Code : 1445 98 Hit

شب ہائے قدر کے مشترک و مخصوص اعمال

مفاتیح الجنان میں مرقوم ہے کہ رمضان المبارک کی انیسویں رات پہلی شب قدر ہے اور شب قدر وه رات ہے که پورے سال کوئی رات اس کی فضیلت کو نہیں پہنچ سکتی۔ یہ رات ہزار مہینوں سے افضل اس رات کے اعمال ہزار مہینوں کے اعمال سے بہترہیں۔اس رات میں سال کے امور مقدر ہوتے ہیں اور ملائکہ اور روح جو سب سے عظیم ملک ہے اس رات میں پروردگار کے حکم سے زمین پر نازل ہوتے ہیں اور امام زمانہ (عج) کی خدمت میں پہنچتے ہیں اور جو کچھ ہر شخص کے لئے مقدر ہوا ہے امام کے روبرو پیش کرتے ہیں۔

ولایت پورٹل: مفاتیح الجنان میں مرقوم ہے کہ رمضان المبارک کی انیسویں رات پہلی شب قدر ہے اور شب قدر وه رات ہے که پورے سال کوئی رات اس کی فضیلت کو نہیں پہنچ سکتی۔ یہ رات ہزار مہینوں سے افضل  اس رات کے اعمال ہزار مہینوں کے اعمال سے بہترہیں۔اس رات میں سال کے امور مقدر ہوتے ہیں اور ملائکہ اور روح جو سب سے عظیم ملک ہے اس رات میں پروردگار کے حکم سے زمین پر نازل ہوتے ہیں اور امام زمانہ (عج) کی خدمت میں پہنچتے ہیں اور جو کچھ ہر شخص کے لئے مقدر ہوا ہے امام کے روبرو پیش کرتے ہیں۔
شب قدر کے اعمال دو قسم پر مشتمل ہیں:
۱۔مشترک اعمال
۲۔مخصوص اعمال
مشترک اعمال وہ ہیں جو تینوں شب قدر میں بجالائے جاتے ہیں اور اعمال مخصوصہ وه ہیں جو ہر ایک رات کے ساتھ مخصوص ہیں۔
مشترک اعمال 
1- غسل کرنا:علامہ مجلسی نے فرمایا ہے که ان راتوں کا غسل غروب آفتاب سے متصل کرنا بہتر ہے تاکہ نماز مغرب کو غسل کے ساتھ پڑھا جاسکے۔
2- دو رکعت نماز پڑھنا:ہر رکعت میں حمد کے بعد سات مرتبہ سوره توحید پڑھا جائے اور فارغ ہونےکے بعدستر مرتبہ:أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَ أَتُوبُ إِلَيْه کہا جائے۔
حضرت رسول خد(ص)سے روایت ہے کہ یہ اپنی جگہ سے نہیں اٹھے گا مگر یہ کہ خدا اس کو اور اس کے والدین کو بخش دےگا۔
3- قرآن مجیدکو کھولےاور اپنے سامنے رکھ کر یہ دعا پڑھے:’’اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِكِتَابِكَ الْمُنْزَلِ‏ وَ مَا فِيهِ وَ فِيهِ اسْمُكَ الْأَكْبَرُ وَ أَسْمَاؤُكَ الْحُسْنَى وَ مَا يُخَافُ وَ يُرْجَى أَنْ تَجْعَلَنِي مِنْ عُتَقَائِكَ مِنَ النَّارِ‘‘۔
خدایا!میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں تیری نازل شده کتاب کا واسطہ دیکر اور جو کچھ اس میں ہے اوراس میں تیرا عظیم نام ہے اور تیرےنیک نام ہیں اورجس سے خوف کیا جاتا ہے اور امید لگائی جاتی ہے که تو مجھ کو جهنم سے آزاد کردے۔
اس کے بعد جو بھی حاجت ہو اللہ سے طلب کرے۔
4- قرآن کو اپنے سر پر رکھے اور کہے:’’اللَّهُمَّ بِحَقِّ هَذَا الْقُرْآنِ‏وَ بِحَقِّ مَنْ أَرْسَلْتَهُ بِهِ وَ بِحَقِّ كُلِّ مُؤْمِنٍ مَدَحْتَهُ فِيهِ وَ بِحَقِّكَ عَلَيْهِمْ،فَلا أَحَدَ أَعْرَفُ بِحَقِّكَ مِنْكَ.خدایا اس قرآن کے حق کے واسطہ سے اور اس شخص کے حق کے واسطه سے جن کو تونے بھیجا ہے اس کے ساتھ اور ہر مؤمن کے حق کے واسطہ سے جس کی تونے اس میں مدح کی ہے اور تیرے حق کے واسطہ سے ان کے اوپر کوئی تجھ سے زیاده تیرے حق کا پہچاننے والا نہیں ہے۔
پھر دس مرتبہ کہے:بِكَ يَا اللَّهُ،دس مرتبہ بِمُحَمَّدٍ،دس مرتبہ بِعَلِيٍّ،دس مرتبہ بِفَاطِمَةَ ،دس مرتبہ بِالْحَسَنِ، دس مرتبہ بِالْحُسَيْنِ ،دس مرتبہ بِعَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، دس مرتبہ بِمُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، دس مرتبہ بِجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ دس مرتبہ بِمُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ دس مرتبہ بِعَلِيِّ بْنِ مُوسَى دس مرتبہ بِمُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، دس مرتبہ بِعَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ،دس مرتبہ بِالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، دس مرتبہ بِالْحُجَّةِ۔
پھر اپنی حاجات طلب کیجئے۔
5- امام حسین کی زیارت: حدیث میں ہے که جب شب قدرآتی ہے ساتویں  آسمان کا منادی بطن عرش سےندا کرتا ہے کہ خداوند عالم نے اس شخص کو بخش دیا  ہے جو زیارت قبر امام حسین کے لئے آیا ہے۔
6- رات بھر بیداررہنا: روایت میں ہے کہ جو شب قدر میں بیدار رہے اس کے گناه بخش دیئے جائیں گے چاہے وه آسمانوں کے ستاروں اورپہاڑوں اور دریاؤں کے عدد کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔
7- سو رکعت نماز: ان تینوں راتوں میں ۱۰۰ رکعات نماز پڑھنے کی فضیلت بہت زیاده ہے بہتر یہ ہے کہ ہر رکعت میں حمد کے بعد دس مرتبہ سورہ توحید پڑھی جائے۔
8-یہ دعا پڑھنا:’’اللَّهُمَّ إِنِّي أَمْسَيْتُ لَكَ عَبْدا دَاخِرالا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعا وَ لا ضَرّا وَ لا أَصْرِفُ عَنْهَا سُوءا، أَشْهَدُ بِذَلِكَ عَلَى نَفْسِي وَ أَعْتَرِفُ لَكَ بِضَعْفِ قُوَّتِي وَ قِلَّةِ حِيلَتِي فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي وَ جَمِيعَ الْمُؤْمِنِينَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ مِنَ الْمَغْفِرَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَ أَتْمِمْ عَلَيَّ مَا آتَيْتَنِي فَإِنِّي عَبْدُكَ الْمِسْكِينُ الْمُسْتَكِينُ الضَّعِيفُ الْفَقِيرُ الْمَهِينُ اللَّهُمَّ لا تَجْعَلْنِي نَاسِيالِذِكْرِكَ فِيمَا أَوْلَيْتَنِي وَ لا [غَافِلا] لِإِحْسَانِكَ فِيمَا أَعْطَيْتَنِي وَ لا آيِسا مِنْ إِجَابَتِكَ وَ إِنْ أَبْطَأَتْ عَنِّي فِي سَرَّاءَ [كُنْتُ‏] أَوْ ضَرَّاءَ أَوْ شِدَّةٍ أَوْ رَخَاءٍ أَوْ عَافِيَةٍ أَوْ بَلاءٍ أَوْ بُؤْسٍ أَوْ نَعْمَاءَ إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاء‘‘۔
ترجمہ:خدایا میں نے شام کی ہے بنده آستاں بوس کی طرح جو اپنے نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتا ہے اور اپنے نفس سے کسی برائی کو دور نہیں کرسکتا میں گواهی دیتا ہوں اس کی اپنے نفس پر اور تجھ سے اعتراف کرتا ہوں اپنی قوت کی کمزوری اوراپنی تدبیرکی کمی کاتومحمد وآل محمد پردرود بھیج اور جس کا تونے مجھ سے وعده کیا ہے اس کو پورا کردے اور جس کا تونے تمام مؤمنین و مؤمنات سے وعده کیا ہے بخش دینے کا اس رات میں اسے پورا کردے اور جو تونے مجھ کو دیا ہے اس کو مکمل عطاکر میں تیرا مسکین،حاجت مند،کمزور اور فقیر اور ناتواں بنده ہوں خدایا مجھ کو اپنے ذکر کا بھولنے والا قرار نہ دینا اس میں جس کو تونے عطا کیا ہے اور نہ اپنے احسان سے غافل جس میں تونے مجھ کو عطا کیا ہے اور نہ اپنی قبولیت سے مایوس ہونے والا چاہے دیر ہوجائے مجھ سے راحت میں نقصان میں یا سختی میں یا آسایش میں یا عافیت میں یا بلاء میں یا تنگی میں یا نعمت میں بیشک تو دعا کا سننے والا ہے۔
اس دعا کوکفعمی نے امام زین العابدین علیہ السلام  سے روایت کیا ہے۔علامه مجلسی نےفرمایا ہے کہ ان راتوں میں بهترین اعمال طلب مغفرت اور اپنے دینا و آخرت کے مسائل کے لئے دعا کرنا اور اپنے والدین اور اپنے عزیزوں اور برادران ایمانی زنده و مرده کے لئے دعا کرنا اور جتنا ممکن ہو  ذکر خدا اور محمد و آل محمد پر صلوات پڑھنے میں مصروف رہا جائے۔
بعض روایتوں میں ہے که دعائے جوشن کبیر ان تینوں راتوں میں پڑھے.اور روایت ہے کہ رسول (ص) کی خدمت میں عرض کیا گیا اگر میں شب قدر کو پالوں تو خدا سے کیا مانگوں تو فرمایا کہ عافیت۔
مخصوص اعمال
انیسویں شب کے مخصوص اعمال
1-أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ رَبِّي وَ أَتُوبُ إِلَيْه 100مرتبہ
2-اللَّهُمَّ الْعَنْ قَتَلَةَ أَمِير الْمُؤْمِنِين 100مرتبہ
3- دعا:يَا ذَا الَّذِي کان،کوپڑھے۔
4- نیز یہ دعا پڑھے:’’اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِيمَا تَقْضِي وَ تُقَدِّرُ مِنَ الْأَمْرِ الْمَحْتُومِ‏وَ فِيمَا تَفْرُقُ مِنَ الْأَمْرِ الْحَكِيمِ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَ فِي الْقَضَاءِ الَّذِي لا يُرَدُّ وَ لا يُبَدَّلُ أَنْ تَكْتُبَنِي مِنْ حُجَّاجِ بَيْتِكَ الْحَرَامِ الْمَبْرُورِ حَجُّهُمْ الْمَشْكُورِ سَعْيُهُمْ الْمَغْفُورِ ذُنُوبُهُمْ الْمُكَفَّرِ عَنْهُمْ سَيِّئَاتُهُمْ وَ اجْعَلْ فِيمَا تَقْضِي وَ تُقَدِّرُ أَنْ تُطِيلَ عُمْرِي وَ تُوَسِّعَ عَلَيَّ فِي رِزْقِي وَ تَفْعَلَ بِي کذا وَ كَذَا‘‘۔ یہاں اپنی حاجتوں کا ذکر کرے۔
اکیسویں رات کے مخصوص اعمال
اس رات کی فضیلت انیسویں شب سے زیاده ہے چنانچہ اس رات میں مشترکہ اعمال جو ہم نے اوپر بیان کئے ان کے علاوہ کچھ مخصوص اعمال ہیں:
زیارت امام حسین پڑھنا،قرآن کو سر پر رکھنا ، سور رکعت نماز اور دعاء جوشن کبیر وغیره کا عمل بجالانا۔
جو دعائیں کافی کی سند کے ساتھ اور مقنعه و مصباح میں مرسل طورپر نقل ہوئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسے اکیسویں رمضان کی رات کو پڑھا جائے:’’يَا مُولِجَ اللَّيْلِ فِي النَّهَارِ وَ مُولِجَ النَّهَارِ فِي اللَّيْلِ وَ مُخْرِجَ الْحَيِّ مِنَ الْمَيِّتِ وَ مُخْرِجَ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَيِّ يَا رَازِقَ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ يَا اللَّهُ يَا رَحْمَانُ يَا اللَّهُ يَا رَحِيمُ يَا اللَّهُ يَا اللَّهُ يَا اللَّهُ لَكَ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى وَ الْأَمْثَالُ الْعُلْيَا وَ الْكِبْرِيَاءُ وَ الْآلاءُ أَسْأَلُكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ أَنْ تَجْعَلَ اسْمِي فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ فِي السُّعَدَاءِ وَ رُوحِي مَعَ الشُّهَدَاءِ وَ إِحْسَانِي فِي عِلِّيِّينَ وَ إِسَاءَتِي مَغْفُورَةً وَ أَنْ تَهَبَ لِي يَقِينا تُبَاشِرُ بِهِ قَلْبِي وَ إِيمَانا يُذْهِبُ الشَّكَّ عَنِّي وَ تُرْضِيَنِي بِمَا قَسَمْتَ لِي وَ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِ الْحَرِيقِ وَ ارْزُقْنِي فِيهَا ذِكْرَكَ وَ شُكْرَكَ وَ الرَّغْبَةَ إِلَيْكَ وَ الْإِنَابَةَ وَ التَّوْفِيقَ لِمَا وَفَّقْتَ لَهُ مُحَمَّدا وَ آلَ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِ وَ عَلَيْهِمُ السَّلامُ‘‘۔
تییسویں  شب کے مخصوص اعمال
تیسویں رات گذشتہ دونوں راتوں سے افضل و اعلیٰ رات ہے اور احتمال قوی کی بنیاد پر یہی رات شب قدر ہے چنانچہ اس رات میں جہاں کچھ مشترک اعمال بجالانے چاہیئے جن کا ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں وہیں اس رات کے کچھ مخصوص اعمال بھی ہیں:
1۔یہ دعا پڑھی جائے:’’يَا رَبَّ لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَ جَاعِلَهَا خَيْرا مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ وَ رَبَّ اللَّيْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْجِبَالِ وَ الْبِحَارِ وَ الظُّلَمِ وَ الْأَنْوَارِ وَ الْأَرْضِ وَ السَّمَاءِ يَا بَارِئُ يَا مُصَوِّرُ يَا حَنَّانُ يَا مَنَّانُ يَا اللَّهُ يَا رَحْمَانُ يَا اللَّهُ يَا قَيُّومُ يَا اللَّهُ يَا بَدِيعُ يَا اللَّهُ يَا اللَّهُ يَا اللَّهُ لَكَ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى وَ الْأَمْثَالُ الْعُلْيَا وَ الْكِبْرِيَاءُ وَ الْآلاءُ أَسْأَلُكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ أَنْ تَجْعَلَ اسْمِي فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ فِي السُّعَدَاءِ وَ رُوحِي مَعَ الشُّهَدَاءِ وَ إِحْسَانِي فِي عِلِّيِّينَ وَ إِسَاءَتِي مَغْفُورَةً وَ أَنْ تَهَبَ لِي يَقِينا تُبَاشِرُ بِهِ قَلْبِي وَ إِيمَانا يُذْهِبُ الشَّكَّ عَنِّي وَ تُرْضِيَنِي بِمَا قَسَمْتَ لِي وَ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِ الْحَرِيقِ وَ ارْزُقْنِي فِيهَا ذِكْرَكَ وَ شُكْرَكَ وَ الرَّغْبَةَ إِلَيْكَ وَ الْإِنَابَةَ وَ التَّوْبَةَ وَ التَّوْفِيقَ لِمَا وَفَّقْتَ لَهُ مُحَمَّدا وَ آلَ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِمُ السَّلام‘‘۔
2۔محمد بن عیسیٰ نے اپنی سند سے  روایت کی ہے کہ ماہ رمضان کی تیئسویں شب میں اس دعا کومکر سجده قیام و قعود، رکوع اورهر حالت میں پڑھے پورے مہینہ بھر اور جتنا ممکن ہو اور جس وقت بھی یاد آجائے اس دعا کو زندگی میں پڑھتا رہے:’’اللَّهُمَّ كُنْ لِوَلِيِّكَ الْحُجَّةِ بْنِ الْحَسَنِ صَلَوَاتُكَ عَلَيْهِ وَ عَلَى آبَائِهِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ وَ فِي كُلِّ سَاعَةٍ وَلِيّا وَ حَافِظا وَ قَائِدا وَ نَاصِراوَ دَلِيلا وَ عَيْنا حَتَّى تُسْكِنَهُ أَرْضَكَ طَوْعا وَ تُمَتِّعَهُ فِيهَا طَوِيلا‘‘۔
3۔یہ دعا بھی پڑھی جائے:’’يَا مُدَبِّرَ الْأَمُورِ يَا بَاعِثَ مَنْ فِي الْقُبُورِ يَا مُجْرِيَ الْبُحُورِ يَا مُلَيِّنَ الْحَدِيدِ لِدَاوُدَ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ افْعَلْ بِي كَذَا وَ كَذَا‘‘۔روایت میں ہے کہ اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کرکے اس دعا کو پڑھے ۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम