Code : 3755 4 Hit

جنوبی اور شمالی یمن کو الگ کرنے کی صیہونی سازش

یمن کے ایک عہدیدار نے ملک میں صیہونی حکومت کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تل ابیب نےجنوبی یمن کے لئے پریشان کن خواب دیکھا ہےاور اسے شمال سے الگ کرنے کے کی سازش کررہی ہے۔

ولایت پورٹل:جنوبی یمن کی صورتحال کی طرف صہیونی حکومت کی توجہ  خاص طور پر متحدہ عرب امارات سے وابستہ جنوبی یمن عبوری کونسل سے اس کے رابطے نے تجزیہ کاروں کی توجہ مبذول کرلی ہے۔
ایک صیہونی اخبار نے حال ہی میں جنوبی یمن کی عبوری کونسل کا نام خطہ میں صیہونی حکومت کے ایک نئےاور خفیہ  دوست کے طور پر رکھا ہے اس کے علاوہ عبوری کونسل کے عہدیداروں نے بار بار صیہونی حکومت کے ساتھ عوامی سطح پر بات چیت کرنے پر اپنی رضامندی کا اعلان کیاہے۔
صیہونی حکام کے لیے ایک طرف یمن کے انصاراللہ میزائل خطرات کے بارے میں ان کی تشویش اور باب المندب آبنائے اور بحیرہ احمر کے کنٹرول سمیت مختلف محاذوں پر یمنی مزاحمتی قوتوں کی پیش قدمی صیہونٰ حکومت کے سیاسی حلقوں میں ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔
یمنی وزارت تعلیم میں قانونی امور کے ڈائریکٹر جنرل عبدالوہاب الخیل کا اس سلسلہ میں کہنا ہے کہ اسرائیل یمن میں قدم جمانے کی تلاش میں ہے اور متحدہ عرب امارات سے وابستہ جنوبی یمن کی عبوری کونسل سمیت اس سے وابستہ عناصر کے استعمال کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔
الخلیل کا کہنا ہے کہ  صیہونی اس طرح  کے اقدامات کے ذریعہ یمنیوں کی بڑھتی ہوئی بیداری اور ان کےمسئلہ فلسطین کی حمایت نیز صیہونی حکومت کو دشمن تسلیم کرنے کے خطرے کو ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ یمن کے سلسلہ میں  صہیونیوں کی پریشانی اس وقت شروع ہوئی جب یمنیوں نے شہید حسین بدرالدین الحوثی کے ساتھ مل کرامریکہ مردہ باد اور اسرائیل مردہ باد  کا نعرہ لگایا۔
شہید حسین بدرالدین الحوثی نے خطے میں اسرائیل اور امریکی غنڈہ گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک عملی منصوبہ شروع کیا۔
صہیونی حکومت اس وقت اس بیداری کے خطرے کو بھانپ  لیالہذا اس نے اس عمل کو روکنے کے لئے امریکہ کے حکم پر خطے اور یمن کے علاقے کے اندر اپنے عناصر کا استعمال کیا۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین