Code : 1356 51 Hit

امام عصر(عج) کے زمانہ ظہور کی ایک خصوصیت

جب حضرت حجت امام زمانہ(عج) کا ظہور ہوگا اور ظلم، بربریت اور نا عدالتی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں آفتاب امامت چمکے گا جس طرح دنیا سے ظلم کا خاتمہ ہوگا ویسے ہی دنیا میں کوئی شخص بھوکا نہیں سوئے گا بلکہ اللہ کے فضل اور امام عصر(عج) کے وجود کی برکت سے سب کو پیٹ بھر کھانا ملے گا چونکہ اس وقت دنیا میں کوئی زمین بھی بنجر نہیں رہے گی بلکہ سب میں غلہ پیدا ہوگا چنانچہ مفسرین نے سورہ مبارکہ نوح کی ۱۲ویں آیت :’’ وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارًا ‘‘۔کے ذیل میں تحریر کیا ہے کہ جب حضرت صاحب الامر(عج) کی عالمی عادلانہ حکومت قائم ہوگی تو روئے زمین پر ایک بالشت بھی بنجر زمین نہیں بچے گی۔بلکہ تمام خالی و بیکار پڑی ہوئی زمینیں ہری بھری کھیتیوں سے لہلہانے لگیں گی کہ جن کے درمیان سے نہریں جاری ہونگی

ولایت پورٹل: جب حضرت حجت امام زمانہ(عج) کا ظہور ہوگا اور ظلم، بربریت اور نا عدالتی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں آفتاب امامت چمکے گا جس طرح دنیا سے ظلم کا خاتمہ ہوگا ویسے ہی دنیا میں کوئی شخص بھوکا نہیں سوئے گا بلکہ اللہ کے فضل اور امام عصر(عج) کے وجود کی برکت سے سب کو پیٹ بھر کھانا ملے گا چونکہ اس وقت دنیا میں کوئی زمین بھی بنجر نہیں رہے گی بلکہ سب میں غلہ پیدا ہوگا چنانچہ مفسرین نے سورہ مبارکہ نوح کی ۱۲ویں آیت :’’ وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارًا ‘‘۔کے ذیل میں تحریر کیا ہے کہ جب حضرت صاحب الامر(عج) کی عالمی عادلانہ حکومت قائم ہوگی تو روئے زمین پر ایک بالشت بھی بنجر زمین نہیں بچے گی۔
بلکہ تمام خالی و بیکار پڑی ہوئی زمینیں ہری بھری کھیتیوں سے لہلہانے لگیں گی کہ جن کے درمیان سے نہریں جاری ہونگی اور اس زمانہ میں دنیا کی آبادی بھی آج کی طرح نہیں رہے گی چونکہ امام زمانہ(عج) کے ظہور سے پہلے روئے زمین پر کچھ ایسے خطرناک فتنے اور ستمگر ظاہر ہونگے کہ جن کے سبب لوگ ایک دوسرے کی جان کے پیاسے ہوجائیں گے اور کرہ ارضی  کی دو تہائی آبادی آپسی خون خرابے میں ضائع ہوجائے گی اور صرف ایک تہائی آبادی ہی باقی بچے گی جو حضرت(عج) کے فرمان کے سامنے تسلیم ہوجائے گی۔
روایات میں آیا ہے کہ امام عصر(عج) کے ساتھ مشترکہ طور پر تین اقوام جنگ لڑیں گی(۱) یہودی (۲) اعراب (۳) سکولر ۔اور سب سے پہلی حکومت جو باقاعدہ طور پر حضرت سے جنگ کرنے کے لئے میدان میں اترے گی وہ وہابی حکومت ہوگی اس کے بعد اسرائیل اور اس کےبعد سکولر۔آخرکار سب کے سب ہلاک ہوں گے اور زمین ان کے شرّی وجود سے پاک ہوجائے گی اور وہ وقت دنیا کے گلستان بننے کا آغاز ہوگا۔
حقیقی مسیحی ہرگز امام عصر(عج) سے جنگ نہیں کریں گے چونکہ جب وہ لوگ اپنے نبی حضرت عیسیٰ(ع) کو آپ کی اقتداء میں نماز پڑھتے ہوئے پائیں گے تو فوراً ایمان لے آئیں گے۔
برکت کا تعلق ایمان و عدالت کی رعایت کرنے سے ہے ۔جہاں بھی نعمتوں میں فراوانی دیکھئے تو سمجھ جائیے کہ یہاں کے باشندے ایمان میں پختہ اور عملاً عدالت پسند ہیں۔ اور یہ صرف کسی ایک شخص یا فرد یا سماج کی بات نہیں بلکہ جو بھی حکومت اپنے قلمرو میں عدالت اجتماعی کی رعایت کرنا شروع کردے تو اس کے اثرات جلد ہی سامنے آنے لگیں گے ملک میں تبدیلی آئے گی اور چاروں طرف ویسا ہی امن سایہ فگن ہوگا جیسا امام باقر علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:اگر کوئی عورت ایک مال بردار اونٹ کہ جس کے ایک طرف سونا اور دوسری طرف چاندی بھری ہوئی ہو اور بغداد کے بازار سے شام تک اکیلی و تن تنہا بھی لے جائے گی تو ایک نا محرم آنکھ بھی اس کی طرف نہیں اٹھے گی اور نہ ہی کوئی ہاتھ اس کے مال کی طرف بڑھے گا:’’ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُم بِظُلْمٍ أُولَـٰئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُم مُّهْتَدُونَ‘‘۔(سورہ انعام:۸۲) جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم سے آلودہ نہیں کیا انہی کے لئے امن و امان ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منبع:
مأخوذ از کتاب آثار مثبت عمل،استاد حسین انصاریان



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम