یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کے دورہ ایران سے صہیونی حکام پریشان

اسرائیلی وزیر خارجہ جنہوں نے ہمیشہ ایرانی عوام کے خلاف پابندیاں اٹھانے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی ہے، عجلت میں دیے جانے والے اپنے بیان میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کے دورہ تہران پر تنقید کی۔

ولایت پورٹل:المیادین چینل کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کی ایران آمد جس کا مقصد ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنا ہے ، کے بعد امریکی میڈیا نے اس دورے پر اسرائیلی وزیر خارجہ یائر لاپڈ اور جوزف بوریل کے درمیان گرما گرم بحث کی خبر دی۔
امریکی اخبار پولیٹیکو نے اس مسئلے کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی ایک رپورٹ میں مزید کہا کہ تہران کے دورے سے قبل بوریل نے لاپڈ کو ایک پیغام بھیجا جس میں بتایا گیا تھا کہ وہ ایران کو جوہری معاہدے پر مذاکرات میں واپس لانے کی کوشش کر رہے ہیں، بوریل کے پیغام کے جواب میں لاپڈ نے ان کے ریمارکس پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ان پر خطرناک انتباہات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا کہ ایران ترکی میں اسرائیلی شہریوں کو قتل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
لاپڈ نے بوریل کو یہ بھی بتایا کہ تہران کے دورے کے سلسلہ میں ان کا موقف انتہائی مایوس کن تھا، خاص طور پر جب ایران نے اپنی جوہری تنصیبات سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے درجنوں کیمرے ہٹا دیے جس کی IAEA کے بورڈ آف گورنرز نے شدید مذمت کی۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین