع کردیتا تھا اور پھر وہ خود اس لائق بن جاتا تھا کہ اب وہ خود دوسرے غریبوں کی مدد کردینے پر قادر ہوجاتا تھا۔(طوسى،، الغيبة، تهران، مكتبة نينوى الحديثة ص .٢١٤)


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम