Code : 4052 10 Hit

صہیونیوں کی ترکی میں خفیہ سرگرمیاں

شاید اب تک ترکی میں صیہونیت اور فاشزم کے کردار پر کم بحث ہوئی ہے ، جبکہ ایسی دستاویزات موصول ہوئی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ صہیونی اس ملک میں طویل مدتی اہداف کے حصول میں ہیں۔

ولایت پورٹل:اصلاح پسند صہیونی انتہا پسند تحریک کے بانی اور "اسرائیل" کی بنیاد رکھنے والی کلیدی شخصیتوں میں سے ایک ولادی میر جبتینسکی کے بارے میں اطلاعات اور دستاویزات سامنے آئی ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے ترکی میں صیہونی جوانوں کی تنظیم  کی بنیاد رکھی تھی،جبتنسکی نے صیہونی دہشت گرد تنظیم بٹار کی بنیاد رکھی جس کا مقصد دنیا بھر میں بکھرے ہوئے یہودی نوجوانوں کو تیارکردہ مقصد کے تحت  مستقبل  میں بننے والی صیہونی ریاست کی خدمت کرنے کے لیے تیار کرنا تھا ،بٹار تنظیم دنیا کے بہت سارے حصوں میں پھیلی لیکن اس کی بنیاد1933میں  ترکی  کے شہر استنبول میں رکھی گئی  نیز استنبول اور ازمیر کے یہودی نوجوانوں نےاس کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ترکی میں بٹار تنظیم  کے قیام کا پہلا مقصد صہیونیت کے حق میں ترکی میں بسنے والے سیفارڈک یہودیوں کی حمایت حاصل کرنا تھا جو عثمانی سلطانوں کی حکومت کے دوران ہجرت کرکےاس ملک میں آباد ہوئے تھے، ترکی کے بٹار ممبران خفیہ طور کام کرتے تھے  اور ان کا بنیادی مقصد "عروج" اور "چوٹی"  پر پہنچناتھا جس کا مطلب یہ تھا کہ دنیا بھر میں بکھرے ہوئے یہودیوں کی نقل مکانی اسرائیل ہونا تھی۔
ترکی میں 1973 تک خفیہ طور پر سرگرم رہنے والی بٹار تنظیم کا بنیادی ہدف فلسطین میں یہودی صہیونی ریاست کا قیام ، عبرانی زبان کو یہودی قوم کی واحد اور ابدی زبان تسلیم کرنا اور آتشیں اسلحہ استعمال کرنے کے طریق کار کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرنا تھا، اس مقصد کے لیےممبروں کو بار بار مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنی تیاری کو برقرار رکھنے کے لئے فوجی اڈے قائم کریں نیز انھیں یہودی ریاست کے قیام کی اہمیت کو مسلسل یاد دلایا جاتا تھا، ترکی میں بٹار تنظیم نے بتایا ہے کہ اس کا مقصد شریعت کا نفاذ یا یہودی ریاست کا قیام ہے،اس سلسلہ میں انھوں نے حدار نامی رسالہ شائع کرنا شروع کیااس تنظیم  کا ایک اور اہم ہدف ممبروں کو ہدار میں لکھنے کی ترغیب دلانا تھا، یہی وجہ تھی کہ وہ ہمیشہ اپنے ممبروں کو لکھنے کو کہتے تھے۔
حالیہ مہینوں میں ، ترکی کی بٹار تحریک پر ایک کتاب شائع ہوئی ہے جس کے سلسلہ میں بڑے پیمانے پر ردعمل سامنے آیا ہے، یہ کتاب لبرا پبلی کیشنز نے شائع کی تھی جس کی بنیاد ایک یہودی ترک مصنف اور تاریخ دان رفعت بالی نے سن 2008 میں ترک یہودیوں کی تاریخ پر خصوصی توجہ کے ساتھ رکھی تھی،البتہ کتاب کے سلسلہ میں ہونے والے وسیع پیمانہ پر تنازعہ  کے بعد ناشر کتاب کوواپس کرنے پر مجبور ہوگیا، اس کتاب میں بٹارتحریک کی سرگرمیوں اور اس کے اعمال کے بارے میں عام معلومات موجود ہیں جہاں سے معلوم ہوتا ہے صیہونی یہودی ریاست کے قیام کے لیے سو سال سے منصوبہ بندی کر رہے تھے جس کے لیے انھوں نے  عرب دنیا اور مسلمانوں کو اس حالت تک پہنچا دیا جس کا آج ہم مشاہدہ کررہے ہیں ۔
بلاشبہماضی میں جبتنسکی کا ایک سب سے اہم مقصد یہ تھا کہ وہ عربوں کو ترکی کے ساتھ آمنے سامنے لا کھڑا کرے اورآج ہم دیکھ رہے ہیں کہ  اس کی یہ خواہش کیسے پوری ہوئی،آج جب ہم ترکی میں صہیونی سرگرمیوں کی تاریخ پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ، ترکی اور صیہونی حکومت کے مابین تعاون کے بارے میں خبر سن کر ہمیں اب حیرت نہیں ہونا چاہیے، صیہونی سو سال قبل عثمانی حکومت میں سرگرم عمل تھے اور ان کی باقیات ترک حکومتوں میں اچھے اثر و رسوخ پر قائم رہی ہیں جو آج بھی موجود ہیں۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین