ایک سال کے اندر صیہونی درندوں کے ہاتھوں 78 فلسطینی بچے شہید

فلسطینی بچوں کے عالمی دن کے موقع پر قابض صیہونی حکومت کے ہاتھوں اسیر یا شہید ہونے والے فلسطینی بچوں کے نئے اعدادوشمار شائع کیے گئے ہیں۔

ولایت پورٹل:فلسطینی یوم اطفال کے موقع پر جو کہ ہر سال 5 اپریل کو منایا جاتا ہے، فلسطینی قیدیوں کی نگراں تنظیم نے آج اپنی ایک رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ صیہونی حکومت نے سنہ 2015 سے لے کر اب تک 9000 سے زائد اور ستمبر میں 2000 ہونے والے دوسرے انتفاضہ کے بعد سے 19000 سے زیادہ فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا ہے جن میں سے کچھ بچوں کی عمریں 10 سال سے کم بتائی جاتی ہیں۔
فلسطینی قیدیوں کی  نگراں تنظیم کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ فروری 2022 کے آخر تک صیہونی حکومت کی مقبوضہ جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کی تعداد تقریباً 4400 تک پہنچ گئی ہے جن میں 160 بچے ہیں کیونکہ یہ لوگ ابھی تک حراست میں ہیں، یاد رہے کہ  گرفتاری کے دوران ان بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے علاوہ انہیں اپنی تعلیم جاری رکھنے سمیت اپنے بچپن سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔
فلسطینی قیدیوں کی نگراں تنظیم نے کہا کہ کم سن بچوں کی شہادتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر کو صہیونی تفتیش کاروں نے کسی نہ کسی شکل میں جسمانی یا نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا جو بین الاقوامی قوانین، معاہدوں اور بچوں کے حقوق سے متعلق کنونشنز کی صریح خلاف ورزی ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین