صیہونیوں کی مسجد اقصی سے نمازیوں کو نکالنے کے لئے نئی چال

فلسطینی عہدیداروں نے صیہونی حکومت کی جانب سے مسجد اقصی کو نمازیوں اور اس کے خادموں سے خالی کروانے کے لئے ایک نئی پالیسی سے متعلق انتباہ دیا ہے۔

ولایت پورٹل:القدس العربی اخبار   کی رپورٹ کے مطابق یروشلم میں فلسطینی عہدیداروں اور مذہبی حکام کے ساتھ ساتھ مسجد اقصیٰ کے ملازمین نے بھی اسرائیلی غاصبانہ حکومت کی  جانب سےمسجد اقصی سے منظم طریقے سے انخلا کرنے کی پالیسی کے علاوہ رہائشیوں پر روزانہ ہونے والے حملوں کے بارے میں متنبہ کیا۔
بیت القدس اسلامی اوقاف کے ایک سینئر اہلکار نے العربی الجدید نیوز ایجنسی کو بتایا کہ حال ہی میں قابض حکومت کی طرف سے مسجدالاقصی کے نمازیوں اور خادمین کے خلاف اپنائی گئی نئی پالیسی ایک خطرناک اور بےسابقہ ہے  کیونکہ یہ منظم طریقے مسجد کے صحن میں موجود خادمین، عہدیداروں اور صحافیوں کو ایک ساتھ نشانہ بنا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے کچھ دنوں کے دوران قریب 10 افراد صہیونی حکومت کی پالیسی کا شکار ہوئے ہیں جن میں یروشلم میں سپریم اسلامی کمیٹی کے سربراہ شیخ عکرمہ صابری ، اور سندس عویس اور رائده سعیدجیسے فوٹوگرافروں اور صحافیوں شامل ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ صیہونی حکومت کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے متعدد خادم اور محافظ اور متعدد گروہوں کے کارکنان ، جن میں فتح تحریک کے ایک رہنماناصر قوس جو یروشلم میں فلسطینی قیدیوں کے کلب کے صدر بھی ہیں ، مسجد اقصیٰ میں  جانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صیہونی پولیس نے مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی چھاپے کے دوران مسلمان نمازیوں کو حراست میں لینے کی دھمکی دی ہے اور بچوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ قبه الصخره کے صحن میں نہ کھیلیں۔
ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی فوجی دستوں نے مسجد اقصیٰ پر چھاپے کے دوران صحافیوں اور فوٹوگرافروں کی فلم بندی پر پابندی بھی عائد کردی ہے۔
 




0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین