Code : 4124 7 Hit

سعودی جیل میں یمنی قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے؛انسانی حقوق کی تنظیم کا انکشاف

انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے سعودی عرب کی جازان جیل میں یمنی قیدیوں پر منصوبہ بند طریقہ سےتشدد کا انکشاف کیا ہے۔

ولایت پورٹل:جنیوا میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سام نے سعودی عرب کی جازان جیل میں یمنی قیدیوں کے حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزی کی اطلاع دی ہے،تنظیم کےبیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عہدیداروں نے سعودی فضائیہ کی ایک ایسی  جیل میں سیکڑوں یمنیوں کو قید کیا ہواہے جس میں انتہائی ضروری معیارات کا بھی  فقدان ہے اور قیدیوں کو منظم تشدد اور ناجائز سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم  کا کہنا ہے کہ سعودی افسران  یمنی قیدیوں کو بجلی کی کیبلز کے ساتھ تشدد کا نشانہ بناتے ہیں نیز کچھ نظربند افراد کو ایک ماہ تک قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے اور انہیں بیرونی دنیا سے رابطہ کرنے یا دوسرے قیدیوں سے بات چیت کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے، سام تنظیم کے سربراہ توفیق الحمیدی نے کہا کہ حراست میں لیے جانے والے افراد میں کچھ وہ لوگ بھی شامل ہیں جو سعودی عرب کی جنوبی سرحد پر حوثیوں سے لڑ رہے تھے، ان کی تعداد 500 سے زیادہ ہے اور ان میں سےکچھ کو 28 عید الفطر پر چھٹی کی درخواست دینے کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے۔
دیگر قیدی وہ  یمنی ماہی گیر ہیں جنھیں یمنی کوسٹ گارڈ نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر حراست میں لے کر سعودی فورسز کے حوالے کردیا  تھا جن میں سے اب تک کم سے کم ایک ماہی گیر تو تشدد کے نتیجے میں جیل میں ہی دم توڑ چکا ہے۔
سعودی جیل سے رہا ہونے والے ایک شخص نے بتایا کہ  پہلے ہتھکڑی لگاکراور آنکھوں پر پٹی باندھ کر کسی نامعلوم مقام پر لے جایا جاتا ہے، اس کے بعد ایک مہینے کے لئے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے جو ایک میٹر یا اس سے کم  کی کوٹھری ہوتی ہے، اس کے بعد تفتیش کے لیے جاتے ہیں اور برقی کیبل سے اتنا تشدد کرتے ہیں کہ انسان موت کی تمنا کرتا ہے۔۔



0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین