Code : 3116 15 Hit

صیہونیوں کا مسجد الاقصیٰ کو تقسیم کر کے مفروضہ معبد بنانے کا منصوبہ

صہیونی حکومت کے سیاسی اور مذہبی حلقوں میں اس منصوبے کی باتیں ہورہی ہیں جس کے بارے میں ان کا دعوی ہے مسجد الاقصیٰ کو تقسیم کرکے اس کے اندر مفروضہ معبد تعمیر کیا جائے گا اور صیہونی اس کودرمیانی راہ حل کہہ رہے ہیں۔

ولایت پورٹل:فلسطینی نیوز ایجنسی سما کی رپورٹ کےمطابق صہیونی حکومت کے کچھ سیاسی اور مذہبی حلقوں میں اس منصوبے کے بارے میں گفتگو ہورہی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مسجد الاقصیٰ کو تقسیم کرکے اس کے اندر صیہونیوں کی  مفروضہ عبادت گاہ تعمیر کی جائے گی اور ان کی نظر میں یہ درمیانی راہ حل ہے جس میں مسجد الاقصیٰ کو شہید بھی نہیں کیا ہے اور قبۃ الصخراء بھی باقی رہے گا۔
اس منصوبے کے مطابق قبۃ الصخراء شمالی صحن میں مستطیل  شکل میں صہیونیوں کی مفروضہ عبادت گاہ تعمیر کی جائے گی جس کی وجہ سے  مسجد کا شمالی حصہ بالکل الگ ہوجائے گا۔
رپورٹ کے مطابق مذکورہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں مسجد اقصیٰ کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ کم ہو جائے گا جبکہ اور سابقہ مسجد اور قبۃ الصخراء میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔
یادرہے کہ کچھ مہینے پہلے صدی ڈیل کے منصوبے کے سلسلہ میں بھی  اسی طرح تشہیر کی جارہی تھی۔
واضح رہے کہ جب سے صیہونی فکر کا آغاز ہوا ہے تب سے ان کے ذہنوں میں مسجد الاقصی کو شہید کرنےکا منصوبہ پنپ رہا ہے جس کے بارے میں  صیہونزم کے بانی تھیوڈور ہرزل کا سوئٹزرلینڈ کے بال شہر ہونے والے پہلےاجلاس میں کہنا تھا کہ اگر  مجھے اس مسجد کو ڈھانے کا موقع مل جائے تو میں ایک منٹ کی بھی دیر نہیں لگاؤں گا اور اگر میں زندہ رہا تو ایسا کر کے رہوں گا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صیہونی ابھی تک اسی راہ پر گامزن ہیں۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम