Code : 4051 10 Hit

صہیونیوں کا مقبوضہ بیت المقدس میں نئی بستی تعمیر کرنے کا منصوبہ

صیہونی حکومت مقبوضہ بیت المقدس میں ایک اور صیہونی بستی تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ولایت پورٹل:عربی 21 ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق یروشلم میں فلسطینی اراضی پر صیہونیوں کے ہاتھوں غیر قانونی تعمیر اور قبضہ کی رفتار حالیہ برسوں میں بڑھ گئی ہے  اور ایک بار پھر صہیونی حکومت نے شہر کے شمال میں ایک صنعتی قصبہ تعمیر کرنے کا ارادہ کیا ہے،رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کی کابینہ میں یروشلم امور کی وزارت نے اس قصبے کی تعمیر کی تجویز پیش کی تھی جس کے بعد یروشلم میں اسرائیل سے وابستہ بلدیہ نے 90000 مربع میٹرپر مشتمل شہر بنوانے پر اتفاق کیا ہے۔
مقبوضہ بیت المقدس کے میئر موشے لیون نے بھی اسرائیل کے کان ٹیلی ویژن چینل کو بتایا کہ وہ یروشلم میں آباد کاری کے منصوبوں کو جاری رکھنے کے لئے پرعزم ہیں،قابل ذکر ہے کہ پچھلے مہینے سے یروشلم کی بلدیہ نے یروشلم کے مشرق میں واقع وادی الجوز   کےصنعتی زون میں دکانیں ، کاروبار اور گیسٹ ہاؤس تیار کرنے کا منصوبہ شروع کیا  ہے  جس کے بارے میں کہا جارہا ہے اس منصوبے کے نتیجہ میں 200 سے زائد فلسطینی تجارتی اور صنعتی عمارات کو منہدم کیا جانا ہے۔
اسرائیلی حکومت نے گذشتہ مارچ میں اعلان کیا تھا کہ اس نے مقبوضہ بیت المقدس کے مشرق میں E1 علاقے میں 3500 رہائشی یونٹ بنانے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ اس علاقے کو معالی ادومیم شہر سے ملایا جاسکے، تاہم یوروپی ممالک کے سولہ سفیروں نے "ای ون" علاقے میں تعمیرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی وزارت خارجہ کو احتجاجی میمورنڈم بھی پیش کیا۔
درایں اثنافلسطینی اتھارٹی کے محکمہ خارجہ نے ان تعمیرات کے خلاف اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے  گذشتہ رات ایک بیان جاری کرکے اس اقدام کو یروشلم کی تاریخی شناخت کو تبدیل کرنے اور اسے فلسطینیوں سے الگ کرنے کی کوشش قرار دیا ۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین