Code : 2184 79 Hit

اسیری میں زینب(س) کی ذمہ داری

اگرچہ تاریخ کے دامن میں حضرت زینب(س) کی ابتدائی زندگی سے قیام امام حسین(ع) سے پہلے تک کے کچھ پراکندہ نقوش نظر آجاتے ہیں لیکن جیسے ہی آپ نے اپنے بھائی کے ہمراہ سفر کا آغاز کیا اس وقت سے لیکر دوبارہ مدینہ پہونچنے تک آپ کے دہان اقدس سے نکلے ہوئے کلمات اور جملات اور آپ کا ہر عمل تاریخ میں منظم اور دقیق طور پر نقش ہیں۔گویا تاریخ میں حضرت زینب(س) کا دقیق تعارف قیام امام حسین(ع) سے وابستہ ہے اور امام حسین(ع) کا قیام جناب زینب(س) سے زندہ ہے۔

ولایت پورٹل: یوں تو حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے بیت عصمت میں آنکھیں کھولیں،صدیقہ طاہرہ(س) کا دودھ پیا ،بابا علی مرتضٰی (ع) کی نوازشیں 35 برس سایہ فگن رہیں، امام حسن(ع) کے ساتھ کوفہ اور اس کے بعد مدینہ میں رہیں اور پھر امام حسین(ع) کی امامت کا مکمل دور درک کیا اور اس عرصہ میں آپ نے ہر وہ ذمہ داری نبھائی جس کا تقاضہ حالات نے کیا۔کہیں خواتین کو درس قرآن و تفسیر دیا تو کہیں اسلامی احکام سکھائے لیکن آپ کی زندگی کا سب سے باعظمت اور پُر جلالت دور وہ عرصہ ہے جس میں آپ نے اپنے بھائی امام حسین(ع) کے ہمراہ قافلہ عشق و شہادت کا حصہ بن کر شرکت فرمائی۔
اگرچہ تاریخ کے دامن میں حضرت زینب(س) کی ابتدائی زندگی سے قیام امام حسین(ع) سے پہلے تک کے کچھ پراکندہ نقوش نظر آجاتے ہیں لیکن جیسے ہی آپ نے اپنے بھائی کے ہمراہ سفر کا آغاز کیا اس وقت سے لیکر دوبارہ مدینہ پہونچنے تک آپ کے دہان اقدس سے نکلے ہوئے کلمات اور جملات اور آپ کا ہر عمل  تاریخ میں منظم اور دقیق طور پر نقش ہیں۔گویا تاریخ میں حضرت زینب(س) کا دقیق تعارف قیام امام حسین(ع) سے وابستہ ہے اور امام حسین(ع) کا قیام جناب زینب(س) سے زندہ ہے۔
جب سے تاریخ کربلا کو تحریر کیا جارہا ہے کوئی مورخ بھی حضرت زینب(س) کے نام کو نظر انداز کرکے انقلاب کربلا کی منظر کشی نہیں کرسکتا چونکہ علی(ع) کی شیر دل بیٹی پورے قیام کے دوران اپنے بھائی کے ساتھ ساتھ ہر منظر کی حصہ دار ہیں۔ چونکہ جناب زینب(س) یہ بات جانتی تھیں کہ حسین(ع) امام معصوم اور منصوص من اللہ ہیں اور معصوم کوئی بھی کام اپنے نفس کی تسکین اور اپنی انفرادی رغبت یا جذبات سے متأثر ہوکر انجام نہیں دیتا بلکہ معصوم کا ہر عمل ایک الہی ذمہ داری کی تکمیل اور آسمانی دستور ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس وقت سے امام حسین(ع) نے مدینہ سے مکہ کی طرف اپنے سفر کا آغاز کیا تھا اس عرصہ میں بہت سے لوگوں نے دلسوزی یا مصلحت کے تقاضوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپ کو اس سفر سے روکنا چاہا اور یہاں تک کہ خاندان کے کچھ بزرگوں نے بھی امام حسین(ع) کو مدینہ چھوڑنے سے منع کیا لیکن تاریخ میں ہمیں کہیں یہ نہیں ملتا کہ جناب زینب(س) نے ایک مرتبہ بھی اپنے بھائی سے یہ کہا ہو کہ بھائی آپ مت جائیے بلکہ اس کے برخلاف شہزادی ہمیشہ اپنے بھائی کی مطیع محض اور اپنے امام وقت کے فرمان کے سامنے تسلیم محض رہیں۔
حضرت زینب(س) کی زندگی کا  بغور مطالعہ کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ زینب(س) پہلے ہی سے اس قیام اور انقلاب حسینی کے بارے میں اپنے جد رسول اللہ(ص) بابا علی مرتضیٰ(ع) ماں فاطمہ زہرا(س) اور برادر ارجمند حسن مجتبیٰ(ع) سے سن چکی تھیں اور خود جناب امیر علیہ السلام نے بھی شہزادی کے عقد کے موقع پر عبد اللہ بن جعفر طیار سے یہ شرط رکھی تھی کہ جب حسین(ع) مدینہ چھوڑیں گے زینب(س) ان کی ہمراہی کریں گی لہذا اب وہ وقت آ پہونچا تھا کہ زینب(س) اس شرط سے استفادہ کرتے ہوئے امام وقت کی حمایت اور دفاع میں بھائی کے ہمراہ سفر کربلا پر نکل پڑیں۔
زینب(س) آغوش عصمت و وحی کی پروردہ تھیں اور یہ بات بخوبی جانتی تھیں کہ امام حسین(ع) حجت اور ولی خدا ہیں اور ان کا ساتھ دینا اور ان کی ہمراہی کرنا گویا اپنی ذمہ داری کو ادا کرنا اور سعادت تک پہونچنا ہے اسی وجہ سے حضرت زینب(س) نے اس مشقت بار سفر کے لئے اپنے کو ہر طرح سے آمادہ کررکھا تھا لہذا آپ نے ایک عظیم مقصد یعنی عزت و کرامت انسانی اور دین کے تحفظ کے لئے گھر کو چھوڑا۔ چونکہ حضرت زینب(س) نے اس ماں کے دامن میں آنکھیں کھولی تھیں جس کا نصب العین ہی ولایت کا تحفظ تھا یہی وجہ تھی کہ عمر آخری لمحات تک بھی شہزادی نے اپنے کبھی امام معصوم کا ساتھ نہ چھوڑا۔آپ اپنے بھائیوں کے ساتھ اس طرح رہیں کہ کبھی ماں کی کمی کا احساس نہ ہونے دیا اور امام حسین(ع) کے ساتھ اسی فاطمی کردار سے آگے بڑھیں جس کے ساتھ صدیقہ طاہرہ(س) علی کے حق کی بازیابی کے لئے مجمع میں خطاب کرنے گئیں تھیں آپ نے بھی اپنی والدہ ماجدہ کی سیرت کا احیاء کرتے ہوئے امامت و ولایت کے تحفظ میں ہر مصیبت کا سینہ سپر ہوکر مقابلہ کیا،اسیر ہوئیں،رسن باندھی گئی، دربار گئیں، اور پھر شام و کوفہ میں بھائی کے مقصد کو پہونچانے اور رسول اللہ(ص) کی محنت کو ثمر آور بنانے کے لئے لہجہ علی(ع) میں خطبات بھی ارشاد فرمائے۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम