Code : 3079 23 Hit

زیارت جامعہ کبیرہ کے تناظر میں زیارت کے آداب (2)

ان جملوں میں کا خلاصہ یہ ہے کہ دینداری،حق اور ہدایت کا محور اہلبیت(ع) ہیں کیونکہ یہ خدا کی دلیل،اس کی حجت،اس کا نور ہیں،جو ان کے ساتھ ہے وہی خدا کے ساتھ ہے ،جو ان کا دوست اور محب ہے وہی خدا کا دوست اور اس سے محبت کرنے والا ہے ،جو ان کا دشمن ہے وہ خدا کا دشمن ہے۔یہاں سے یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ اہلبیت(ع) کی دوستی اور محبت کے ساتھ ان کی پیروی بھی ضروری ہے کیونکہ ان کی پیروی ہی انسان کو خدا سے متصل کرتی ہے اور نجات یافتہ وہی ہے جو آپ کے راستے پر ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ہم نے اس سلسلہ کے گذشتہ مضمون میں یہ عرض کیا تھا کہ زیارت کا مقصد ملاقات اور احترام ہوتا ہے لہذا انسان جب اہلبیت(ع) کی زیارت کو جاتا ہے اس کا مقصد بھی ان شخصیتوں کا احترام ہوتا ہے،وہ ان کے پاس کچھ لینے کے لئے جاتا ہے،کچھ حاصل کرنے جاتا ہے۔زندگی میں ہدایت اور آخرت کی سعادت کے لئے آئمہ معصومین(ع) سے توسل اور رابطہ ضروری ہے جس کا ایک بہترین ذریعہ وہ زیارات ہیں جو ہم پڑھتے ہیں۔ اور آج ہم زیارت جامعہ کبیرہ کے کچھ فقرات کا مطالعہ کرکے یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس زیارت میں امام علی نقی علیہ السلام نے اپنے چاہنے اور پیروی کرنے والوں کو کیا پیغام دیا ہے ۔ گذشتہ مقالہ کو پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے !
زیارت جامعہ کبیرہ کے تناظر میں زیارت کے آداب (1)
گذشتہ سے پیوستہ: اب ان توجہات کے ساتھ ہم زیارت جامعہ کبیرہ کی طرف آتے ہیں اور  اس کے ابتدائی کچھ جملوں کے ذریعہ  یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس زیارت میں امام علی نقی(ع) نے امامت و ائمہ کا کس طرح تعارف کروایا ہے اور ہماری کیا  ذمہ داریاں  مقرر فرمائی  ہیں؟
زیارت کا آغاز ان فقروں سے ہوتا ہے: ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا ٲَھْلَ بَیْتِ النُّبُوَّۃِ وَمَوْضِعَ الرِّسالَۃِ وَمُخْتَلَفَ الْمَلائِکَۃِ وَمَھْبِطَ الْوَحْیِ ۔وَمَعْدِنَ الرَّحْمَۃِ وَخُزَّانَ الْعِلْمِ وَمُنْتَھَی الْحِلْمِ وَٲُصُولَ الْکَرَمِ وَقادَۃَ الْاَمَمِ وَٲَوْلِیاءَ النِّعَمِ وَعَناصِرَ الْاَبْرارِوَدَعائِمَ الْاَخْیارِ وَساسَۃَ الْعِبادِ وَٲَرْکانَ الْبِلادِ وَٲَبْوابَ الْاِیمانِ وَٲُمَناءَ الرَّحْمنِ وَسُلالَۃَ النَّبِیِّینَ وَصَفْوَۃَ الْمُرْسَلِینَ وَعِتْرَۃَ خِیَرَۃِ رَبِّ الْعالَمِینَ وَرَحْمَۃُ اﷲِ ‘‘
آپ پر سلام ہو اے خاندان نبوت، اے پیغام الہی کے آنے کی جگہ اور ملائکہ کے آنے جانے کے مقام ،وحی نازل ہونے کی جگہ ،نزول رحمت کے مرکز ،علوم کے خزینہ دار ،حد درجہ کے بردباراور بزرگواری کے حامل ، آپ قوموں کے پیشوا ،نعمتوں کے بانٹنے والے،سرمایۂ  ابرار، پارساؤں کے ستون، بندوں کے لیے تدبیر کار، آبادیوں کے سردار، ایمان و اسلام کے دروازے،اور خدا کےامانتدار ہیں اور آپ نبیوں کی نسل و اولاد ،رسولوں کے پسندیدہ اور جہانوں کے رب کے پسند یدہ حضرات  کی اولاد ہیں آپ(ع) پر  اللہ کا سلام اور اس کی رحمت  ہو۔
ان جملوں پر غور کیا جائے تو واضح ہوجاتا ہے کہ خدا نے اہلبیت(ع) کو نبوت و رسالت کا مرکز بنایا ہے جہاں فرشتوں کی آمد و رفت ہوتی ہےاور وحی یہیں پر  اترتی ہے۔علم و حکمت کا خزانے انہیں کے پاس ہیں اور یہ  خدا کے منتخب اور خاص بندے ہیں۔
’’اَلسَّلَامُ عَلَی ٲَئِمَّۃِ الْھُدَیٰ وَمَصابِیحِ الدُّجَیٰ وَٲَعْلامِ التُّقَیٰ وَذَوِیٰ النُّھَیٰ وَٲُولِی الْحِجَیٰ وَکَھْفِ الْوَرَیٰ وَوَرَثَۃِ الْاَنْبِیاءِ وَالْمَثَلِ الْاَعْلَیٰ وَالدَّعْوَۃِ الْحُسْنَیٰ وَحُجَجِ اﷲِ عَلَی ٲَھْلِ الدُّنْیا وَالْاَخِرَۃِ وَالْاَولَی وَرَحْمَۃُ اﷲِ وَبَرَکاتُہُ۔ ‘‘
سلام ہو  آپ(ع) پر جو ہدایت دینے والے امام(ع) ہیں، تاریکیوں کے چراغ ہیں ،پرہیز گاری کے نشان ،صاحبان عقل و خرد اورمالکان  علم و دانش ہیں، آپ، لوگوں کی پناہ گاہ، نبیوں کے وارث، بلندترین نمونہ عمل اور بہترین دعوت دینے والے ہیں آپ دنیا والوں پر خداکی حجتیں ہیں آغاز و انجام میں آپ(ع) پر  اللہ کا سلام اور اسکی  رحمت  و  برکات ہوں۔
’’اَلسَّلَامُ عَلَی مَحالِّ مَعْرِفَۃِ اﷲِ وَمَساکِنِ بَرَکَۃِ اﷲِوَمَعَادِنِ حِکْمَۃِ اﷲِ وَحَفَظَۃِ سِرِّ اﷲِ وَحَمَلَۃِ کِتابِ اﷲِ وَٲَوْصِیاءِ نَبِیِّ اﷲِ وَذُرِّیَّۃِ رَسُولِ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وآلِہِ وَرَحْمَۃُ اﷲِ وَبَرَکاتُہُ۔ ‘‘
سلام ہو خد اکی معرفت کےذریعوں پر جو خدا کی برکت کے مقام اور خدا کی حکمت کی کانیں ہیں، خدا کے رازوں کے نگہبان ،خدا کی کتاب کے حامل، خدا کے آخری نبی (ص)کے جانشین اور خدا کے رسول(ص) کی اولاد ہیں خدا ان پر اور ان کی آل(ع) پر درود بھیجے اور خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں۔
’’اَلسَّلَامُ عَلَی الدُّعاۃِ إلَی اﷲِ وَالْاَدِلاَّءِ عَلَی مَرْضاۃِ اﷲِ وَالْمُسْتَقِرِّینَ فِی ٲَمْرِ اﷲِ وَالتَّامِّینَ فِی مَحَبَّۃِ اﷲِ وَالْمُخْلِصِینَ فِی تَوْحِیدِ اﷲِ وَالْمُظْھِرِینَ لاِمْرِ اﷲِ وَنَھْیِہِ وَعِبادِھِ الْمُکْرَمِینَ الَّذِینَ لاَیَسْبِقُونَہُ بِالْقَوْلِ وَھُمْ بٲَمْرِھِ یَعْمَلُونَ وَرَحْمَۃُ اﷲِ وَبَرَکاتُہُ۔‘‘
سلام ہو خداکیطرف بلانے والوں پر ،اور خدا کی رضا  و   خوشنودیوں سے آگاہ کرنے والوں پر، جو خدا کے معاملے میں  ثابت قدم ،خدا کی محبت میں سب سےکامل اور خدا کی توحید کے عقیدے میں کھرے ہیں وہ خدا کے امرونہی کو بیان کرنے والے اور اس کے گرامی قدر بندے ہیں کہ جواسکے آگے بولنے میں پہل نہیں کرتے اور اسکے حکم پر عمل کرتے ہیں ان پر خدا کی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں۔
زیارت کے ان فقروں سے سمجھ میں آتا ہے کہ:
تاریخ بشریت میں ہمیشہ دو راستے رہے ہیں ایک  گمراہی کا راستہ اور دوسرا ہدایت کا راستہ، اور دونوں کے راہنما اور رہبر موجود رہے ہیں،اہلبیت ہمیشہ راہ ہدایت کی طرف راہنمائی کرنے والے رہے ہیں،اس کے لئے علاوہ جو بھی ہدایت کا پرچم ہاتھ میں لے وہ درحقیقت گمراہی کی طرف دعوت دینے والا ہے ،کیونکہ خدا نے یہ ذمہ داری انہی کو سونپی ہے۔
آئمہ(ع) وہ افراد ہیں کہ جو عقل کامل کے حامل،لوگوں کے لئے جائے پناہ ،پیغمبروں کے وارث اور انسانیت کے لئے مشعل ہدایت ہیں جن کے پیچھے دنیا کو چلنا چاہیے اور وہ بشریت کو کمالات کی طرف دعوت دینے والے ہیں۔
اہلبیت(ع) کا راستہ ہی حقیقت میں اصلی اورا سلامی راستہ ہے  یہی  انبیائے الہٰی کا راستہ ہے اور لوگوں کے دلوں میں  حقیقت کو راسخ  کرنے والا راستہ ہے ،دنیا میں اٹھنے والی کسی بھی تحریک کا اگر اہلبیت(ع) سے  تعلق نہیں ہے وہ منحرف اور گمراہ کن تحریک ہے ۔کیونکہ وہی خدا کی معرفت کا ذریعہ،خدا کی برکتوں کے نزول کا مسکن، حکمت الہٰی کا خزانہ،اسرار خداوندی کے محافظ،حاملان کتب آسمانی اور انبیائے الہٰی کے جانشین ہیں۔
’’ٲَشْھَدُ ٲَنْ لاَ إلہَ إلاَّ اﷲُ وَحْدَھُ لاَ شَرِیکَ لَہُ کَما شَھِدَ اﷲُ لِنَفْسِہِ وَشَھِدَتْ لَہُ مَلائِکَتُہُ وَٲُولُو الْعِلْمِ مِنْ خَلْقِہِ لاَ إلہَ إلاَّ ھُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ وَٲَشْھَدُ ٲَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُھُ الْمُنْتَجَبُ وَرَسُولُہُ الْمُرْتَضَی ٲَرْسَلَہُ بِالْھُدَی وَدِینِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَھُ عَلَی الدِّینِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِھَ الْمُشْرِکوُنَ وَٲَشْھَدُ ٲَنَّکُمُ الْاَئِمَّۃُ الرَّاشِدُونَ الْمَھْدِیُّونَ الْمَعْصُومُونَ الْمُکَرَّمُونَ الْمُقَرَّبُونَ الْمُتَّقُونَ الصَّادِقُونَ الْمُصْطَفُونَ الْمُطِیعُونَ لِلّٰہِ الْقَوَّامُونَ بِٲَمْرِھِ الْعامِلونَ بِإرَادَتِہِ الْفائِزُونَ بِکَرَامَتِہِ‘‘
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا  کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے، کوئی اسکا شریک نہیں جیسا کہ خدا نے اپنے لیے گواہی دی اسکے ساتھ اسکے فرشتے اور اسکی مخلوق میں سے صاحبان علم بھی گواہ ہیں کہ کوئی معبود نہیں مگر وہی جو زبردست حکمت والا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد(ص)اسکے برگزیدہ بندے اور اسکے پسند یدہ   رسول(ص) ہیں جن کو اس نے ہدایت اور سچے دین کیساتھ بھیجاتا کہ وہ اسے تمام دینوں پر غالب کر دے اگر چہ مشرکین کو یہ  امر نا گوار ہی کیوں نہ گذرے ،  اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ہی  برحق امام   ہیں،ہدایت کرنے والے ،خود ہدایت یافتہ گناہوں سے دور ہیں  ،بزرگی اور کرامت  والے،قرب الہی پر فائز ،سب سے زیادہ ہیز گار،اور سچے ،اللہ کے منتخب کردہ ،ہر حال میں اس کی اطاعت کرنے والے ، اس کے اوامر و احکام کو زندہ کرنے والے ، اس کے ارادے پر عمل کرنیوالے اور اس کی مہربانی سے کامیاب ہیں۔
زیارت کے ان جملوں میں شیعوں کے بنیادی عقائد کی طرف اشارہ کیا  گیا ہے:
یعنی  شیعوں کا اس خدائے واحد پر ایمان ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے،
وہ حضرت محمد(ص)  کو اپنا نبی مانتے ہیں جو کہ خداکے منتخب اور خاص نبی ہیں،
ان کا آئمہ  پر ایمان ہیں اور انہی کو وہ اپنا پیشوا سمجھتے ہیں ،جو معصوم ہیں،کرامت و عظمت والے ہیں۔
’’فَالرَّاغِبُ عَنْکُمْ مارِقٌ وَاللاَّزِمُ لَکُمْ لاحِقٌ وَالْمُقَصِّرُ فِی حَقِّکُمْ زاھِقٌ وَالْحَقُّ مَعَکُمْ وَفِیکُمْ وَمِنْکُمْ وَ إلَیْکُمْ وَٲَنْتُمْ ٲَھْلُہُ وَمَعْدِنُہُ وَمِیراثُ النُّبُوَّۃِ عِنْدَکُمْ وَ إیابُ الْخَلْقِ إلَیْکُمْ وَحِسابُھُمْ عَلَیْکُمْ وَفَصْلُ الْخِطابِ عِنْدَکُمْ وَآیاتُ ﷲِ لَدَیْکُمْ وَعَزائِمُہُ فِیکُمْ وَنُورُھُ وَبُرْہانُہُ عِنْدَکُمْ وَٲَمْرُھُ إلَیْکُمْ۔مَنْ والاکُمْ فَقَدْ والَی اﷲَ وَمَنْ عاداکُمْ فَقَدْ عادَی اﷲَ وَمَنْ ٲَحَبَّکُمْ فَقَدْ ٲَحَبَّ اﷲَ وَمَنْ ٲَبْغَضَکُمْ فَقَدْ ٲَبْغَضَ اﷲَ وَمَنِ اعْتَصَمَ بِکُمْ فَقَدِ اعْتَصَمَ بِاﷲِ۔ٲَنْتُمُ الصِّراطُ الْاَقْوَمُ وَشُھَداءُ دارِ الْفَناءِ  وَشُفَعاءُ دارِ الْبَقاءِ وَالرَّحْمَۃُ الْمَوْصُولَۃُ وَالْاَیَۃُ الْمَخْزُونَۃُ وَالْاَمانَۃُ الْمَحْفُوظَۃُ وَالْبابُ الْمُبْتَلَیٰ بِہِ النَّاسُ مَنْ ٲَتَاکُمْ نَجَا وَمَنْ لَمْ یَٲْتِکُمْ ھَلَکَ‘‘
آپ سے منہ موڑنے والا دین سے نکل گیا آپکا ہمراہی دیندار رہا اور آپکےحق کو کم سمجھنے والا نابود ہواحق آپ(ع) کیساتھ ہے آپ(ع) میں ہے۔ آپ(ع) کیطرف سے ہے آپ(ع) کیطرف سے  آیا ہے، آپ حق والے اور مرکزحق ہیں، نبوت کا ترکہ آپ(ع) کے پاس ہے لوگوں کی واپسی آپ(ع) کی طرف اور ان کا حساب آپ کو لینا ہے آپ حق و باطل کا فیصلہ کرنے والے ہیں خدا کی آیتیں اور اسکے ارادے آپکے دلوں میں ہیں اسکا نور اور محکم دلیل آپکے پاس ہے اور اسکا حکم آپکی طرف آیا ہے۔آپکا دوست خدا کا دوست اور جو آپکا دشمن ہے وہ خدا کا دشمن ہے جس نے آپ سے محبت کی اس نے خدا سے محبت کی اور جس نےآپ(ع) سے نفرت کی اس نے خدا سے نفرت کی اور جو آپ سے وابستہ ہوا وہ خدا سے وابستہ ہوا۔ کیونکہ آپ سیدھا راستہ دنیا میں لوگوں پر شاہد و گواہ اور آخرت میں شفاعت کرنے والے ہیں آپ ختم نہ ہونے والی رحمت، محفوظ شدہ آیت سنبھالی ہوئی امانت اور وہ راستہ ہیں جس سے لوگ آزمائے جاتے ہیں جو آپکے پاس آیا نجات پاگیا اور جو  آپ تک نہ آیا وہ تباہ ہو گیا۔
ان جملوں میں کا خلاصہ یہ ہے کہ دینداری،حق اور ہدایت کا محور اہلبیت(ع) ہیں کیونکہ یہ خدا کی دلیل،اس کی حجت،اس کا نور ہیں،جو ان کے ساتھ ہے وہی خدا کے ساتھ ہے ،جو ان کا دوست اور محب ہے وہی خدا کا دوست اور اس سے محبت کرنے والا ہے ،جو ان  کا دشمن ہے وہ خدا کا دشمن ہے۔یہاں سے یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ اہلبیتؑ کی دوستی اور محبت کے ساتھ ان کی پیروی بھی ضروری ہے کیونکہ ان کی پیروی ہی انسان کو خدا سے متصل کرتی ہے  اور نجات  یافتہ وہی  ہے جو آپ کے راستے پر ہے۔
اسی طرح جتنا آگے بڑھتے جائیں گے اہلبیت(ع) کا مزید تعارف ہوتا جائے گا اور ان کے تئیں انسان کے ذمہ داریاں بھی  واضح ہوتی جائیں گی۔فی الحال ہم اسی پر اکتفا کرتے ہوئے خدا وند عالم کی بارگاہ میں  دعا  گو ہیں کہ وہ ہمیں معرفت کے ان عظیم خزینوں کے ذریعہ اہلبیت(ع) سے قریب ہونے اور انہیں سمجھنے کی توفیق عنایت فرمائے۔


1
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम