صیہونی حکام کا فلسطینی مزحمتی تحریک کے ہاتھوں شکست کا اعتراف(ایک تجزیہ)

سیف القدس کی لڑائی میں فلسطینی مزاحمت نے فلسطین کے لیے اپنی حمایت کو پورے ملک تک بڑھایا،یہ مسئلہ جو ابتدا میں مزاحمتی تحریک کے حامی میڈیا کی کوریج میں تھا ،تاہم مغربی میڈیا نے اسے مسترد کر دیا لیکن اب صہیونی حکومت کے عہدیدار بتدریج اسے تسلیم کر رہے ہیں۔

ولایت پورٹل:سیف القدس کی لڑائی نے فلسطینی مزاحمت کے لیے ایک نئی صورتحال پیدا کی، اس آپریشن نے مزاحمت کی حیثیت کو صیہونیوں کو لگام دینے میں کافی مضبوط کیا، یہ پہلی بار تھی جب فلسطینی مزاحمت نے صہیونی حکومت کے ساتھ لڑائی شروع کی اور فلسطینی عوام کا دفاع کرتے ہوئے صہیونیوں کو ایک ایسی جنگ میں داخل ہونے پر مجبور کیا جو انہوں نے غزہ کی پٹی کے خلاف انھوں نے شروع نہیں کی تھی اور نہ ہی اسے انھوں نے ختم کیا ،تاہم اس حقیقت کے باوجود انھوں نے  کئی بار غیر ملکی ثالثوں کے ذریعہ جنگ بندی کی درخواست کی۔
 سیف القدس صیہونی ریاست میں تباہی لانےکے ساتھ ساتھ مزاحمتی تحریک کی مکمل طور پر نئی اور منفرد کامیابی تھی جواس سے پہلے کبھی نہیں ملی تھی اور یہ فلسطینی مزاحمت کے حق میں رکاوٹ کو تبدیل کرنا تھا،اس سے پہلے صہیونی حکومت جب چاہتی تھی مزاحمت اور غزہ کی پٹی کے لوگوں کو نشانہ بنا لیتی تھی اور مزاحمتی گروہوں کو دھمکیاں دیتی تھی یہ صورت حال اس حکومت کی طرف سے پیدا کردہ روک تھام کی وجہ سے تھی ، جو مغرب اور امریکہ کی حمایت سے کی گئی تھی ، اور اس کی جڑیں خونریزی اور عام شہریوں کے قتل میں پیوست تھیں۔
 غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کی حمایت میں سیف القدس کی لڑائی شروع ہوئی اور مزاحمت نے اعلان کیا کہ وہ القدس اور مسجد اقصی کے لوگوں کی حمایت میں صیہونیوں کے ساتھ تنازعہ میں داخل ہو جائے گی ، مزاحمتی تحریک کی فوقیت صہیونی حکومت جس نے بے گناہوں کا خون بہا کر ایک قسم کی روک تھام کی تھی، کے برعکس فلسطینی مزاحمت کی اعلیٰ عسکری صلاحیتوں سے پیدا ہوئی ۔
فوجی میدان میں مزاحمت کی فیلڈ برتری نے صہیونیوں کو زمین سے حملہ کرنے کی اجازت نہیں دی  جس کے نتیجہ میں صہیونیوں نے مزاحمت کی نئی کامیابیوں جن میں مقبوضہ علاقوں کی پناہ گاہوں میں مزاحمتی میزائلوں کا داخل ہونا سب سے مشہور کارنامہ تھا،کو اپنی رائے عامہ سے چھپایا،ان کامیابیوں کے نتیجے میں ، یہ دوبارہ صہیونی تھے جنہوں نے ایسی جنگ بندی کا مطالبہ کیا جو انہوں نے خود شروع نہیں کی تھی  اور مزاحمت نے جنگ کو اپنی شرائط کو منواتے ہوئے ختم کیا۔
 پچھلے ایک ہفتے کے دوران  نفتالی بینیٹ کی کابینہ کے وزیر مواصلات ، جواز ہینڈل نے سیف القدس کی لڑائی میں حماس کے مقابلہ میں صیہونی حکومت کی ناکامی پر افسوس کا اظہار کیا ہے،ہینڈل نے ایک بیان میں کہا کہ ہمیں ایک پیغام موصول ہوا جس میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران حماس تحریک کو اسرائیل کی منظوری سے حاصل ہونے والی آمدنی اور اثاثوں کے باوجود اس کے خلاف کوئی روک تھام نہیں ہوئی۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین