Code : 1407 65 Hit

روزہ مؤمنین کے لئے اللہ کا خاص عطیہ ہے:رہبر انقلاب

یہ بھوک اور پیاس دل کو ایک ایسی پاکیزگی عطا کرتی ہے کہ یہ پاکیزگی ایسے غوروفکر کے امکانات فراہم کرتی ہے کہ’’تَفَکُّرُ سَاعَۃٍ خَیْرٌ مِنْ عِبَادَۃِ سَنَۃٍ‘‘۔ غور و فکر کی یہ نوعیت اور قسم آدمی کے باطن اور دل و جان کی طرف رجوع کی دعوت پر مبنی ہے جو لوگوں کے لئے حقائق کو عیاں کرتی ہے اور حکمت کے باب کھولتی ہے

ولایت پورٹل: مشہور و معروف عارف اور عظیم الشأن فقیہ’’مرحوم حاج میرزا جواد آقا ملکی تبریزی‘‘اپنی گرانقدر کتاب ’’المراقبات‘‘میں فرماتے ہیں:’’    روزہ ایک ایسا عطیۂ الٰہی ہے کہ جسے خداوندعالم نے اپنے بندوں اور مؤمنوں کو عنایت فرمایا ہے، ان کی تعبیر کچھ اس طرح ہے کہ’’اَلصَّوْمُ لَیْسَ تَکْلِیْفاً بَلْ تَشْرِیْفاً‘‘روزے کو ایک فریضے کی حیثیت سے نہ دیکھیں بلکہ تشریف و تکریم کی نگاہ سے دیکھیں کہ ’’یُوْجِبُ شُکْراً بِحَسَبِہٖ‘‘روزہ کے فریضہ کے سلسلہ میں (یہ توجہ جو کہ بندوں کے سلسلہ میں تکریم الٰہی ہے، خود ہی شکر کا باعث ہے) خدا کا شکر بجالانا چاہیئے، مولفِ محترم، رمضان کے مہینہ میں بھوک اور پیاس کی سختیوں کے بارے میں جو کہ مؤمنین کو اٹھانی پڑتی ہیں اور یہ لوگ اسے فریضہ سمجھ کر انجام دیتے ہیں، ان کے متعدد و فوائد بیان کرتے ہیں جن کو انھوں  نے روایتوں سے اخذ کیا ہے یا آپ کے پاک و پاکیزہ اورنورانی دل کی آواز ہے۔ان میں سے کچھ یا اہم ترین فوائد یہ ہیں۔(جس کے بارے میں فرماتے ہیں:’’یہ بھوک اور پیاس دل کو ایک ایسی پاکیزگی عطا کرتی ہے کہ یہ پاکیزگی ایسے غوروفکر کے امکانات فراہم کرتی ہے کہ’’تَفَکُّرُ سَاعَۃٍ خَیْرٌ مِنْ عِبَادَۃِ سَنَۃٍ‘‘۔(مستدرک، ج:۱۱،ص:۱۸۳)۔ غور و فکر کی یہ نوعیت اور قسم آدمی کے باطن اور دل و جان کی طرف رجوع کی دعوت پر مبنی ہے جو لوگوں کے لئے حقائق کو عیاں کرتی ہے اور حکمت کے باب کھولتی ہے کہ جس سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ عمر کے بارے میں غور و فکر کریں کیونکہ یہ ہر آدمی کا اصلی سرمایہ ہے۔ یہ سبھی خیرات، اسی عمر یعنی، جلد گذر جانے والے لمحات کے ذریعہ حاصل ہوتی ہیں۔ یہ ایسا سرمایہ ہے جو انسانوں کے لئے بہشت جاوید اور ابدی سعادت کا امکان فراہم کرسکتا ہے۔ ہمیں اس عمر کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔ گذراں عمر کا خیال رکھیں، زندگی کے شب و روز اور عمر کے لمحات اور اوقات کا احساس کریں، اس گذراں وقت کے بارے میں توجہ مبذول کریں’’عمر ایک برف کی مانند ہے‘‘ یہ لمحہ بہ لمحہ گھٹتی ہی جاتی ہے اور یہ صرف اس لئے ہوتی ہے کہ یہ ہمارا حصول آخرت کے لئے سرمایہ ہے، ہمیں یہ توجہ رکھنی ہوگی کہ اس سرمایہ کا استعمال کس طرح سے کریں اور کن چیزوں اور راہوں کے لئے اس کا استعمال عمل میں لائیں۔اس موت کے بارے میں غور و فکر جو اس دنیا سے گذر کر دوسرے عالم کی جانب بازگشت ہے جو جسم سے روح کے نکلنے اور ملک الموت سے ملاقات اور روبرو ہونے کا وقت ہے، یہ لمحہ ہمارے لئے پیش آتا ہے:’’کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ‘‘۔(سورۂ آل عمران:۱۸۵)
ہم سب کو اس کا مزہ چکھنا ہے۔اس وقت ہماری حالت کیا ہوگی؟ ہمارے دلوں کی کیفیت کیسی ہوگی، یہ سب ایسی باتیں ہیں کہ جن پر غور و فکر کی ضرورت ہے اور ان سب چیزوں پر غور و فکر لازمی اور بنیادی تفکرات اور ضروریات میں سے ہے۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम