Code : 2343 103 Hit

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شجاعت

امام حسن مجتبیٰ عليہ السلام انسانی فضائل کا عالی ترین نمونہ تھے، آپ صالحین اور پاک سرشت افراد کے مقتدا تھے۔

ولایت پورٹل: بعض افراد کچھ یوں فکر کرنے لگ جاتے ہیں کہ  امام حسن عليه السلام کی شجاعت  دیگر  آئمہ کے بالمقابل کم تھی، اس غلط فکر کی حقیقت روشن کرنے کے لئے ہم یہاں بطور نمونہ آپ کی شجاعت و  جوانمردی کے کچھ تذکرے تحریر کرتے ہیں:
جنگ جمل میں  امام مجتبي عليہ السلام اپنے والد  اميرالمؤمنين عليہ السلام  کے ہمرکاب میدان جنگ میں  سپاہیوں کے خط مقدم میں  مصروف جہاد تھے اور اميرالمؤمنين عليہ السلام کے شجاع دلاورں پر سبقت حاصل کئے ہوئے تھے  اور دشمن کے قلب لشکر پر کاری ضربیں لگا رہے تھے۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے اپنے والد کے حکم کے مطابق عمار ياسر اور کچھ دوسرے جانثاروں کے ساتھ   كوفہ  گئے اور لوگوں کو اس جہاد میں شرکت کی دعوت دی۔ جب آپ کوفے پہنچے تو ’’ابوموسي اشعري‘‘حكومت عثمان  کا ایک مُهره کوفہ پر اپنا تسلط جمائے تھا، اور  اميرالمؤمنین عليہ السلام کی عادلانہ حکومت کی  مخالفت پر کمر بستہ تھا اور مسلمانوں کو جنگ کی حمایت اور اسمیں شریک ہونے سے روکنے میں مصروف تھا، ایسے مشکل حالات میں بھی  حسن بن علي عليہماالسلام نے ہزار سے بھی زیادہ افراد کو شہر کوفہ سے میدان جنگ کی طرف بھیجنے میں کامیاب رہے۔ (مناقب آل ابي طالب، ج 4، ص 21)
جنگ صفين میں امام حسن علیہ السلام، سپاہیوں کو اميرالمؤمنین عليہ السلام کی فوج میں  معاويہ سے جنگ کرنے کے لئے تیار کرنے میں مصروف تھے ،  اور اپنے خطبوں سے  فوج کو آمادہ کرنے میں بہترین کردار  ادا کر رہے تھے،  اور كوفہ کے لوگوں کو  علي عليہ السلام کے رکاب میں جہاد اور اسلام دشمن طاقتوں اور اسلام سے خیانت کرنے والوں کے خلاف جنگ کرنے پر آمادہ کر رہے تھے۔ راہ حق میں آپ جان کی بازی لگائے ہوئے تھے جسکی وجہ سے  اميرالمؤمنین نے جنگ صفين  میں اپنے جانثاروں سے  فرمایا کہ انہیں اور انکے بھائی حسين عليہ السلام  کو جنگ سے دور رکھیں تاکہ  نسل پيغمبر صلي الله عليه و آله باقی رہے اور انکے شہید ہوجانے کی وجہ سے نسل پیغمبر صلیٰ اللہ علیہ وآلہ کا خاتمہ نہ ہوجائے۔(تاريخ يعقوبي، ج 2، ص 170)

 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम