Code : 3085 15 Hit

صیہونی فائرنگ کے نتیجے میں غزہ میں دو سال کے دوران 21 فلسطینی آنکھوں کی روشنی سے محروم

مقبوضہ بیت المقدس میں صہیونی انفارمیشن سینٹر برائے انسانی حقوق نے گذشتہ دو سالوں میں صہیونی فوجیوں کی فائرنگ کے نتیجے میں 21 فلسطینیوں کی آنکھوں کی روشنی چلے جانے کا اعلان کیا ہے۔

ولایت پورٹل:قدس پریس کی رپورٹ کے مطابق بیت المقدس کے مقبوضہ علاقے میں صہیونی انفارمیشن سینٹر برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ غزہ کی سرحد پر 2018 اور2019 میں صہیونی فوجیوں فلسطینی مظاہرین پر فائرنگ کے نتیجہ میں 19افراد کی ایک آنکھ  چلی گئی جبکہ  2 کی  دونوں آنکھیں چلی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کی سرحد پر وطن واپسی کے مظاہروں میں اب تک200 سے زائد افراد شہید ہوچکے ہیں جبکہ فائرنگ سے 8000افراد زخمی ، 2400 پلاسٹک کی گولیوں سے اور 3000 افرادگیس بموں سے زخمی ہوئے ہیں۔
مذکورہ رپورٹ میں کہا  گیا کہ غزہ پٹی کے 13 سالہ محاصرے کی وجہ سے علاقے میں طبی خدمات کو نمایاں نقصان پہنچا ہے نیز طبی مراکز دوائیوں ، ڈاکٹروں اور طبی سامان کی قلت کا شکار ہیں۔
اس  طرح کے حالات کے نتیجے میں غزہ میں بہتر طور پر علاج دستیاب نہیں ہے اور صیہونی حکومت کے غزہ کے رہائشیوں کو علاج کے لئے باہر جانے کی اجازت بہت ہی مشکل سے دیتی ہے۔
قدس پریس کی رپورٹ میں مزید آی اہے کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے مہلک ذرائع کا استعمال جس کے نتیجے میں  یا تو سامنے والے کی موت ہوجاتی ہے یا وہ شدید زخمی ہوجاتا ہے ،یہ پالیسی اسرائیل  نے قریب دو سالوں سے غزہ پٹی میں فلسطینی مظاہرین کے خلاف اپنا رکھی ہے۔
صیہونی مرکز نے اس بات پر زور دیا کہ یہ پالیسی قانونی اور اخلاقی نہیں ہے اور جب تک صہیونی حکومت ا س پالیسی پر عمل پیرا رہے گی فلسطینی مظاہرین قتل اور زخمی ہوتے رہیں گے۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम