غزہ پٹی کے رہائشیوں کو نقل مکانی کرنے پر مجبور کرنے کےصیہونی خفیہ منصوبے

صہیونی حکومت کی خفیہ دستاویزات کے انکشاف سے پتہ چلتا ہے کہ اس حکومت نے گذشتہ برسوں میں غزہ پٹی کے رہائشیوں کو نقل مکانی کرنے پر مجبور کرنے کے لئے متعدد مختلف منصوبوں پر عمل درآمد کیا ہے۔

ولایت پورٹل:صہیونی تجزیہ کار اور قلمکار عمری شیفر راویو نے غزہ پٹی پر قبضہ کرنے کے لئے صیہونی حکومت کی کوششوں کو بیان کرتے ہوئے انجمن برائے علاقائی خیال کی عبرانی سائٹ پر ایک مضمون شائع کیا  جس میں  اس بات پر زور دیا کہ صہیونی حکومت کے خفیہ پروٹوکول ، جو حال ہی میں منظرعام پر آئے ہیں ، سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ کی پٹی پر قبضے کے پہلے سالوں کے دوران مختلف صیہونی حکومتیں اس خطہ کے آبادیاتی ڈھانچہ کو تبدیل کرنے کی کوشش کر تی آئی ہیں ، عربی 21 نیوز ویب سائٹ نے اسرائیلی تجزیہ کار کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ صیہونیوں کا مغربی کنارے پر قبضہ کرنے کا منصوبہ تھا جس کے لیے انھوں نے سنہ 2019 میں غزہ پٹی کے رہائشیوں  کی منظم ہجرت کے لئے دوسرے ممالک کے ساتھ رابطہ بھی کیا۔
 اطلاعات کے مطابق صہیونی حکومت کا ارادہ تھا کہ جیسے ہی کوئی بھی ملک غزہ پٹی کے تارکین وطن کو قبول کرنے اور فلسطینی پناہ گزینوں کو "اپنے نئے ملک" منتقل کرنے پر راضی ہوجائے گا تو وہ جنوب میں ایک ہوائی اڈ ہ تعمیر کریں گے جہاں سے فلسطینیوں کو دوسرے ملک میں بھیج دیں گے،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نہ صرف صہیونی عہدیداروں نے اس منصوبے کی تردید نہیں کی ، بلکہ  صیہونی حکومت کے سابق وزیر اقتصادیات نے کہا کہ وہ غزہ پٹی سے نقل مکانی کی حوصلہ افزائی کرنے پر راضی ہیں اوراس کے لیے برسوں سے کام کر رہے ہیں، اسرائیلی تجزیہ کار کے مطابق  مغربی کنارے پر قبضے کے ابتدائی برسوں میں ، صیہونی حکومت نے فلسطینیوں کی تعداد کو زیادہ سے زیادہ کم کرنے اور انہیں ہجرت کرنے کی ترغیب دینے کے لئے بہت کوششیں کیں تاکہ وہ فلسطینی شہریوں کی موجودگی کے بغیر پوری پٹی پر قبضہ کرسکیں۔
 ان کے بقول  صہیونی حکومت نے ابتدائی طور پر غزہ کے باشندوں کی نقل مکانی کی حوصلہ افزائی کی نیز خطے میں معاشی عدم استحکام ایجاد کیانیز جو لوگ خطہ چھوڑ رہے تھے ان کو مالی امداد فراہم کرنے کی پالیسی اختیار کی جس کی بنا پر 1996 میں 32000 فلسطینی غزہ پٹی سے فرار ہونے پر مجبور ہوگئے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین