Code : 3078 42 Hit

زیارت جامعہ کبیرہ کے تناظر میں زیارت کے آداب (1)

زیارت کا مقصد ملاقات اور احترام ہوتا ہے لہذا انسان جب اہلبیت(ع) کی زیارت کو جاتا ہے اس کا مقصد بھی ان شخصیتوں کا احترام ہوتا ہے،وہ ان کے پاس کچھ لینے کے لئے جاتا ہے،کچھ حاصل کرنے جاتا ہے۔زندگی میں ہدایت اور آخرت کی سعادت کے لئے آئمہ معصومین(ع) سے توسل اور رابطہ ضروری ہے جس کا ایک بہترین ذریعہ وہ زیارات ہیں جو ہم پڑھتے ہیں۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ماہ رجب کو ماہ امامت و ولایت بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں  ہمارے چار ائمہ کی ولادت باسعادت ہوئی ہے۔جن میں دو محمد اور دو علی ہیں:امام محمد باقر (ع)اور امام محمد تقی(ع) ،اسی طرح مولائے کائنات حضرت علی(ع) اور امام علی نقی(ع) ،البتہ دسویں امام نقی(ع) کے بارے میں ملتا ہے کہ آپ کی شہادت بھی اسی مہینہ میں ہوئی ہے ۔تاریخ اور دن کے لحاظ آپ کی ولادت اور شہادت کے درمیان ایک ہفتہ  کا بھی   فاصلہ نہیں ہے یہی وہ ایام ہیں جن میں  ہمارے اس امام معصوم کی شہادت بھی ہوئی ہے اور آپ کی ولادت بھی انہیں دنوں ہوئی ہے،لہٰذا ہم ذیل میں امام ہادی  علی النقی کی زیارت جامعہ کے سلسلہ سے کچھ اہم مطالب  کا تذکرہ کریں گے۔
آپ کا زمانہ عباسی حکومت کا زمانہ ہے جو نہایت ظالم و جابر حکومت ہے،محققین کے بقول اہلبیت(ع) پر بنی عباس کا ظلم بنی امیہ سے زیادہ نہ سہی کم  بھی نہیں رہا ہے۔بلکہ ایک معنی میں کہا جاسکتا ہے بنی  عباس نے اہلبیت(ع) پر بنی امیہ سے بڑھ کرمظالم ڈھائے ہیں ،کیونکہ وہ اہلبیت(ع) کا نام استعمال کرکے اور ان کے حق کے دفاع کا نعرہ دے کر حکومت میں آئے تھے لیکن جس طرح انہوں نے اہلبیت(ع) پر دباؤ ڈالا،قید و بند میں رکھا،ایک گھٹن کا ماحول بنائے رکھا اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔خاص کر امام علی نقی(ع) کا زمانہ نہایت گھٹن کا زمانہ ہے ،جس میں امام کو چاروں طرف سے گھیرا گیا ہے،مدینہ سے زبردستی سامرہ لاکر کڑی نگرانی میں رکھا گیا ہے اور پوری کوشش کی گئی کہ آپ کا علم،آپ کی فکر،آپ کی آئیڈیا لوجی لوگوں تک نہ پہنچنےپائے ،اس کے بعد بھی جب ہم امام کے علمی،فکری،ثقافتی کارناموں کو دیکھتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے اور انسان افسوس کرتا ہے ان ہستیوں کو جو پوری بشریت کی راہنمائی کے لئے آئے تھے اگر کھل کر علم الہٰی اور شریعت محمدی کو بیان کرنے کا موقع دیا گیا ہوتا تو آج دنیا کا رنگ کچھ اور ہوتا ۔البتہ ہم مسلمانوں کی اوربالخصوص اہلبیتؑ کے ماننے اور چاہنے والوں کی بدبختی یہ ہے کہ جو کچھ اہلبیتؑ کے علم اور معرفت کے خزانے سے تھوڑا بہت ہم تک پہنچا ہے ہم اس سے بھی غافل ہیں،ہم اہلبیت اطہار(ع) کے ساتھ عشق و محبت اور عقیدت کے اظہار سے آگے نہیں بڑھے ہیں جبکہ وہ تمام تعلیمات جو اہلبیت(ع) نے ان تمام سختیوں،جانفشانیوں،قربانیوں  کے بعد ہم تک پہنچائی ہیں وہ اس لئے تھیں اور ہیں کہ ہم ان کی روشنی میں زندگی کا صحیح راستہ پاسکیں۔خدا سے دعا ہے کہ وہ ہمیں توفیق دے کہ ہم ان بندگان صالح کے ذکر سے آگے بڑھیں اور ان کی فکر کا مطالعہ کریں اور اسے اپنی زندگی میں لاگو کریں۔
امام سجاد(ع) کے زمانے سے تقریباً تمام آئمہ نے، زمانے کے حالات کو دیکھتے ہوئے ایک اہم کام  جو کیا ، وہ امامت و ولایت کا تعارف ہے۔کیونکہ پیغمبر اکرم(ص) کی وفات کے بعد جس طرح امت نے امامت و ولایت کو چھوڑ کر خلافت و ملوکیت کا راستہ اپنایا ہے اس کا نتیجہ  یہ ہوا کہ خدا نے امت کی ہدایت کے لئے جو نظام متعارف کروایا تھا اسے بالکل بھلا دیا گیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ سن ۶۱ ہجری میں فرزند رسول(ص)،جگر گوشہ علی وبتول امام حسین(ع) کو قتل کردیا گیا اور امت تماشائی بنی دیکھتی رہی۔اب ضروری تھا کہ امت کو اس نظام کی طرف موڑا جائے  اور امامت و  و لایت سے متعارف کروایا جائے۔ دوسری طرف کچھ لوگ امامت اور ائمہ  کے تئیں  افراط کا شکار ہوگئے تھے اور انہوں نے امامت کو الوہیت تک پہنچا دیا تھا اور ائمہ کو خدا سمجھنے لگے تھے اور خدائی کاموں کی نسبت   اس طرح آئمہ  کی طرف  دیتے تھے گویا وہی خدا ہوں،ایسے لوگوں سے جہاں ائمہ نے شدت کے ساتھ مقابلہ کیا اور ان سے برائت کا  اعلان ،وہیں  امامت کا صحیح تصور بتایا اور آئمہ کی صحیح تصویر پیش کی تاکہ دوسرے لوگ گمراہی کا شکار نہ ہوں۔
امام علی نقی(ع) نے اپنی ایک زیارت،زیارت جامعہ کبیرہ میں امامت کا اور آئمہ کا مکمل تعارف پیش کیا ہے  جس میں آپ نے یہ بتایا ہے کہ امامت کیاہے،ائمہ کے صفات و خصوصیات کیا ہیں،ان کا مقام و مرتبہ کیاہے،وہ کس قدرت کے حامل ہیں،وہ دنیا میں کس لئے آئے ہیں اور پھر یہ بھی بتایا ہے کہ انسانوں کی،مسلمانوں کی،ان کے چاہنے والوں کی ائمہ کے تئیں کیا ذمہ داری بنتی ہے۔اس زیارت کو پڑھنے کی اور اس کے ایک ایک جملے میں غور کرنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔البتہ  اس زیارت کے تئیں اتنی احتیاط لازمی ہے کہ مؤمنین اس کے ترجمہ کو پڑھ کر خود اجتہاد نہ کرنے لگ جائیں اور جس غلطی کا آئمہ کے زمانے کے ’’غالی حضرات ‘‘شکار ہوئے اس کا شکار نہ ہوجائیں ۔لہٰذا جو بات ان کی سمجھ سے باہر ہو اس کے لئے ضرور علماء  کی طرف رجوع کیا جائے۔
ماہ رجب کے بارے میں گزشتہ ہفتہ عرض کیا تھا کہ یہ زیارتوں کا مہینہ بھی ہے۔بطور خاص امام حسین(ع) اور امام علی رضا (ع) کی زیارت کو اس مہینے میں مستحب قررا دیا گیا ہے اور اس کی خاص تلقین کی گئی ہے ۔زیارت جامعہ کبیرہ چونکہ کسی ایک امام سے مخصوص نہیں ہے اس لئے علماء  فرماتے ہیں کہ یہ زیارت ہر امام  کے لئے پڑھی جاسکتی ہے اور پڑھنا چاہیے کیونکہ یہ تمام آئمہ(ع) کے لئے تعلیم دی گئی ہے۔
قارئین کرام چونکہ مختلف مواقع پر  آئمہ اطہار کی زیارات کے لئے جاتے  رہتے ہیں ،جنہیں اب تک توفیق نہیں مل سکی ہے اور وسائل فراہم نہیں ہوسکے ہیں پروردگار انہیں بھی زیارت کی توفیق عنایت فرمائے اور اس کے لئے اسباب مہیا فرمائے،یہاں مناسب ہے کچھ باتیں خود زیارت کے فلسفہ سے متعلق اور آداب زیارت سے متعلق عرض کی جائیں  تاکہ جب کبھی بھی زیارت کا موقع ملے تو یہ باتیں ہمارے مد نظر رہیں۔
پہلا نکتہ یہ ہے کہ خود زیارت کیا ہے اور اس کا مقصد ہے؟ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ جب بھی کسی اہم اور باعظمت شخصیت کی ملاقات کو جاتے ہیں  اسے زیارت کہا جاتا ہے۔ماں باپ سے،کسی استاد سے ،کسی عالم سے ملنے کے لئے جارہے ہیں اسے زیارت کہا جائے گا۔احادیث میں بھی اس طرح کی ملاقاتوں کو زیارت کا عنوان دیا گیا ہے۔اس لئے جب ہم آئمہ طاہرین(ع)  کی زیارت کے لئے جاتے ہیں تو نظر میں یہ ہونا چاہیے کہ ہم ان کے گھر ان سے ملاقات کے لئے جارہے ہیں۔زیارت کا مقصد کیا ہے؟جب ہم ماں باپ سے،استاد سے یا کسی عالم سے ملنے جاتے ہیں تو کس لئے جاتے ہیں؟ یقیناً تفریح کے لئے نہیں جاتے بلکہ ان کے احترام کے لئے،ان سے کچھ سیکھنے کے لئے،کچھ حاصل کرنے کے لئے۔انسان جب اہلبیت(ع) کی زیارت کو جاتا ہے اس کا مقصد بھی ان شخصیتوں کا احترام ہوتا ہے،وہ ان کے پاس کچھ لینے کے لئے جاتا ہے،کچھ حاصل کرنے جاتا ہے،اس زیارت کے  ذریعہ وہ اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کرتا ہے جو ان کے مزارات پر جاکر بھی ہوسکتا  ہے اور دنیا کے کسی بھی کونے میں رہتے ہوئے ان زیارتوں کو پڑھ کر بھی ہوسکتا ہے جو خود آئمہ نے ہمیں تعلیم دی ہیں۔زندگی میں ہدایت اور آخرت کی سعادت کے لئے آئمہ معصومین(ع) سے توسل اور رابطہ ضروری ہے جس کا ایک بہترین ذریعہ وہ زیارات ہیں جو ہم پڑھتے ہیں۔
دوسرا نکتہ جس کی  طرف دھیان دینا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ہم کس کے  پاس جارہے ہیں؟کس کی زیارت کو جارہے ہیں؟چونکہ ہم جس سے بھی ملنے جاتے ہیں اس شخصیت کو نظر میں رکھتے ہوئے خود کو آمادہ کرکے جاتے ہیں۔ماں باپ کے پاس جانا ہے تو اس کا ایک انداز ہوگا،رشتہ داروں سے ملنے جانا ہے تو انداز مختلف ہوگا،دوستوں سے ملاقات کرنا ہے تو ایک خاص انداز ہوگا،استاد سے ملنے جارہے ہیں تو ایک الگ انداز ہوگا،کسی مجتہد سے، بڑے عالم سے ملنے جارہے ہیں تو ایک خاص ادب کا لحاظ کریں گے۔جب ائمہ سے ملنے جارہے ہیں ،ان کی زیارت کو جارہے ہیں تو یہ نظر میں رکھنا ہوگا کہ ہم کن سے ملنے جارہے ہیں؟کیا ہم نے ان حضرات کی  عظمت اور شخصیت کے پیش نظر خود کو آمادہ کرلیا ہے؟اسی لئے زیارت کے آداب بھی بتائے گئے ہیں تاکہ انسان متوجہ ہو کہ وہ کہاں جارہا ہے۔لہذا کہا گیا کہ   زیارت سے پہلے یہ  دیکھو کہ  تمہارا جسم  پاک ہو،لباس پاک  ہو،غسل کرکے جاؤ،لباس غصبی تو نہیں؟ جس مال کو خرچ  کرکے زیارت کو جارہے ہیں وہ حرام تو نہیں؟جب انسان ان باتوں کی طرف دھیان دے گا تو خود کو تیار بھی کرے گا۔اسی کو کہا جاتا ہے ’’بامعرفت زیارت‘‘ جس پر اہلبیتؑ نے بہت زور دیا ہے۔کیونکہ زیارت کا فائدہ اسی وقت ہے جب معرفت کے ساتھ ہو۔امام رضاؑ کے بارے میں امام کاظم ؑ فرماتے ہیں: جو بھی ان کے حق کو پہچانتے ہوئے اور ان کے بتائے ہوئے راستے پر عمل کرتے ہوئے  ان زیارت کرے گا ،اس کی  منزلت خدا کے یہاں شہدائے بدر کے برابر ہے۔امام صادقؑ نے فرمایا: جو بھی امام حسینؑ کی معرفت کے ساتھ ان کی زیارت کرے گا اس کا  کم سے کم اجر جنت ہے۔علی ابن حمزہ بزنطی کہتے ہیں: میں نے امام رضاؑ کی ایک حدیث میں پڑھاکہ آپ فرماتے ہیں:میرے شیعوں تک یہ بات پہنچا دو کہ میری زیارت خدا کے یہاں ہزار حج کے برابر ہے۔یہ پڑھ کر مجھے تعجب ہوا کہ ایک زیارت ہزار حج کے برابر کیسے ہوسکتی ہے؟! اس لئے میں امام محمد تقیؑ کی خدمت میں پہنچا اور  حضرت  سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا۔امام نے جواب دیا :صرف ہزار نہیں خدا کی قسم! اس زیارت کا ثواب دس لاکھ حج کے برابر ہے۔اتنا اجر انسان کو کب ملے گا جب وہ معرفت کے ساتھ ائمہ کی زیارت کرے۔اس کا کیا مطلب ہے؟اس کا مطلب یہ ہے کہ  ائمہ کے مزارات پر جانے،ان کی جالیاں چومنے،ان کے چوکھٹ کا بوسہ دینے،ضریح مبارک کے چکر کاٹنے ،ایک زیارت پڑھنے اور پھر چلے آنے سے  یہ اجر نہیں ملے گا کیونکہ یہ تو ہم نے صرف اپنی عقیدت کا اظہار کیا ہے،اگرچہ یہ بھی ضروری ہے اور بہت اہم ہے،دنیا میں نہ جانے کتنے لوگ اس توفیق سے بھی محروم ہیں،یہ اجر اس وقت ملے گا،جب انسان پوری تیاری کے ساتھ جائے،تمام آداب بجالائے،معرفت کے ساتھ اور سمجھ کر زیارت کرے اور پھر اس سرمایہ کو بچاکر رکھے جو اسے حاصل ہوا ہے۔پیغمبر اکرم(ص) نے اپنے اصحاب کے درمیان فرمایا کہ جو ایک بار خدا کی حمد کرے گا اس کے لئے جنت میں ایک درخت لگایا جائے گا۔یہ سن کر ایک صحابی نے کہا: اللہ کے رسول(ص)! اس حساب سے تو اب تک کئی باغ ہمارے لئے تیار ہوچکے ہوں گے۔آپ نے جواب میں فرمایا: البتہ اس شرط کے ساتھ کہ تمہارے گناہوں کی کسی چنگاری نے ان باغات  کو جلا کر راکھ نہ کردیا ہو۔
تیسرا نکتہ جو اہم اور ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ہم اس تصور کے ساتھ زیارت کو جائیں کہ ہم جس امام کے پاس جارہے ہیں ،جس سے ملاقات اور زیارت کو جارہے ہیں وہ زندہ ہیں جیسا کہ ہم ائمہ کی زیارت سے پہلے جب ان کی بارگاہ میں جانے کے لئے اجازت لیتے ہیں تو ایک دعا پڑھتے ہیں جس میں ہم کہتے ہیں: ’’أَشْهَدُ أَنَّکَ تَشْهَدُ مَقَامِی وَ تَسْمَعُ کَلَامِی وَ أَنَّکَ حَیٌّ عِنْدَ رَبِّکَ تُرْزَقُ‘‘میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ مجھے دیکھ رہے ہیں،میری باتیں سن رہے ہیں ،آپ زندہ ہیں اور خدا کے یہاں سے رزق پارہے ہیں۔یا قرآن کریم فرماتا ہے: ’’وَ لا تَحْسَبَنَّ الَّذینَ قُتِلُوا فی‏ سَبیلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْیاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُونَ‘‘ جو لوگ خدا کی راہ میں شہید ہوئے ہیں انہیں مردہ نہ سمجھنا بلکہ وہ زندہ ہیں اور خدا کے یہاں سے رزق پاتے ہیں۔ائمہ کا مرتبہ شہدا ء سے کہیں بڑھ کر ہیں ۔جب ایک شہید کے بارے میں  یہ ہے کہ وہ زندہ ہوتا ہے تو ائمہ کے بارے میں کسی قسم کا شک و شبہہ کیا ہی نہیں جاسکتا کہ وہ زندہ ہیں یا نہیں۔البتہ ان کی زندگی ہماری زندگی جیسی نہیں ہوتی ۔کیونکہ جسمانی طور پر وہ اس دنیا سے اٹھ چکے ہیں لیکن انہیں خدا نے جو زندگی دی ہے وہ ہماری اس زندگی سے کہیں زیادہ عظیم اور برتر ہے۔اُس زندگی کی بنیاد پر ان کا اس دنیا کے ساتھ بھی رابطہ ویسا ہی ہے جیسے جسمانی موت سے پہلے دنیاوی زندگی میں تھا بلکہ اس سے بھی بہتر رابطہ ہے۔اس لئے وہ ہمیں دیکھ سکتے ہیں،سن سکتے ہیں،ہماری مدد کرسکتے ہیں،کہیں بھی آجاسکتے ہیں،ان کے لئے  کوئی محدودیت بھی نہیں ہے۔جب اس تصور کے ساتھ زیارت کو جائیں گے تو پھر بہت سی باتوں اور چیزوں کا دھیان رکھیں گے۔جب میرا یہ تصور ہوگا کہ امام میرے سامنے ہیں،مجھے دیکھ رہے ہیں ،میری بات سن رہے ہیں تو میری زیارت کا انداز ہی الگ ہوگا،میں پورے ہوش و حواس کے ساتھ زیارت کروں گا۔

جاری ہے  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम