مزاحمتی انجینئروں کے کارناموں سے صیہونیوں کی نیندیں حرام

صیہونی حکومت کا دعویٰ تھا کہ غزہ کی سرحد پرلگی اسمارٹ دیوار ناقابل تسخیر ہے لیکن مزاحمتی انجینیئر اس مسئلے کا حل تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں  جس کے بعدانھوں نے صیہونیوں کی خوشی کو ختم کر دیا ہے۔

ولایت پورٹل:لبنانی اخبار الاخبار نے آج (جمعرات) کو ایک چونکا دینے والی خبر میں لکھاہے کہ فلسطینی مزاحمت غزہ کی سرحد پر ، مزاحمتی سرنگوں کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے بنائی گئی صیہونی حکومت کی سمارٹ دیوار میں داخل کے لیے عملی حل تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے جس نے تل ابیب کی خوشی  کو مٹی میں ملا دیا ہے۔
 الاخبار نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ فلسطینی گروپوں نے ابھی تک دیوار میں داخل ہونے کی اپنی صلاحیت کو عام نہیں کیا ہے، تاہم مزاحمتی انجینئرز  ایسے عملی حل تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو فوجی لڑائیوں میں دیوار کو بیکار بنادیں گے، رپورٹ کے مطابق گذشتہ مئی میں  ہونے والی سیف القدس کی لڑائی میں مزاحمت کاروں نے سرنگوں کے ہتھیاروں کو سرحد پار کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا تھا کیونکہ صیہونی حکومت زمینی جنگ میں داخل نہیں ہوئی تھی اور اس کے علاوہ حکومت نے تقریباً پانچ کلومیٹر کا علاقہ بھی خالی کر دیا اور غزہ کی سرحد سے آبادکاروں اور  اپنی فوج کو نکال لیاجبکہ اس جنگ میں مزاحمت نے اپنی صلاحیت کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ استعمال کیا اور اپنی کوششوں کو میزائل ہتھیاروں پر مرکوز کیا نیز دشمن کو ایک رکاوٹ (سمارٹ وال) سے رخنہ ڈالنے سے ڈرایا جس پر اسے فخر ہے اور مکمل تحفظ فراہم کرنے کا دعویٰ ہے۔
 باخبر ذرائع نے مزید کہا کہ اگرچہ دیوار کا بڑا حصہ 30 سے 40 میٹر کی گہرائی میں ہے لیکن اس گہرائی سے نیچے کھدائی مزاحمت کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے جس کا مطلب ہے کہ قابض حکومت کی سرنگوں کا سامنا کرنے کی کوششیں پھر سے  ناکام ہو گئی ہیں۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین