صیہونیوں کو اپنی بقا کے بحران کا سامنا

فلسطینی عوام مزاحمتی محاذ کا کہنا ہے کہ اس وقت صیہونی ریاست اپنے وجود اور بقا کے بحران سے دوچار ہے

ولایت پورٹل:فلسطینی عوامی جدوجہد محاذ کے سکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ صیہونی حکومت ایک تاریخی اور وجودی بحران کا شکار ہے اور فلسطین کی جہاد اسلامی تحریک حالیہ تین غزہ جنگ سے قابل فخر اور زیادہ طاقتور انداز میں باہر آئی ہے،خالد عبدالمجید نے اسپوٹنک نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا کہ اسرائیلی حکومت غزہ کی پٹی پر جارحیت سے کئی مقاصد حاصل کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلا ہدف اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات سے متعلق ہے کیونکہ عبوری وزیر اعظم یائر لاپڈ اس جنگ کو شروع کرکے اور فلسطینیوں کو قتل کرکے یہ الیکشن جیتنا چاہتے تھے، جو کہ یکم نومبر کو ہونا ہے،عبدالمجید کے مطابق غزہ کے خلاف تین روزہ جنگ کا دوسرا ہدف مزاحمتی محور جماعتوں کو پیغامات پہنچانا تھا۔
عبدالمجید نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جہاد اسلامی اس جنگ میں اسرائیل کے اہداف کو شکست دینے میں کامیاب رہی اور ایک ہزار راکٹ فائر کر کے اس نے بیت المقدس پر قابض حکومت کو رسوا کر دیا نیز یہ واضح ہو گیا کہ اسرائیل اور امریکہ پیچھے ہٹ رہے ہیں اور اس جنگ سے امریکہ کو کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس سب کے علاوہ اسرائیل جہاد اسلامی کو کمزور نہیں کر سکتا، اس کے برعکس یہ تحریک اس جنگ سے زیادہ طاقت اور اختیار کے ساتھ نکلی۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین