Code : 937 191 Hit

بے پردگی کا انجام اور سزا

پردہ دین کی رو سے ایک واجب اور فرض امر ہے لہذا اسلام خواتین کو کسی بھی طرح کی بے پردگی یا بد حجابی، جیسا کہ نامحرموں کے سامنے کھلے سر جانا یا ان کے سامنے سج سنور کر جانا یا فیشن کے نام پر ایسا نازک لباس پہننا جو نامحرم کے لئے باعث تحریک ہو، کی اجازت نہیں دیتا ہے اور نہ ہی کسی مسلمان خاتون کو یہ حق پہونچتا کہ وہ جھوٹی شأن و شوکت یا جمال کو ظاہر کرنے کے لئے اللہ کے کے اس عظیم حکم کو پیرو تلے روندے۔

ولایت پورٹل: پردہ دین کی رو سے ایک واجب اور فرض امر ہے لہذا اسلام خواتین کو کسی بھی طرح کی بے پردگی یا بد حجابی، جیسا کہ نامحرموں کے سامنے کھلے سر جانا یا ان کے سامنے سج سنور کر جانا یا فیشن کے نام پر ایسا نازک لباس پہننا جو نامحرم کے لئے باعث تحریک ہو، کی اجازت نہیں دیتا ہے اور نہ ہی کسی مسلمان خاتون کو یہ حق پہونچتا کہ وہ جھوٹی شأن و شوکت یا جمال کو ظاہر کرنے کے لئے اللہ کے کے اس عظیم حکم کو پیرو تلے روندے۔
یہ تو بات تھی ایک مسلم معاشرہ میں ایک خاتون پر پردے سے متعلق لاگو حکم کی۔البتہ کوئی بھی انسان چاہے جس طبقے اور مکتب فکر سے تعلق رکھنے والا ہو وہ اسے عورت کے حق میں اسلام کی زیادتی تصور نہ کرے چونکہ پردہ عورت پر کوئی جبر نہیں ہے بلکہ یہ اس کی فطرت کی آواز ہے اور یہ اس کا فطری اور تخلیقی لباس ہے جسے زیب تن کرنے کا اس کے پروردگار نے حکم دیا ہے لہذا جن خواتین کی تربیت ایک اچھے اور مہذب اسلامی معاشرہ میں ہوئی ہے انہیں کبھی بھی پردہ بوجھ محسوس نہیں ہوتا بلکہ خواتین پردے میں خود کو زیادہ با عزت،باکرامت اور محفوظ  محسوس کرتی ہیں۔
جہاں بے پردگی پر بہت سے دنیاوی برے آثار مرتب ہوتے ہیں کہ جن سے پورے  معاشرہ معاشرہ کے تباہی کے دہانے پر آکھڑے ہوتے ہیں ان کے علاوہ قرآن اور روایات معصومین میں بہت سے ایسے نتائج کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو ہر ایک بے پردہ اور بد حجاب عورت کو قیامت میں در پیش ہونگے۔چنانچہ سب سے پہلے پردے کے واجب ہونے کو قرآن مجید نے ثابت کیا ہے لہذا جو خواتین پردہ سے بغاوت کو اپنا حق سمجھتی ہیں انہیں سورہ مبارکہ نور کی ۱۹ ویں آیت کریمہ  میں اس طرح متنبہ کیا گیا ہے:’’ إِنَّ الَّذینَ یُحِبُّونَ أَنْ تَشیعَ الْفاحِشَةُ فِی الَّذینَ آمَنُوا لَهُمْ عَذابٌ أَلیمٌ فِی الدُّنْیا وَالْآخِرَةِ‘‘۔(سورہ نور:۱۹)۔ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ صاحبانِ ایمان میں بدکاری کا چرچا پھیل جائے ان کے لئے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی بڑا دردناک عذاب ہے۔
اور اسی طرح روایات میں بھی ایسی خواتین کہ جو پردہ کو اہمیت نہیں دیتیں اور جو محرم و نامحرم کے سامنے جانے کسی خاص کیفیت اور شرط کو لازم نہیں سمجھتیں ان کے لئے یہ دردناک اور دل ہلا دینے والے عذاب کا عدہ کیا گیا ہے:
1۔رحمت الہی سے دوری
پیغمبر اکرم(ص) ایک خاتون کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’یَا حَوْلَاءُ لَا تُبْدِی زِینَتَکِ لِغَیْرِ زَوْجِکِ یَا حَوْلَاءُ لَا یَحِلُّ لِامْرَأَةٍ أَنْ تُظْهِرَ مِعْصَمَهَا وَ قَدَمَهَا لِرَجُلٍ غَیْرِ بَعْلِهَا وَ إِذَا فَعَلَتْ ذَلِکَ لَمْ تَزَلْ فِی لَعْنَةِ اللَّهِ وَ سَخَطِهِ وَ غَضِبَ اللَّهُ عَلَیْهَا وَ لَعَنَتْهَا مَلَائِکَةُ اللَّهِ وَ أَعَدَّ لَهَا عَذَاباً أَلِیماً‘‘۔(عیون أخبار الرضا(علیه السلام)، ج 2، ص 11)
اے حوالاء! اپنے بناؤ سنگار کو اپنے شوہر کے علاوہ کسی غیر کے سامنے ظاہر مت کرنا،اے حولاء! کسی بھی خاتون کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی خوبصورتی اور اپنے پیروں کو اپنے شوہر کے علاوہ کسی غیر کے لئے ظاہر کرے اور اگر اس نے ایسا کیا تو وہ ہمیشہ اللہ تعالٰی کی لعنت و غضب میں رہے گی اور اس پر اللہ اور اس کے فرشتے لعنت کریں گے  اور اللہ قیامت میں اسے دردناک عذاب میں مبتلاء کرے گا۔
2۔بالوں کے بَل لٹکایا جانا
رسول خدا(ص) نے معراج کی شب اعلٰی علیین میں جو کچھ مشاہدہ کیا ان میں سے ایک چیز یہ بھی بیان فرمائی:’’رَأَیْتُ امْرَأَةً مُعَلَّقَةً بِشَعْرِهَا یُغْلَی دِمَاغُ رَأْسِهَا‘‘۔میں نے شب معراج ایک ایسی عورت کو دیکھا جسے بالوں کے سہارے لٹکایا ہوا تھا اور جس کے سر میں موجود مغز آتش جہنم سے اُبل رہا تھا۔
پھر اس کے بعد حضرت اس علت کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں جو اس عورت کے یہاں تک پہونچنے کا سبب بنا فرمایا:’’ أَمَّا الْمُعَلَّقَةُ بِشَعْرِهَا فَإِنَّهَا کَانَتْ لَا تُغَطِّی شَعْرَهَا مِنَ الرِّجَال‘‘۔(عیون أخبار الرضا(علیه السلام)، ج 2، ص 11)اور اس کو جہنم میں بالوں سے لٹکانے کی وجہ یہ تھی کہ وہ نامحرم مردوں سے اپنے بالوں کو نہیں چھپاتی تھی۔
3۔اپنے بدن کا گوشت نوچنا
اسی طرح بے پردہ خواتین کو جہنم میں پہونچنے والی ایک تکلیف یہ ہے کہ وہ خود ہی اپنے بدن کا گوشت نوچ نوچ کر پھینکیں گی چنانچہ سابقہ حدیث(حدیث معراج) میں ہی رسول اللہ (ص) نے اپنے بیان کو جاری رکھتے ہوئے ایک ایسی عورت کا تذکرہ فرمایا جو اپنے ہی جسم کا گوشت نوچ کر پھینک رہی تھی:’’رَأَیْتُ امْرَأَةً تُقَطَّعُ لَحْمُ جَسَدِهَا مِنْ مُقَدَّمِهَا وَ مُؤَخَّرِهَا بِمَقَارِیضَ مِنْ نَار‘‘۔میں نے ایک ایسی خاتون کو دیکھا کہ جو اپنے جسم کے اگلے اور پچھلے حصہ کا کا گوشت آتشی قیچی سے کاٹ کر پھینک رہی تھی۔( عیون أخبار الرضا(علیه السلام)، ج 2، ص 11)
اور اس کا سبب بیان کرتے ہوئے فرمایا:’’ أَمَّا الَّتِی کَانَتْ تَقْرِضُ لَحْمَهَا بِالْمَقَارِیضِ فَإِنَّهَا کَانَتْ تَعْرِضُ نَفْسَهَا عَلَی الرِّجَال‘‘۔اور وہ عورت جو اپنے بدن کا گوشت نوچ کر پھینک رہی تھی وہ ایسی خاتون تھی جس نے دنیا میں اپنے کو نامحروم کے سامنے پیش کیا تھا۔
قارئین کرام! یہ بے پردہ خواتین کے عذاب سے متعلق معراج کے تذکرہ میں مفصل روایت ہے شائقین خود مراجعہ کرسکتے ہیں۔بس آخر میں ہم مولائے کائنات علی ابن ابی طالب علیہ السلام  کی بیان کردہ ایک حدیث کو رقم کرکے آپ سے اجازت چاہیں گے۔
امیرالمؤمنین علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:’’یَظْهَرُ فِی آخِرِ الزَّمَانِ وَ اقْتِرَابِ السَّاعَةِ وَ هُوَ شَرُّ الْأَزْمِنَةِ نِسْوَةٌ کَاشِفَاتٌ عَارِیَاتٌ مُتَبَرِّجَاتٌ مِنَ الدِّینِ دَاخِلَاتٌ فِی الْفِتَنِ مَائِلَاتٌ إِلَی الشَّهَوَاتِ مُسْرِعَاتٌ إِلَی اللَّذَّاتِ مُسْتَحِلَّاتٌ لِلْمُحَرَّمَاتِ فِی جَهَنَّمَ خَالِدَاتٌ۔( برگرفته از مجموعه آثار استاد شهید مطهری،ج 1، ص293)
آخر الزمان اور قیامت کے نزدیک۔کہ جو سب سے برا زمانہ ہوگا(چونکہ دنیا ظلم و جور سے بھر جائے گی) کچھ ایسی بے پردہ اور عریاں عورتیں ظاہر ہونگی کہ جو دین سے خارج ہوچکی ہونگی(دین کے احکام کی مخالفت کرنے کے سبب) جو فتنوں(عیش و شہوت کی محفلوں) میں ڈھٹائی کے ساتھ وارد ہونگی اور شہوت میں ڈوبی ہوئی اور لذات دنیا کی طرف ان کے قدم تیزی سے اٹھنے والے ہونگے۔جو  حرام خدا کو حلال کردیں گی لہذا ایسی عورتیں جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گی۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम