Code : 2382 103 Hit

امام وقت کی معرفت ہی صراط مستقیم ہے: آیت اللہ مکارم شیرازی

چھٹے امام حضرت جعفر صادق علیہ السلام کی حدیث کی روشنی میں’’ صراط اللہ کی معرفت کی طرف جانے والے راستے کو کہتے ہیں‘‘ صراط دو ہیں،ایک صراط دنیا میں ہے اور دوسری صراط آخرت میں ہے ۔اور دنیا میں صراط، واجب الاطاعۃ امام ہے کہ جو بھی اسے پہچان لے اور اس کی دی ہوئی ہدایت پر عمل پیرا ہوجائے وہ صراط ۔ وہ پل جو جہنم کے اوپر ہے ۔ سے گذر جائے گا۔اور جو کوئی امام کو اس دنیا میں نہ پہچانتا ہو وہ جہنم میں گرجائے گا۔

ولایت پورٹل: کسی شخص نے آیت اللہ العظمٰی مکارم شیرازی کو خط لکھ کر یہ سوال دریافت کیا : حضور یہ بتائیے پل صراط کیا ہے جس سے ہر شخص کو ناگزیر گذرنا و عبور کرنا ہے؟
آیت اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی نے اس سوال کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے فرمایا: چھٹے امام حضرت جعفر صادق  علیہ السلام کی حدیث کی روشنی میں’’ صراط اللہ کی معرفت کی طرف جانے والے راستے کو کہتے ہیں‘‘ صراط دو ہیں،ایک صراط دنیا میں ہے اور دوسری صراط آخرت میں ہے ۔اور دنیا میں صراط، واجب الاطاعۃ امام ہے کہ جو بھی اسے پہچان لے اور اس کی دی ہوئی ہدایت پر عمل پیرا ہوجائے وہ صراط ۔ وہ پل جو جہنم کے اوپر ہے ۔ سے گذر جائے گا۔اور جو کوئی امام کو اس دنیا میں نہ پہچانتا ہو وہ جہنم میں گرجائے گا  چنانچہ اسلامی روایات میں یہ راستہ نہایت کٹھن، دشوار اور باریک بتلایا گیا ہے اور اس کی وجہ ہے کہ ولایت اہل بیت(ع) ایسا باریک ،دقیق اور ظریف راستہ ہے جس کے اطراف اور آس پاس میں بہت سے انحرافی راستے موجود ہیں ۔اگر انسان راہ ولایت میں قدم اٹھاتے ہوئے ایک مرتبہ بھی لغزش کا شکار ہوا پھر اس کا اس ’’صراط مستقیم‘‘ کی طرف لوٹنا مشکل ہوجاتا ہے۔
نیز صراط مستقیم نیک، پاک اور اللہ کے صالح بندوں کے لئے بہت آسان ہے چونکہ ان کے دل پاک ہوتے ہیں وہ برق رفتاری سے اس سے گذر جائیں گے لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہونگے جن کے پاس اس سے گذرنے کی سکت نہیں ہوگی لہذا وہ دوزخ میں گرجائیں گے۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम