Code : 2540 182 Hit

شیطان کے گمراہ کن ہتھکنڑے

قرآنی آیات کی روشنی میں انسان کا سب سے بڑا دشمن شیطان ہے لہذا انسان کو شیطان کی مکاریوں اور فریب سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔جبکہ اکثر لوگ اپنے ہم نوع یعنی دیگر انسانوں کو ہی اپنا دشمن تصور کرتے ہیں۔ لیکن شیطان ایسا دشمن ہے جو آپ کا مال نہیں چراتا یا آپ کی زمین پر قبضہ نہیں کرتا بلکہ یہ انسان کو راہ راست سے گمراہ کرکے اسے اندھیروں میں بھٹکنے کے لئے ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیتا ہے اور یہ اتنا عظیم جرم ہے جسے اللہ دشمنی سے تعبیر کرتا ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! اس زندگی کو صحیح طور پر گذارنے کے لئے جہاں ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا دوست کون ہے تو وہیں ہمیں یہ سمجھنے کی بھی اشد ضرورت ہے کہ ہمارا دشمن کون ہے؟یا دوسرے الفاظ میں یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ایک کامیاب زندگی کے جہاں دوسرے شرائط و خصوصیات اہمیت کے حامل ہیں وہیں حقیقی دوست اور دشمن کی شناخت بھی اہم ہوتی ہے۔ لہذا جہاں قرآن مجید نے انسان کو اس کے دوستوں اور ان کی وفاداریوں سے آگاہ کیا ہے وہیں دشمن اور ان کی مکاریوں اور سازشوں سے بھی آگاہ کیا ہے۔
یوں تو انسان کو ہمیشہ دشمن سے خطرہ رہتا ہے لیکن اس میں سب سے بڑا خطرہ ایک مؤمن کو ہوتا ہے اور قرآنی آیات کی روشنی میں انسان کا سب سے بڑا دشمن شیطان ہے لہذا انسان کو شیطان کی مکاریوں اور فریب سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔جبکہ اکثر لوگ اپنے ہم نوع یعنی دیگر انسانوں کو ہی اپنا دشمن تصور کرتے ہیں کہ جنہوں نے ان کے مال میں خرد برد کی ہے یا ان کی زمین پر اپنا قبضہ کرلیا ہے ۔ اگرچہ جو کسی کا ناحق مال غصب کرلے یا کسی کی زمین پر ناجائز قبضہ جما لے وہ یقینی طور پر دشمن ہے ۔ لیکن ہم سب کو یہ سوچنے کی بھی ضرورت ہے کہ اسلام نے بنی نوع انسان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تأکید کی ہے چونکہ جن لوگوں نے آپ کا مال ہتھیایا یا آپ کی زمین پر قبضہ کیا،ہوسکتا ہے وہ ایک دن اپنی غلطی پر پشیمان ہوکر آپ کا سب کچھ لوٹا دیں اور  اس طرح آپ کے نقصان کی بھرپائی ہوسکتی ہے لیکن شیطان ایسا دشمن ہے جو آپ کا مال نہیں چراتا یا آپ کی زمین پر قبضہ نہیں کرتا بلکہ یہ انسان کو راہ راست سے گمراہ کرکے اسے اندھیروں میں بھٹکنے کے لئے ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیتا ہے اور یہ اتنا عظیم جرم ہے جسے اللہ دشمنی سے تعبیر کرتا ہے۔
قارئین کرام! اگر ہم قرآن مجید کی آیات میں تدبر اور غور و خوض کریں تو ہمیں متعدد آیات میں’’ شیطان، شیاطین، وسوسہ، وسواس‘‘ جیسے الفاظ ملتے ہیں۔ اور قرآنیات کا مطالعہ کرنے والے افراد جانتے ہیں کہ بار بار قرآن مجید میں کسی لفظ کی تکرار اس کی اہمیت یا خطرے کو سمجھانے کے لئے کی جاتی ہے چنانچہ لفظ’’ شیطان‘‘ 70 مرتبہ اور لفظ’’ شیاطین‘‘ 18 مرتبہ نیز ’’وسوسہ اور وسواس‘‘ ایک ایک بار قرآن مجید میں آئے ہیں جس کا مطلب صاف ہے کہ شیطان کی طرف سے انسان اور خاص طور پر مؤمن کو لاحق خطرات کا شدید اندیشہ ہے چنانچہ خطرہ جتنا شدید ہوتا ہے خدائے لطیف کی طرف سے اس سے نپٹنے کے لئے اور قافلہ انسانیت کو منزل مقصود تک پہونچانے کے لئے آگاہی اور رہنمائی بھی اتنی ہی محکم و استوار ہوتی ہے لہذا انسان کو  ہمہ وقت شیطان اور اس کی مکاریوں،فریب اور وسوسوں سےہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ شیطان کے القائات کن لوگوں پر کارگر اور اثر گذر ہوتے ہیں اس کے لئے اگر روایات تفسیری کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ شیطانی القائات سے صرف اللہ کے خاص و پاک بندے ہی محفوظ رہتے ہیں اور باقی دیگر افراد کو ان خطرات سے بچنے اور محفوظ رہنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیئے۔
البتہ ہمارے سابقہ بیان سے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا نہ ہو کہ شیطان اللہ کے نیک، پاک اور خاص بندوں کو بہکانے کی کوشش نہیں کرتا۔
نہیں! ایسا بالکل بھی نہیں ہے! بلکہ شیطان ہمیشہ نیک بندوں کو بھی طرح طرح سے ورغلانے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ یہ بات جانتے ہیں کہ جو بھی ہمیں اللہ کی راہ سے ادھر ادھر آنے کا مشورہ دے وہ شیطان ہے لہذا ہزار ھا کوشیشوں کے باوجود اس کا بس ان حضرات پر نہیں چلتا جیسا کہ ہمیں جناب ابراہیم و اسماعیل و ہاجرہ(ع) کے واقعہ میں شیطان کی آمد کے متعلق ملتا ہے لیکن ان تینوں بزرگ ہستیوں نے اسے بر وقت پہچان کر اسے دور بھگا دیا اور پھر دوبارہ ان کے قریب آنے کی اس میں ہمت نہ ہوئی۔
چنانچہ اس سلسلہ میں قرآن مجید کی سب سے معروف آیہ کریمہ:’’قال فبعزّتک لأغوینّهم اجمعین الا عبادک منهم المخلصین‘‘۔(1)
ترجمہ: اس نے کہا تو پھر تیری عزّت کی قسم میں سب کو گمراہ کروں گا۔علاوہ تیرے ان بندوں کے جنہیں تو نے خالص بنالیا ہے۔
ایک دوسری آیت میں شیطان کی انسان کے تئیں دھمکی کو قرآن مجید نے اس طرح نقل کیا ہے:’’لازیننّ لهم فی الأرض و لأغوینّهم اجمعین.الا عبادک منهم المخلصین’’۔(2)
ترجمہ:میں ان(تیرے بندوں) کے لئے زمین میں ساز و سامان آراستہ کروں گا اور سب کو اکٹھا گمراہ کروں گا۔ علاوہ تیرے ان بندوں کے جنہیں تو نے خالص بنا لیا ہے۔
شیطان کے گمراہ کن ہتھکنڑے
قارئین کرام! شیطان ڈائریکٹ آکر کسی انسان کے ہاتھ میں ہتھیار نہیں تھما دیتا کہ جاؤ اور فلاں شخص کو قتل کردو بلکہ اس کے بہکانے کے کچھ ہتھکنڑے اور وسائل ہوتے ہیں جنہیں وہ اپنا کر بندگان خدا کو یاد خدا،نماز اور عبادات سے غافل بنا دیتا ہے جیسا کہ قرآن مجید شیطانی حربوں اور ہتھکنڈوں کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:’’انّما یرید الشیطان ان یوقع بینکم العداوة و البغضاء فی الخمر و المیسر و یصدّکم عن ذکر اللّه و عن الصّلوة فهل انتم منتهون‘‘۔(3)
ترجمہ: شیطان تو بس یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوے کے بارے میں تمہارے درمیان بغض اور عداوت پیدا کردے اور تمہیں یاد خدا اور نماز سے روک دے تو کیا تم واقعاً رک جاؤ گے؟۔
اس آئہ کریمہ میں شیطان کے چند ہتھکنڑوں کے بارے میں بتلایا گیا ہے:
1۔آپس میں دشمنی اور عداوت ایجاد کرنا۔
2۔جوا اور شراب کے ذریعہ آپس میں پھوٹ ڈالنا اور انتشار پھیلانا۔
3۔خدا کی یاد سے غافل بنانا۔
4۔ نماز کو ترک کروانے کی کوشش کرنا۔
ایک دوسری جگہ پر قرآن مجید کا ارشاد ہوتا ہے:’’الشیطان یعدکم الفقر و یأمرکم بالفحشاء و اللّه یعدکم مغفرةً منه و فضلاً و اللّه واسع علیم‘‘۔(4)
ترجمہ: شیطان تم سے فقیری کا وعدہ کرتا ہے اور تمہیں برائیوں کا حکم دیتا ہے اور خدا مغفرت اور فضل و احسان کا وعدہ کرتا ہے۔خدا صاحبِ وسعت بھی ہے اور علیم و دانا بھی۔
اس آئہ کریمہ میں شیطان کے کچھ دیگر ہتھکنڑوں کا تذکرہ کیا گیا ہے:
1۔لوگوں کے دل میں مال و ثروت کے کم ہوجانے کا خوف ڈالنا، در حقیقت بندگان خدا کا خدا  ہر سے اعتماد کم کرنا۔
2۔لوگوں کو فحشاء و فساد پر  وادار و آمادہ کرنا یعنی درحقیقت لوگوں کو خدا کی معصیت و نافرمانی پر اکسانا۔
چنانچہ جب کسی مؤمن پر زکات یا خمس واجب ہوتا ہے اور وہ نکالنا چاہتا ہے تو شیطان اس کے دل میں یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ نہ دو ممکن ہے اگر یہ سب مال تمہاری ثروت میں سے کم ہوجائے گا تو تم فقیر و نادار بن جاؤگے۔ اور مؤمن کے دل میں بخل جیسی بیماری کا بیج بو دیتا ہے جس کے سبب انسان خدا کی نافرمانی کرنے تک سے گریز نہیں کرتا۔ اور اپنے ذمہ عائد واجب حقوق سے بھی سرپیچی کرنے لگتا ہے۔(5)
قرآن مجید کی ایک اور آیت میں شیطان کے انسان کو بہکانے کے ہتھکنڑوں کی طرف اس طرح اشارہ ہوتا ہے چنسا کہ جناب آدم و حوا(ع) کے واقعہ میں ہمیں ملتا ہے:’’و قاسمهما انّی لکما لمن النّاصحین.فدلّهما بغرور…‘‘۔(6)
ترجمہ: اور شیطان نے دونوں کے سامنے آکر قسم کھائی کہ میں تمہیں نصیحت کرنے والوں میں ہوں ۔پھر انہیں دھوکہ کے ذریعہ درخت کی طرف جھکا دیا۔
جب ان لوگوں نے شجرہ ممنوعہ کا پھل کھا لیا اور متوجہ ہوئے کہ وہ شیطان کے فریب میں آگئے ہیں تو انہوں نے شرمندگی کے باعث اللہ کی بارگاہ میں دعا کے لئے ہاتھ اٹھادیئے اور عرض کیا:’’ربنا ظلمنا انفسنا و ان لم تغفرلنا و ترحمنا لنکوننّ من الخاسرین‘‘۔(7)
ترجمہ: ان دونوں نے کہا کہ پروردگار ہم نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے اب اگر تو معاف نہ کرے گا اور رحم نہ کرے گا تو ہم خسارہ اٹھانے والوں میں ہوجائیں گے۔
مفسرین نے نقل کیا ہے کہ حضرت آدم و حوا(ع) اپنے ترک اولیٰ کی تلافی کی خاطر 300 برس تک ایک دوسرے سے الگ رہے اور اللہ کی بارگاہ میں دعا، اور گریہ و زاری کرتے رہے اس کے بعد جبریل(ع) نازل ہوئے اور انہیں یہ تعلیم دی کہ پنجتن پاک کے صدقہ میں اس سے دعا کرو تو وہ تمہیں بخش دے گا۔
چنانچہ آدم علیہ السلام نے اس طرح دعا فرمائی:’’اللهم انّی اسئلک بحقّ محمد و آل محمد لما غفرت لی و غفراللّه له‘‘۔(8)
اے پروردگار! محمد و آل محمد(ص) کے صدقہ میں میری خطا کو معاف فرما اور مجھے بخش دے اور اللہ نے انہیں معاف کردیا۔
انتباہ
اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم(ع) کو شیطان کے خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے اس طرح ارشاد فرمایا ہے:’’یا بنی آدم لایفتننکم الشّیطان کما اخرج ابویکم من الجنة…‘‘۔(9)
ترجمہ: اے اولاد آدم خبردار شیطان تمہیں بھی نہ بہکادے جس طرح تمہارے ماں باپ کو جنّت سے نکال دیا۔
شیطان کی جانب سے ان تمام خطرات کے باوجود اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کی ڈھارس بندھائی ہے اور ان کے دل میں امید کے چراغ روشن کئے ہیں اور شیطان کو مایوس کیا ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:’’ انّ عبادی لیس لک علیهم سلطان الا من اتّبعک من الغاوین‘‘۔(10)
ترجمہ: میرے بندوں پر تیرا کوئی اختیار نہیں ہے علاوہ ان کے جو گمراہوں میں سے تیری پیروی کرنے لگیں۔

......................................................................................
حوالہ جات:
1.    سوره ص، آیه 83 ـ 82۔
2. سوره حجر،آیه 40 ـ 39.
3. سوره مائده، آیه 91.
4. سوره بقره،آیه 268.
5.مجمع البیان، ج 1، ص 381.
6. سوره اعراف، آیه 22.
7. سوره اعراف، آیه 23.
8. در پرتو ولایت، ص 157.
9. سوره اعراف، آیه 27.
10. سوره حجر، آیه 42.



0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین