Code : 3635 33 Hit

قرآن و احادیث کی روشنی میں کام اور کوشش کرنے کی اہمیت

اگر کوئی کام اللہ کی رضا کا حامل ہو تو اس کے لئے کوشش اور محنت کرنا ایک محبوب امر ہے اور اگر اس میں رضائے خداوندی کا پہلو نہ ہو تو ایسے کام میں کوئی خیر نہیں ہوتی۔چنانچہ ہمیشہ یہ اہم نکتہ ہمارے مد نظر رہے کہ محنت، لگن اور ایمانداری سے کام کرنا اپنی انفرادی اور خانوادگی زندگی کے لئے ایک مطلوب امر ہے لیکن اگر کام کرنے سے انسان کا مقصد صرف پیشہ کمانا ہو تو یقیناً وہ زندگی کے دیگر بلند مقاصد سے دور رہ جائے گا۔ چونکہ کامیاب انسان وہی ہے کہ جو زندگی کے تمام پہلوؤں کو ایک ساتھ مد نظر رکھے اور اس کی پوری زندگی میں ایک اعتدال اور بیلنس حاکم ہو۔

ولایت پورٹل: کسی بھی اسلامی معاشرے کی ترقی اور دشمن کی سازشوں کا ناکام بنانے کا صرف راستہ یہ ہے کہ وہ اپنے جوانوں کی استعداد کو بروئے کار لاتے ہوئے ان سے استفادہ کرے اور ان کے کام کرنے کے لئے میدان ہموار کرے۔ اس درمیان حکومت کی ذمہ داری بھی یہ ہے کہ وہ ہر چیز سے زیادہ اپنی جوان نفری طاقت پر اعتماد کرے اور انہیں نا امیدی اور سستی سے باہر نکالے اور محنت اور لگن سے کام کرنے کی ترغیب دلائے۔
جبکہ آج ہمارا دشمن ہر محاذ پر ہمیں شکست دینے کی کوشش کررہا ہے اور ہمارے جوانوں کو گمراہ کرنے میں لگا ہوا ہے تو اسلامی معاشرے کے ذمہ داروں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے جوانوں پر خصوصی توجہ دیں اور ان کے لئے کام کرنے کے نئے نئے اور کار آمد مواقع تلاش کریں۔
چونکہ ہم سب کو معلوم ہے کہ جوانوں کے اندر زیادہ حوصلہ ،جذبہ اور کام کرنے کا اشتیاق ہوتا ہے اور اگر انہیں صحیح راستہ نہ دکھلایا جائے اور ان کا مقصد معین و مشخص نہ ہو تو دشمن انہیں اپنے جھانسے میں پھنسا سکتا ہے اور اکثر اوقات شیطان بھی انہیں ورغلاتا ہے انہیں زندگی سے نا امید بناتا ہے اور انہیں طرح طرح کی بری عادتوں میں ڈال دیتا ہے ان سے برے کام کرواتا ہے اور جب اس جوان کے سامنے کام کرنے کے مواقع ہونگے تو وہ اپنی ساری انرجی اور طاقت کو ان کاموں میں خرچ کریں گے فضول بیٹھکوں اور عبث گھومنے پھرنے سے پرہیز کریں گے۔
اگر ہم معاشرے و سماج میں پھر سے اپنی عزت رفتہ کو حاصل کرنے کے خواہاں  ہیں اور پھر سے اپنی عظمت کو منوانا چاہتے ہیں تو صرف بیٹھکوں اور گھومنے پھرنے یا موبائل چلانے اور ٹی وی پر میچز دیکھنے سے ہم ترقی نہیں کرسکتے بلکہ ہمیں جاگنا ہوگا ہمیں کام کرنا ہوگا ، ہمیں اپنی تقدیر کو خود لکھنا ہوگا تبھی ہمارے معاشرے میں خوشحالی آسکتی ہے تبھی ہم کچھ آگے بڑھ سکتے ہیں اور اس کا راز صرف محنت اور محنت اور محنت ہے۔ قرآن مجید بہت پہلے یہ اصول بیان کرچکا ہے:’’وَ أَنْ لَیْسَ لِلإِنْسانِ إِلاّ ما سَعی وَ أَنَّ سَعْیَهُ سَوْفَ یُری‘‘۔(۱) انسان کے لئے کچھ نہیں ہے مگر اس کی وہ کوشش جو اس نے کی ہے اور یقیناً وہ اپنی کوشش کا ثمر بہت جلد دیکھے گا۔
انسان کو ہمیشہ ایسا طریقہ اختیار کرنا چاہیئے تاکہ اسے کی سستی اور کاہلی سے نجات ملے چونکہ سستی ایک آفت ہے جس کے بہت سے انفرادی و اجتماعی نقصانات ہوتے ہیں چنانچہ اگر کام، اور کوشش کرنے کے متعلق قرآن و احادیث معصومین(ع) کا رخ کریں تو ہمیں بہت سے رہنما اصول مل سکتے ہیں جن پر عمل پیرا ہوکر ہم اپنی زندگی کو بارونق بنا سکتے ایک باوقار زندگی گذار سکتے ہیں اور معاشرے میں آبرومندانہ شخصیت کے طور پر اپنے کو پیش کرسکتے ہیں تو آئیے ان میں سے کچھ اصول کے سلسلہ سے بات کرتے ہیں:
۱۔ ثبات قدمی اور پائداری کا مظاہرہ کرنا
اگر آپ کے ذہن میں کام کرنے کا کوئی اچھا آئیڈیا موجود ہے کہ جس کے نفاذ سے ایک نیا کام  اور مشغلہ وجود میں آسکتا ہے تو آپ اس کو بے دریغ شروع کیجئے۔ ہر کام میں کچھ مشکلات ضرور ہوتی ہیں لیکن آپ مشکلات سے مت گھبرائیے اور آپ کبھی مشکلات کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیجئے۔ اگر آپ نے استقامت کا مظاہرہ کیا آپ کبھی تھکن محسوس نہیں کریں گے اور ایک دن آپ کو اپنا مقصود ضرور حاصل ہوجائے گا  چنانچہ امام علی(ع) کا ارشاد ہے:’’کام کرو اور اسے انجام تک پہونچاؤ اور اس میں ثبات قدمی کا مظاہرہ کرو جب تم اس میں ایمانداری کے ساتھ صبر کا مظاہریں کروگے تمہیں اپنا مقصد ضرور حاصل ہوگا۔(۲)
۲۔کام کے متعلقہ امور پر مسلسل فکر کرنا
آپ کبھی بھی اپنے کام کو اہمیت نہ دیکر اور وقت کو برباد کرکے اپنے مقصد تک نہیں پہونچ سکتے بلکہ آپ اپنے کام کے متعلقہ امور پر مسلسل فکر کرتے رہیں اور اس کی کمی کاستی اور نقص پر غور کریں اور انہیں دور کرنے کی کوشش کریں ۔آپ کسی بھی کام کو شروع کرنے سے پہلے کئی بار اس پر سوچیں اور فکر کریں اور سب سے بہتر کا انتخاب کریں تاکہ اپنے مقصد تک پہونچ سکیں۔امام علی(ع) کا ارشاد ہے:’’ہمیشہ اپنے کام کے متعلق سوچتے رہو چونکہ اللہ تعالیٰ نے مؤمن کے کاموں کے لئے موت کے علاوہ کسی دوسری رکاوٹ کو نہیں رکھا ہے۔(۳)
۳۔اپنے اندر خوف کو جگہ نہ دیں
جب آپ کوئی بھی کام شروع کرنا چاہتے ہیں تو تمام منفی افکار آپ کے ذہن میں گھر کرنا شروع کردیتے ہیں جس سے کبھی کبھی آپ کے دل میں خوف پیدا ہوسکتا ہے لیکن آپ اللہ پر توکل کیجئے اور دقیق پروگرامنگ کرکے اس پرجیکٹ پر کئی گنا محنت کرکے اس کاذب خوف سے نجات پاسکتے ہیں چونکہ اگر آپ ڈر گئے تو آپ اپنے مقصد سے پیچھے رہ جائیں گے۔ آپ بالکل نہ گھبرائیں اور جتنی محنت کرسکتے ہیں کیجئے امام علی(ع) فرماتے ہیں:’’جب تم کسی کام سے ڈرو تو اپنے کو اس میں مکمل طور پر داخل کرلو چونکہ ڈرنے کا نقصان خود اس کام سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔(۴)
۴۔ کبھی کام کے تئیں سستی نہ کریں
اگر آپ اس ذمہ داری کے تئیں سستی برتیں گے جو آپ کو دی گئی ہے تو ایک دن آپ کو ضرور پشیمانی ہوگی یہی وجہ ہے کہ آپ جب بھی جس کام کو شروع کریں اسے بہت دقیق طور پر انجام دیں تاکہ آپ کو خوشی محسوس ہو اور آخر کار آپ اس کے نتائج سے بہرمند ہوسکیں۔ چنانچہ امام علی(ع) فرماتے ہیں:’’جو بھی کام میں کوتاہی کرے گا وہ پشیمانی میں مبتلا ہوگا‘‘۔(۵)
بہر کیف! اگر کوئی کام اللہ کی رضا کا حامل ہو تو اس کے لئے کوشش اور محنت کرنا ایک محبوب امر ہے اور اگر اس میں رضائے خداوندی کا پہلو نہ ہو تو ایسے کام میں کوئی خیر نہیں ہوتی۔چنانچہ ہمیشہ یہ اہم نکتہ ہمارے مد نظر رہے کہ محنت، لگن اور ایمانداری سے کام کرنا اپنی انفرادی اور خانوادگی زندگی کے لئے ایک مطلوب امر ہے لیکن اگر کام کرنے سے  انسان کا مقصد صرف پیشہ کمانا ہو تو یقیناً وہ زندگی کے دیگر بلند مقاصد سے دور رہ جائے گا۔ چونکہ کامیاب انسان وہی ہے کہ جو زندگی کے تمام پہلوؤں کو ایک ساتھ مد نظر رکھے اور اس کی پوری زندگی میں ایک اعتدال اور بیلنس حاکم ہو۔
آخری بات: آپ کس کام کا آغاز کرتے اس کا انتخاب کرنا خود آپ پر موقوف ہے۔ لہذا ہمیشہ کوشش کریں کہ کسی بھی کام کو کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچ لیں کہ کیا یہ کام اچھا ہے یا نہیں! کیا اس کام کے کرنے سے لوگ آپ کو اچھائی کے ساتھ یاد کریں گے یا نہیں؟! چنانچنہ امام علی(ع) کا فرمان ہے: اچھا مشغلہ اور کام، آپ کے لئے ایک ذخیرہ اور ہمیشہ رہنے والا پاکیزہ و خوشگوار ثمرہ ہوتا ہے۔(۶)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔قرآن کریم ،سوره مبارکه نجم،آیه 39،40۔
۲۔محمدبن‌حسین شریف‌الرضی، مترجم: محمد دشتی، نهج البلاغه، قم: انتشارات الهادی، خطبه 176۔
۳۔مستدرک الوسائل، جلد 1، صفحه 130، ح 177۔
۴۔عبدالواحدبن‌محمد تمیمی‌آمدی، غررالحکم 8955۔
۴۔نهج‌البلاغه، حکمت 127۔
۵۔غررالحکم: 6545۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین